دل پر جو زخم ہیں وہ۔۔

ترکی صدر طیب اردگان کے دورۂ پاکستان کے بارے میں میڈیا کی طرف سے بھرپور تبصرہ جاری ہے اور اس دورے کو مختلف حلقوں کی جانب سے بڑی اہمیت دی جا رہی تھی، علاوہ ازیں کوالالمپور کانفرنس میں عدم شرکت کے پس منظر میں اس دورے پر نظریں گڑھی ہوئیں تھیں بلکہ اہم ترین اعلان بھی متوقع جانا جا رہا تھا کیونکہ اُمہ کی جانب سے یہ سوچ اُبھر رہی ہے کہ او آئی سی جو اپنی قدر کھو چکی ہے اب اس کی جگہ ایک نئے اتحاد کی ضرورت ہے جو عرب حکمرانوں کی مصلحتوں سے مبرا ہو اور خالصتاً اُمہ کی نمائندگی کرے، ترکی کے صدر طیب اردگان کے خطاب کے فوری بعد وزیراعظم عمران خان نے ان صحافیوں کیساتھ ملاقات مقرر کی جو اپنے اداروں کی جانب سے وزیراعظم ہاؤس کی خبروں کی رپورٹنگ کرتے ہیں، یہ ڈیڑھ سال میں پہلا موقع تھا کہ ان صحافیوں سے ملاقات کا اہتمام کیا گیا ورنہ اس سے پہلے مخصوص فہرست کے صحافیوں کو ہی مدعو کیا جاتا رہا لہٰذا سب کے کان کھڑے ہوئے کہ کچھ اہم ہونے جا رہا ہے چنانچہ وزیراعظم پارلیمنٹ سے صدر طیب اردگان کی تقریر کے فوری بعد طے شدہ ملا قات کیلئے پہنچے اور پہنچتے ہی انہوں نے کہا کہ اتنی ڈھیر ساری خبریں ہیں اگر وہ سب آپ صحافیوں کو بیان کردوں تو آپ کے اداروں کی ریٹنگ آسمانوں کو چھونے لگے گی مگر وہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں بیان نہیں کر سکتا، اپنی ذمہ داری کا احساس ہے، ان کلمات کے بعد وزیراعظم نے مولانا فضل الّرحمان کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے جو حکومت گرانے کی بات کی ہے اس طرح انہوں خود تسلیم کر لیا ہے کہ حکومت کیخلاف سازش کی گئی جس پر ان کیخلاف آئین کا آرٹیکل چھ لاگو ہوتا ہے اور وہ خود اس بارے میں کارروائی کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ فوج سب جانتی ہے، پیسے بنا رہا ہوں نہ کرپٹ ہوں، دن رات محنت کر رہا ہوں اسی لئے فوج سے نہیں ڈرتا، وہ میرے ساتھ کھڑی ہے، ممتاز صحافی اور دانشور صافی ارسلا خان کے بقول یہ اس طرح فوج کی سبکی کرتے ہیں کیونکہ وہ بار بار فوج کے سیاست میں دخل اندازی کا اشارہ کرتے ہیں جبکہ فوج کا اصل کام ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے اور پوری قوم کو اس بات پر فخر ہے کہ پاک فوج اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مزین ہے اور قوم کو اپنی فوج کی صلاحیتوں پر کامل بھروسا بھی ہے لیکن عمران خان بار بار کے اس ورد سے یہ تاثر قائم کرتے ہیں کہ فوج کا رجحان صرف سیاست کی طرف ہے جو نقصان دہ ہے، ارسلا خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کے اس بیان سے لگتا ہے فوج کے پاس سب کا ریکارڈ ہے جس سے یہ اخذ ہو رہا ہے کہ فوج سیاستدانوں پر ہی نظر رکھتی ہے، یہ جمہوریت کو ضعف دینے کے برابر بات ہے۔ وزیراعظم نے ایک سوال پر کہا کہ آٹے اور چینی کی انکوائری میں خسرو بختیار اور جہانگیر ترین کا نام نہیں ہے۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ میں کچھ گیپ تھے جنہیں ٹھیک کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔ ارسلا خان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے اس موقع پر جتنی باتیں کیں وہ اس لحاظ سے حیران کن تھیں کیونکہ پوری قوم کی نظریں ترک صدر طیب اردگان کے دورۂ پاکستان اور اس کے نتائج اور اس کی اہمیت پر گڑھی ہوئی تھیں جبکہ پہلی مرتبہ ملاقات کرنے والے صحافیوں سے اپنی ملاقات میں انہوں نے زیادہ اہم انداز میں ذکر مولانا فضل الرحمان، جہانگیر ترین اور خسرو بختیار اور فوج کا ان کیساتھ ایک صفحہ پر ہونے کا کیا اور دوران گفتگو یہ تک احساس نہیں ہونے دیا کہ پاکستان دوست نواز ملک کا سربراہ پاکستان کے دورے پر آیا ہوا ہے، اس کیساتھ مستقبل کے کیا منصوبے ہونے جا رہے ہیں؟ کیا کوالالمپور اعلامیہ کے بارے میںکوئی تبادلۂ خیال ہوا بھی ہے یا نہیں البتہ حکومت کی ڈیڑھ سالہ کارکردگی کے حوالے سے ان کا وہی سابق مؤقف تھا کہ عوام کو درپیش تمام مشکلات کی ذمہ دار سابق حکمران ہیں تاہم انہوں نے ان مشکلات سے نکلنے کی پی ٹی آئی کی کارکردگی پر نظر نہیں ڈالی بلکہ وزیراعظم نے فرمایا کہ جس طرح غیرذمہ داری سے یہاں حکومت کیخلاف پراپیگنڈہ کیا گیا ایسا کہیں نہیں ہوتا۔ جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ حکومت اور فوج میں دوریاں پیدا ہوگئی ہیں تو انہوں نے کہا کہ فوج کے پاس آئی ایس آئی اور ایم آئی جیسے ادارے ہیں۔ انہیں سب معلوم ہے کہ کون پیسہ بنا رہا ہے، مجھے کس چیز کا ڈر ہے۔ میں کوئی پیسہ بنا رہا ہوں نہ میں کوئی فیکٹریاں بنا رہا ہوں۔ فوج کو پتہ ہے کہ میں چھٹیاں بھی نہیں کرتا، کام کرتا ہوں۔ جن صحافیوں کیساتھ وزیراعظم کی ملاقات ہوئی ان کا ردعمل کچھ اس طرح تھا کہ وزیراعظم کچھ تھکے تھکے سے لگ رہے تھے، ہو سکتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں تقریر کر کے آرہے تھے جس کی وجہ سے تھکاوٹ چڑھ گئی ہو جبھی تو انہوں نے اپنے بارے میں پراپیگنڈہ کی بات کی۔
سنیئر صحافی اور تجزیہ کار محمد ضیاالدین نے وزیراعظم کی صحافیوں سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم نے آج صحافیوں سے ملاقات میں دراصل ملکی حالات پر اپنی بھڑاس نکالی ہے۔ ملک میں مہنگائی قابو سے باہر ہوگئی ہے اور دوسری طرف حکومت پر آئی ایم ایف کا دباؤ بھی ہے۔ وہ مہنگائی پر قابو پانا چاہتے ہیں لیکن ناکامی پر وہ ذمہ دار گزشتہ دور حکومت کو گردانتے ہیں۔ ضیاء الدین کا یہ بھی کہنا تھا کہ وزیراعظم کی مہنگائی اور بجلی وگیس کی بڑھتی قیمتوں پر جب وضاحت دیتے ہیں تو وہ خود کو کینٹینر پر لے جاتے ہیں کیونکہ وہ ان کا کمفرٹ زون ہے اور وہاں وہ کسی کے بھی خلاف بول سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ آج کے مسائل کو ماضی کی حکومت پر ڈال کر خود کو تسلی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وزیراعظم یہ کہتے ہیں کہ ملک میں مافیا مہنگائی کر رہا ہے تو بطور وزیراعظم ان کو علم ہونا چاہئے یہ مافیا کون ہیں، ان کو پکڑا جائے۔ جہاں تک صحافیوں سے ملاقات کا تعلق ہے تو یہ سب کیلئے حیرانی تھی کہ کونسی اہمیت تھی طیب اردگان کا دورۂ پاکستان یا پھر وہ ارشادات جو موصوف نے فرمائے۔ اس موقع پر حبیب جالب کا یہ شعر یاد آرہا ہے کہ
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
اپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا