جنوبی ایشیا کی کشیدگی اور اہم دورے

جنوبی ایشیا کے دو بڑے ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور ایسے میں کئی اہم اور معنی خیز دورے ہو رہے ہیں۔ ترک صدر طیب اردگان کا دورہ اپنے اندر گہری معنویت کا حامل ہے۔ طیب اردگان وطن واپس روانہ ہو رہے تھے تو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوئٹرس پاکستان میں اُتر رہے تھے۔ ترک صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے دوروں میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات اور کشمیر کسی نہ کسی انداز سے زیربحث آیا۔ خطے کا تیسرا اہم دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھارت آمد ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ 24،25 کو بھارت کا دورہ کررہے ہیں۔ وہ دہلی کے علاوہ مودی کی آبائی ریاست گجرات کا دورہ کریں گے۔ ٹرمپ کے دورے کے دوران بہت سے دوطرفہ تجارتی اور دفاعی معاہدات پر دستخط کریں گے، نئے معاہدات نہ بھی ہوں بھارت اس وقت امریکہ کیساتھ ”سٹریٹجک پارٹنرشپ” کے قریب ترین حلیف اور دوست کے درجے پر فائز ہے اور یہ درجہ اس سے پہلے صرف اسرائیل کو حاصل تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ دورہ جنوبی ایشیا کی سیاست کے حوالے سے بھی خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ جنوبی ایشیا کے دو اہم ترین ملک بھارت اور پاکستان باقاعدہ جنگ کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔ دونوں کے درمیان کشیدگی اور کشمکش تو مدتوں سے چلی آرہی ہے مگر پانچ اگست کو کشمیر کی خصوصی شناخت کے خاتمے کے بعد اس کشیدگی نے نیا اور خوفناک رخ اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بچے کھچے سفارتی اور تجارتی روابط مزید سکڑ کر رہ گئے ہیں۔ کنٹرول لائن پوری طرح گرم ہے اور گرم وخونیں لکیر پر آئے روز فوجی تصادم ہو رہے ہیں۔ کشمیر پر دونوں ملکوں کے درمیان جمود جاری ہے۔ بھارت کشمیر میں اپنے غیرمقبول اور غیرقانونی اقدامات کو بین الاقوامی دنیا سے جوازیت دلوانا چاہتا ہے۔ اسی لئے وہ امریکہ سے یورپ تک ہر منظر کو بدل کر اپنے حق میں کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ پاکستان نے پانچ اگست کے بعد تحمل اور برداشت سے حالات کا سامنا کیا۔ پانچ اگست کا قدم بین الاقوامی قوانین کیساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدات کی نفی بھی تھا۔ پاکستان عالمی طاقتوں سے یہ اُمید لگائے ہوئے ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال اور بھارت کے فیصلوں کو ریورس کرانے میں کوئی بامعنی کردار ادا کریں گے اسی لئے وزیراعظم عمران خان کئی بار ڈونلڈ ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کرچکے ہیں اور ٹرمپ بھی ثالثی کی پیشکش کو قبول کرچکے ہیں مگر دوسرا فریق ثالثی اور سہولت کاری کے نام پر کسی تیسرے فریق کو اس معاملے میں دخیل کرنے کا قطعی مخالف ہے اور بھارت بار بار ٹرمپ کی ثالثی کی پیشکش کو مسترد کر چکا ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ کی انا زخمی ہوتی ہے اور نہ ان کی زبان پر حرفِ شکایت آتا ہے۔ ثالثی سے انکار اگرچہ گالی نہیں مگر یہ امریکہ کے عالمی کردارکو تسلیم نہ کرنے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ انکار اگر پاکستان کی طرف سے ہو تو امریکہ کا غصہ دیکھنے کے قابل ہوتا مگر بھارت کی طرف سے یہ عمل امریکہ کیلئے معمول کی کارروائی ہے۔ اب ڈونلڈ ٹرمپ دورۂ بھارت کے درمیان کیا رویہ اپناتے ہیں؟ جنوبی ایشیا کے مستقبل کا انحصار اس بات پر بھی ہے۔ ٹرمپ نے دو دن نریندر مودی کی خوشامد اور میزبانی کے چٹخارے لینے میں گزار دیئے تو سمجھ جانا چاہئے کہ جنوبی ایشیا کا مستقبل بدستور کشیدگی کی صلیب پر لٹکتا رہے گا۔ اس کے برعکس ٹرمپ نے پاک بھارت کشیدگی کی بنیاد بننے والے مسئلہ کشمیر پر بات کی اور بھارت پر اس حوالے سے آگے بڑھنے پر دباؤ ڈالا تو یہ خطے کے مستقبل کیلئے اچھا شگون ہوگا۔ طیب اردگان کی اسی قسم کی بات پر بھارت نے ناک بھوں چڑھائی تھی اور ترکی کو بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ بھارت انگلی کے پیچھے سورج کو چھپانے کی کوشش کب تک کرتا رہے گا۔ امریکی سینیٹر لنڈے گراہم کے ایک سوال کے جواب میں بھی بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے تیوری چڑھا لی تھی اور دونوں ملک مل جل کر مسئلے کو حل کریں کی بات کے جواب میں پررعونت انداز میں کہا تھا کہ آپ فکر نہ کریں ایک ہی جمہوریت بھارت اس مسئلے کو حل کر لے گا۔ بھارت بہتر سال سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں کر کے دیکھ چکا ہے مگر ناکامی اس کا مقدر ہے، آج بھی کشمیر کے گلی کوچوں میں نو لاکھ فوج کا حالت جنگ میں نظر آنا ناکامی کے سوا کچھ نہیں۔ بھارت کا یہی تکبر اسے اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے اور اس کی سخت گیری تباہی پر منتج ہو رہی ہے۔ آج کشمیر میں آزادی کے نعروں کو دباتے دباتے بھارت خود اپنے وجود کے اندر کئی کشمیر پیدا کر چکا ہے اور بھارت کے شہروں میں آزادی کے نعرے بلند ہونے لگے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، طیب اردگان اور امریکی سینیٹر سب کو جھٹلانا بھارت کے تکبر کی علامت اور اظہار ہے۔ بھارت کو اپنے اس روئیے کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑے گا۔ کوئی بھارتیوں سے پوچھے کہ کشمیر ان کا اندرونی مسئلہ کب سے بنا؟۔ اگر یہ اندرونی مسئلہ تھا تو بھارت کے پہلے وزیراعظم پنڈت نہرو اقوام متحدہ میں منت سماجت کرنے کیوں گئے تھے۔ اس کے بعد اقوام متحدہ میں ہونے والی تمام کارروائی کا حصہ کیوں بنا رہا؟ دور کیوں جائیں جنرل مشرف کے دور میں بھارت نے کنٹرول لائن پر ویزے پاسپورٹ کے بغیرکشمیری عوام کو سفر کی اجازت کیوں دی اور اس دوران ٹریک ٹو مذاکرات کیوں ہوتے رہے؟ بھارت کے حکمرانوں کے پاس ان سوالوں کا جواب طاقت کے سوا اور کچھ نہیں لیکن طاقت ایک بڑی حقیقت تو ہے مگر سب کچھ نہیں۔