ہر شاخ پہ اُلو بیٹھا ہے

آج کے کالم میں شامل پہلے ایس ایم ایس میں سوال کیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ستوری دہ پختونخوا سکالرشپ2017ء سے روک رکھے ہیں آخر کیوں؟ سوال کیا ہے شمس الرحمن نے لکی مروت سے ستوری دہ پختونخوا کے سکالرشپ کے عدم اجرا بارے قبل ازیں بھی اسی کالم میں تفصیل کیساتھ مسئلہ واضح کرتے ہوئے اس جانب توجہ دلائی گئی تھی، اب ایک بار پھر سوال کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ طلبہ یہ سوال وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مرکز شکایات کے نمبر پر کریں، ساتھ ہی ساتھ وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل پر بھی اس سلسلے میں اپنا مطالبہ وسوال یا شکایت جس صورت میں بھی کرنا چاہیں کریں۔ حقدار اور محنتی طالب علموں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہئے کجا کہ ایک مروج ذریعہ حوصلہ افزائی کو بھی بند کیا جائے، اس حوالے سے کیس غالباً محکمۂ خزانہ کے پاس پڑا ہے جس کے پچھلے کالم میں بھی تذکرہ ہوا تھا۔ اگر حکومت ہی خیبر پختونخوا کے چمکتے ستاروں کے ارمانوں پر اوس پڑنے کے اقدامات کرے گی تو شکایت کس سے کی جائے۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیرتعلیم کو کچھ وقت اس مسئلے کے حل پر بھی صرف کرنا چاہئے۔ ایک نمبر سے کسی کا ایس ایم ایس کالم کے اس نمبر پر بھی شیئر ہوا ہے جس میں عمرے پر جانے والا شخص دوستوں سے دعاؤں کی اپیل کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ کوئی شکایت اور مسئلہ نہیں لیکن یہ ایک دینی وسماجی ومعاشرتی مسئلہ ضرور ہے، عمرے پر جانے اور عبادات کو جتنا مخفی اور جس کی عبادت وبندگی ہورہی ہے اس تک محدود رکھا جائے تو اس کے ثمرات وبرکات اتنے بہتر ہو سکتے ہیں۔ ہمارے لوگوں نے حج وعمرہ کو بھی سیلفی لینے اور ویڈیو بنانے کا موقع بنا دیا ہے۔ عمرے پر جاتے ہوئے اور خاص طور پر واپسی پر باقاعدہ تقریب منعقد ہوتی ہے، عبادت میں رواج ورسومات اور دنیاداری کی ملاوٹ ہونے لگے تو وہ عبادت خالص ومؤثر نہیں رہتی، مقبول ونامقبول کا علم تو مالک ارض وسماء ہی کو ہے۔ اس ضمن میں مزید رہنمائی علمائے کرام ہی سے مل سکتی ہے میری اتنی گزارش ہے کہ عمرے کو رسم نہ بنائیں۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پرنسپل وائس پرنسپل کے عہدوں کیلئے2019ء سے دو سو چار اُمیدوار اب تک تقرری کے منتظر ہیں۔ تقرری کے منتظروں نے ہر در کھٹکھٹایا مگر انصاف نہ ملا۔ سست روی کیلئے تو پبلک سروس کمیشن شہرت کی حامل ہے مگر ان کی جانب سے تقرریوں کی سفارش کے بعد معاملے کو لٹکانا اور محکمے کی جانب سے اعتراضات وتاخیری حربے کا استعمال ناقابل فہم ہے۔ اگر ایسا ہی تھا تو ان اسامیوں کا اشتہار ہی کیوں جاری کیا گیا۔ پبلک سروس کمیشن نے اتنی تپسیا ہی کیوں کی جب سارے مراحل پورے ہوگئے اور محکمے میں کھپت بھی ہے تو پھر تاخیر واُلجھاؤ نہیں ہونا چاہئے۔ جتناجلد ہوسکے ان اساتذہ کرام کی تقرری کی جائے۔
ایک مرتبہ پھر ضم قبائلی اضلاع میں پانچ سال سے بند انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ علاقہ صوبے میں ضم کر دیا گیا، وہاں پر ملکی قوانین مروج ہیں، عدلیہ وانتظامیہ بھی موجود ہے، پورے ملک میں انٹرنیٹ سروس ہے اور قبائلی اضلاع میں سہولت نہیں دی جارہی ہے بلکہ موجود سہولت بند کر دی گئی ہے۔ پی ٹی سی ایل کی سروس ویسے بھی اب ناقص ہونے کے باعث شہروں میں بھی بند ہورہی ہے اور نجی کمپنیاں جگہ اور صارفین دونوں سنبھال رہی ہیں۔ قبائلی اضلاع میں تھری جی اور فورجی کی سہولت حکومت نے نہیں کمپنیوں نے دینی ہے، سرکار کا کچھ نہیں جاتا، کمپنیوں کی بزنس میں اضافہ اور سرکار کو ٹیکس کی مد میں آمدنی ہوگی۔ قبائلی عوام بار بار مطالبہ کر رہے ہیں توجہ نہیں دی جارہی ہے، اس کے باوجود حکمران اُٹھتے بیٹھتے دعوے کرتے ہیں کہ حکومت عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرے گی، عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کہاں سے ہوں گے جب ان کو حاصل سہولیات ہی چھین لی جائیں۔ قبائلی اضلاع کے عوام کو اس بنیادی حق سے محروم رکھنے کی وجوہات جو بھی ہوں اس کی حکمت ہم جیسے ذہنوں کے حامل لوگ نہیں سمجھ سکتے جو بزرجمہر اس فیصلے کا باعث ہیں وہی سوچیں سمجھیں یا تو سروس بحال کریں یا پھر وجہ بتا دیں۔ عوام سوال کررہے ہیں وہ شجر وحجر نہیں اور نہ ہی بت ہیں ان کی سنی جائے اور ان کا مسئلہ حل کیا جائے۔
لنڈی کوتل سے ایک دینی مدرسے کے طالب علم نے سرکاری ہسپتال میں آنکھوں کے معائنے کی روداد افسوس اور تعجب کیساتھ لکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میں آنکھوں کے معائنے اور علاج کیلئے ڈاکٹر کے پاس گیا، انہوں نے تین چار سیکنڈ بھی میرا معائنہ نہ کیا اور ادویات کی لمبی چوڑی پرچی میرے ہاتھ میں تھما دی، جب انہوں نے بغور معائنہ نہیں کیا مجھ سے میری تکلیف اور باعث آمد کا معلوم ہی نہیں کیا پھر اسے میری بیماری کا علم کیسے ہوا اور انہوں نے کس کھاتے میں ادویات کی لمبی پرچی تھما دی۔ بلاشبہ ہر پیشہ ور شخص اپنے کام کو بہتر سمجھتا ہے لیکن مریض کو مطمئن کرنا بھی تو طب کے پیشے کا اولین اصول ہے۔ مریض کو اتنا تو وقت دیا جائے کہ اسے اطمینان ہو کہ ڈاکٹر نے توجہ کیساتھ ان کی بات سنی ہے اور انہوں نے مناسب ادویات تجویز کی ہیں۔ میں ہمیشہ حسن ظن کے اظہار کی کوشش کرتی ہوں، سرکاری فرائض کی انجام دہی میں غفلت وکوتاہی کے معاملات میرے لئے کوئی راز کی بات نہیں، بہت سی جگہوں پر حکومت کی مشکلات وسائل کی کمی اور دیگر پیچیدگیاں ہوتی ہیں۔ آج کے کالم میں جس قسم کے مسائل کا تذکرہ ہوا ہے اس سے تو یہی لگ رہا ہے کہ کوئی اور نہیں یہ نظام، یہ حکومت اور حکمران ہی مسائل کا باعث ہیں۔ عوامی مسائل کے حل کی کوششیں اپنی جگہ یہاں تو ہر ایک اپنی جگہ مسائل کھڑی کرنے کا باعث بنتا دکھائی دیتا ہے۔ ایسے میں عوام حکومت وحکمرانوں اور اس نظام سے کیا توقعات رکھیں سوائے مایوسی اور نفرت کے۔
اس کالم کیلئے قارئین اپنی شکایات اور مسائل
اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔