یہ موسم فروری کا پھر سے کتنے رنگ لایا ہے

یہ موسم فروری کا پھر سے کتنے رنگ لایا ہے
یہ لیپ کا سال ہے، لیپ کا سال کسے کہتے ہیں، پوچھا تو جواب ملا جس سال فروری کے مہینے کے دن 28کی بجائے 29ہوں وہ لیپ کا سال کہلاتا ہے، فروری کے مہینے کے دن 28کی بجائے 29 کب ہوتے ہیں ہم نے سوال داغا، جواب ملا کہ جب لیپ کا سال آتا ہے، لیپ کا سال کب آتا ہے ہم نے جاننا چاہا، جب فروری کے دن 28کی بجائے 29ہوتے ہیں، بڑی کوفت ہوئی ان کا یہ جواب سن کر ‘ارے صاحب سوئی اٹک گئی ہے کیا آپ کی، کھلواڑ کر رہے ہیں آپ مجھ سے’ میں نے کڑھ کر کہا، کیسا کھلواڑ؟ وہ مجھ جیسے لہجے میں نہلے پر دہلا مارتے ہوئے بولا، میں پوچھ رہا ہوں لیپ کا سال کب آتا ہے اور تم جواب میں کہہ رہے ہو جب فروری کے مہینے کے دن 28کی بجائے، 29ہوتے ہیں اور جب میں پوچھتا ہوں کہ فروری کے دن 28کی بجائے29 کب ہوتے ہیں تو تم کہتے ہو جب لیپ کا سال آتا ہے، یہ کھلواڑ نہیں تو اور کیا ہے، وہی بات ہوئی نا کہ جب ہم نے بھولے باچھا کو کہا تھا کہ سڑک پر کیا ڈھونڈ رہے ہو، جس کے جواب میں اس نے کہا تھا جو کھو گیا تھا، ہم نے پوچھا تھا کہ کیا کھو گیا تھا، جس کے جواب میں اس نے کہا تھا ”جو ڈھونڈ رہا ہوں” حد ہوگئی، میری جگہ کوئی اور ہوتا تو ایک چپت لگاتا اس کے سر پر اور یوں اس کا دماغ ٹھکانے آجاتا، تو گویا آپ مجھے چپت لگائیں گے، اس نے میری بات کا برا مناتے ہوئے مجھے گھور کر دیکھتے ہوئے کہا، اس سے پہلے کہ وہ میرے گریبان کو پکڑ لیتا میں اس کا غصہ ٹھنڈا کرتے ہوئے گنگنانے کے سے انداز میں گویا ہوا۔ نہیں بھائی، مجھے کیا پڑی ہے جو میں کسی کیساتھ گھونسہ مکہ لڑاؤں، بس یہی جاننا چاہا تھا کہ یہ لیپ کا سال کیا ہوتا ہے، جو میں جانتا تھا سو میں نے آپ کو بتا دیا، اگر اس سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں تو جائیں کسی کتب خانے اور بیٹھ جائیں کتابوں کو کنگھالنے، ارے کس زمانے کی بات کر رہے ہیں وہ زمانے لدھ گئے جب خالو خلیل فاختائیں اُڑایا کرتے تھے اور لوگ کچھ جاننے یا سمجھنے کیلئے کتب خانوں کا رخ کرکے کتابیں کنگالا کرتے تھے، میں نے اسے ترکی بہ ترکی جواب دیا،
یہ موسم فروری کا پھر سے کتنے رنگ لایا ہے
چمکتی دھوپ میں ٹھنڈی ہوائیں رقص کرتی ہیں
یہ شعر گنگناتے ہوئے جیب سے موبائل نکال کر، لیپ کے معنی اور لیپ کے سال کا مطلب، کہ عہدحاضر میں لائبریری یا کتب خانہ جانے کی بجائے ہر کس وناکس اپنی جیب میں لئے پھرتا ہے دنیا جہاں کی کتابوں کا ذخیرہ، لیپ انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے جست لگانا یا چھلانگ مارنا، فروری کے مہینے میں ہم گزرتے وقت کے قدم کیساتھ قدم ملا کر چلتے رہنے کیلئے ایک دن فاصلے کی چھلانگ لگاتے ہیں کہ یہ چار سالوں کے دوران ہم سے ایک دن کے فاصلے کے برابر آگے بڑھ جاتا ہے، اس طرح ہم ہر چوتھے سال فروری کے فروری کے مہینے کو 28دن کی بجائے 29دن کا کر دیتے ہیں اور یوں جب ہر چار سالوں بعد لیپ کا سال آتا ہے تو اس برس، سال کے دن 365کی بجائے فروری کے مہینے میں ایک دن کے اضافہ کی وجہ سے 366ہو جاتے ہیں، یعنی اگر سال رواں 2020ء لیپ کا سال ہے تو اس کے دنوں کی تعداد فروری کے 28دنوں کی بجائے 29دن ہونے کے سبب 366ہوں گے ۔ صدیوں پر محیط عرصہ میں کون کونسا سال لیپ کا تھا، اس بات کو جاننے کیلئے ماہرین نے نہایت ہی آسان سا فامولا بتاتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ ہر وہ سال جس کا عدد4 کے ہندسے پر پورا پورا تقسیم ہوجائے تو وہ سال لیپ کا سال کہلائے گا، اس فارمولے کی روشنی میں ہم 21ویں صدی کے رواں سال یعنی 2020ء کو اگر4 کے عدد پر تقسیم کریں تو جواب جو بھی آئے باقی صفر بچے گا، جس کا مطلب ہے کہ سال 2020 کا عدد 4کے ہندسے پر پورا پورا تقسیم ہوگیا، سو سال 2020 لیپ کا سال ہوا اور اگر یہ لیپ کا سال ہوا تو اس کے دنوں کی تعداد 28کی بجائے 29 ہے، اگر اس تناظر میں آنے والے برس 2021، 2022 اور 2023 چونکہ 4کے عدد پر پورے پورے تقسیم نہیں ہوتے اس لئے یہ لیپ کے سال نہیں ہوں گے جبکہ سال 2024ء چار کے ہندسے پر پورا پورا تقسیم ہونے کے سبب لیپ کا سال ہوگا اور اس کے دنوں کی تعداد 29ہوگی، اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے حساب اور وقت کی رفتار میں یہ چار سال بعد ایک دن کا فرق کیوں آتا ہے جس کا جواب یہ ہے کہ زمیں کا یہ گولا اپنے مدار پر رہ کر سورج کے گرد اپنی گردش کا ایک سال 365دن پانچ گھنٹے49منٹ اور 12سیکنڈ میں پورا کرتا ہے جبکہ ہم ہر سال ان اضافی گھنٹوں کو نظرانداز کردیتے ہیں اور ہمیں وقت کو نظرانداز کر دینے کا یہ قرضہ ہر چوتھے سال پورا کرنا پڑتا ہے اور یوں جب لیپ کا سال آتا ہے تو ہم اپنے ہاتھ سے نکلتے وقت کیساتھ چلنے کی غرض سے ایک دن کا فاصلہ پھدک کر طے کرنے کی غرض سے فروری کے مہینے کو 29دن کا بنا دیتے ہیں،
رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
ہم کو چلنا ہے وقت کی رفتار کے ساتھ