ترکی میں بغاوت کے الزام میں 101 فوجی افسران کی گرفتاری کا وارنٹ جاری

انقرہ ۔ ترکی میں 2016 کی ناکام بغاوت کے الزام میں مزید 695 افراد کو حراست میں لینے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ جس میں 101 حاضر سروس فوجی افسران بھی شامل ہیں۔خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ نے ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حکومت نے 157 فوجی افسران کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں، جن میں 101 اب بھی مسلح افواج کا حصہ ہیں۔حکام کے مطابق فوجی افسران کو 2016 میں ترکی میں ہونے والی ناکام بغاوت کے الزام میں گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ترک حکومت نے محکمہ انصاف کے بھی 71 اہلکاروں کو حراست میں لینے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ 467 افراد کو 2009 میں پولیس ترقیوں کے لیے ہونے والے امتحانات میں دھوکہ دہی پر حراست میں لیا جائے گا۔ترکی میں 15 جولائی 2016 کو فوج کے ایک گروپ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردغان کی حکومت کا تختہ اْلٹنے کی کوشش کی تھی۔اس دوران ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد ہلاک اور دو ہزار کے لگ بھگ زخمی ہوئے تھے۔ترکی کی حکومت نے اس فوجی بغاوت کو بیرونِ ملک مقیم مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کی سازش قرار دیا تھا۔فوجی بغاوت کی کوشش کے بعد ترکی میں بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کیا تھا۔ جس میں اب تک 77 ہزار افراد کو گرفتار اور ایک لاکھ 30 ہزار کو ملازمتوں سے برخاست کیا جا چکا ہے۔ملازمتوں سے برخاست ہونے والوں میں فوجی افسران، بیورو کریسی اور دیگر اہم سرکاری محکموں کے افسران بھی شامل ہیں۔البتہ، فتح اللہ گولن جنہوں نے 1999 سے امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر رکھی ہے۔ وہ فوجی بغاوت میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ناقدین ترک حکومت پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ اس ناکام فوجی بغاوت کو سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ البتہ ترک حکومت کا یہ مو?قف رہا ہے کہ وہ ملک کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو حکومتی نظام سے نکال باہر کرنا چاہتی ہے۔صدر اردغان بھی مختلف مواقع پر بغاوت کرنے والوں کو سخت پیغام دینے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ترکی کی حکومت امریکہ سے یہ مطالبہ کر چکی ہے کہ فتح اللہ گولن کو اْس کے حوالے کیا جائے، لیکن امریکہ اس مطالبے کو رد کرتا رہا ہے۔