خیبرپختونخوا اسمبلی میں کشیدگی

خیبرپختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کے ریکوزیشن پر اجلاس طلب نہ کرنے اور گورنر کے فرمان پر اجلاس طلبی کی شکایات اور سپیکر پر جانبداری کا الزام لگا کر شدید ہنگامہ آرائی اور سپیکر کا گھیرائو خیبرپختونخوا اسمبلی کی روایات کے برعکس صورتحال ہے جس میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین برابر کے ذمہ دار ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شکایات اس قدر سنگین نہیں تھے کہ جس کی بنیاد پر اسمبلی کا اجلاس ہی ہنگامے کی نذر کیا جاتا یا جذباتی انداز اختیار کر کے اسمبلی کی کارروائی چلنے نہ دیا جاتا۔ حزب اختلاف کے ارکان سپیکر کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار مناسب الفاظ میں کرسکتے تھے جن کو سننا اور ان تحفظات کو دور کرنا سپیکر کی ذمہ داری تھی۔ یہ تو واضح نہیں کہ حزب اختلاف نے کیا غیرپارلیمانی الفاظ استعمال کئے جس کی بناء پر حزب اختلاف کیخلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا ہے ساتھ ہی درجواب آںغزل کے طور پر حزب اختلاف کے قائد نے وزیراعلیٰ ہائوس کے گھیراؤ کی دھمکی دیدی ہے جس سے سوائے کشیدگی میں اضافہ کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ایوان کی کارروائی کو احسن طریقے سے چلانا حکومت کی ذمہ داری ہے اسلئے حکومت کو ہی اس امر کی سعی کرنے کی ضرورت ہے کہ ایوان کا ماحول متاثر نہ ہو جن اراکین کی جانب سے غیرپارلیمانی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان کو اسمبلی اجلاس میں معذرت کا موقع دیا جائے تو یہ بہتر صورت ہوگی، ان کیخلاف کارروائی سے اشتعال بڑھے گا جس سے گریز کرنا ہی بہتر ہوگا۔ حزب اختلاف کے قائد بھی گھیرائو کی دھمکی کو آگے نہ بڑھائیں تو زیادہ مناسب ہوگا، جہاں تک وزراء اور حکومتی اراکین کی اجلاس میں عدم حاضری اور عدم دلچسپی کا سوال ہے اس پر خود سپیکر کا اظہار برہمی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اس حوالے سے حزب اختلاف کا سخت رویہ اور احتجاج منفی طرز عمل نہیں۔ حکومت اگر اسمبلی اجلاس میں وزراء اور اپنے ہی اراکین کی موجودگی اور کارروائی کو احسن انداز سے آگے بڑھانے میں ناکام ہوگی تو اس پر حزب اختلاف احتجاج نہ بھی کرے تو یہ بھی حکومت کی جانب سے قانون سازی اور عوامی مسائل کے حل میں عدم دلچسپی میں شمار ہوگا۔جب حکومتی اراکین اور وزراء ہی حزب اختلاف کو کھل کر کھیلنے کا میدان فراہم کریں تو سرے سے اسمبلی کی وقعت ہی کیا رہ جاتی ہے۔قبل اس کے کہ حزب اختلاف کو مطعون کیا جائے حکومتی بنچ خود اپنے ہی کرداروعمل کا محاسبہ کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر توجہ دے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
کوئٹہ دھماکہ
بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں قیام امن کی کوششوں کو آئے روز جو دھچکہ لگتا ہے اس کے باعث اب یہ تاثر پھیل گیا ہے کہ کوئٹہ میں ایک دھماکے سے دوسرے دھماکے کے درمیانی وقفے کو امن کہا جاتا ہے۔ یہ وقفہ زیادہ طویل نہیں ہوتا مہینہ بھر اور کبھی کبھار ہفتہ عشرہ ہی میں بلوچستان میں کوئی بڑا واقعہ رونما ہوتا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے پاکستان میں قیام امن کی تعریف اور اسلام آباد موجود گی کے موقع پر امن دشمنوں کی یہ تازہ کارروائی پاکستان کے غیرمحفوظ ملک ہونے کا تاثر دینے کیلئے ہونا بعید از امکان نہیں۔ اس واقعے کے دوہرے اثرات کے ذریعے اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھی گنجائش نظر آتی ہے جس کا مقصد فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانا اور معاشرے کے دوطبقات کو صنف آراء کرنے کی مذموم کوشش ہو۔ اس واقعے کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے کیلئے پولیس کی کاوشیں اطمینان کا باعث اس حد تک ضرور ہیں کہ حملہ آور سیکورٹی کو جل دے کر ہجوم تک نہ پہنچ سکا لیکن حملہ آور کی تیاری اورہجوم تک پہنچنے کے قریب ہونے کا موقع ملنا حساس اداروں اور پولیس کی ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس سے اس امر کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ بلوچستان اور بالخصوص کوئٹہ میں سیکورٹی کی صورتحال تسلی بخش نہیں، بار بار پیش آنے والے حالات سے اس امر پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ سیکورٹی کی حکمت عملی میں تبدیلی لائی جائے، مشکوک عناصر کی پوری طرح نگرانی رکھی جائے اور معاشرے کے افراد کے درمیان باہم روابط کو فروغ دینے کیساتھ ساتھ سرکاری اداروں پر ان کا اعتماد بڑھایا جائے تاکہ وہ بلاخطر مشکوک عناصر کی نشاندہی اطمینان سے کر سکیں۔اس واقعے کے بعد کوئٹہ کے دونوں طبقات کے عمائدین کو صورتحال کو فرقہ وارانہ رنگ دینے اور جذبات اُبھارنے والوں سے خود بھی ہوشیار اور دوسروں کو بھی کسی سازش کا شکار نہ ہونے کی تلقین کرنی چاہئے۔اس دھماکے سے جو تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے اس کی نفی ہی سے ان عناصر کے حربے ناکام ہوں گے جو اس واقعے کے ذمہ دار ہیں۔
شہر کے پھیلائو سے بڑھتے مسائل
صوبائی دارالحکومت پشاور کی شہری آبادی میں آئندہ بیس برس کے دوران انیس لاکھ نفوس کا اضافہ اور شہری علاقے کے ایک سو چونتیس مربع کلومیٹر ہونے کا جو اندازہ لگایا ہے ممکن ہے اس اندازے سے زیادہ آبادی میں اضافہ نہ ہو لیکن شہر کے پھیلائو اس اندازے سے زیادہ ہونے کا امکان نظر آتا ہے۔ جن جن علاقوں کے شہری علاقوں میں تبدیل ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے اردگرد کے ان علاقوں کے علاوہ بھی ایسے علاقے موجود ہیں جس طرف آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس وقت بھی پشاور کے مضافات بڑے قصبات بن چکے ہیں اور شہرائو کا عمل اس بے ہنگم اور بغیر منصوبہ بندی سے جاری ہے کہ زرعی اراضی اور باغات بھی محفوظ نہیں۔ اس قسم کی صورتحال سے ابھی سے بڑے اور گنجان شہروں جیسے مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ شہر میں نکاسی وصفائی کے مسائل ہسپتال وتعلیمی اداروں میں ضرورت سے زیادہ رش، شہری سہولیات کا فقدان سر فہرست امور ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آئندہ بیس برسوں کیلئے منصوبہ بندی نہ کی گئی تو یہ مسائل بالکل ہی لاینحل ہوجائیں گے۔حکومت کو ان مسائل پر قابو پانے کیلئے ایسے اقدامات اُٹھانے کی ضرورت ہے کہ صوبہ بھر سے آبادی کا رخ پشاور کی طرف کم ہو اور لوگوں کو ان کے علاقوں میں تعلیم، صحت، روزگار اور کاروبار کے مواقع میسر ہوں شہر کو بغیر منصوبہ بندی اور ماسٹر پلان کے بغیر پھیلنے سے روکنے کیلئے خصوصی اقدامات کرنے ہوں گے اور موجودہ آبادی والے علاقوں میں شہری سہولیات کی بہم رسانی کو مضبوط اور مربوط بنانا ہوگا۔