اقتدار کا کھیل

حکومت کی نااہلی اب کھل کر سامنے آنے لگی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے سب کو ہی شدید مایوس کیا ہے اور بہتری کی اُمید بھی کم ہی رہ گئی ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں بھی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے درپے ہیں۔ تحریک انصاف کی ناکامی کی وجہ صرف اور صرف وہ خود ہے۔ اسے کسی بیرونی دشمن سے نہیں بلکہ اپنی ہی صفوں میں چھپے سانپوں نے اس نہج پر پہنچایا ہے۔ حزب اختلاف نے پہلے ہی طاقتور حلقوں سے بات چیت شروع کر دی ہے اور وہ تعلقات جو بظاہر پانچ سالوں کیلئے منقطع ہوئے تھے، اب دو سال میں ہی بحال ہونے لگے ہیں اور ایسا صرف اور صرف تحریک انصاف اور عمران خان کی جانب سے پیدا کی گئی بدنظمی کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ تاثر بھی زور پکڑتا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کا اختتام قریب ہے اور مسلم لیگ نواز حکومت سنبھالنے کو ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلم لیگ کی بہاریں لوٹنے کا وقت آگیا ہے اور یہ بات ان کی سینئر قیادت کی اسمبلی تقریروں میں چھلکتے اعتماد سے عیاں ہو رہی ہے۔ ان کی تقریروں میں روایتی بذلہ سنجی واپس آرہی ہے۔ وہ دوبارہ اس پوزیشن میں آگئے ہیں جہاں وہ یہ دعویٰ کرنے کے قابل ہوگئے ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی نہیں جو اس ملک کو چلا سکے اور یقین جانئے یہ دعویٰ کرتے ان کی خوشی اور خوداعتمادی دیدنی ہوتی ہے۔ ان کا یہ دعویٰ بہت حد تک قابل یقین بھی لگنے لگا ہے کہ عمران خان اب تک اپنا کوئی وعدہ بھی ایفا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ان کی وزارتوں کی کارکردگی مایوس کن ہے اور ان سے جن سخت اور مؤثر اقدامات کی توقع کی جا رہی تھی وہ اب تک نہیں لئے جا سکے۔ لگتا ہے کہ عمران خان کے پاس وہ ویژن ہی نہیں جو پاکستان کو درست سمت میں گامزن کرنے کیلئے ضروری ہے۔
مگر یہ صورتحال کسی جگہ کسی طاقتور کیلئے ساری بساط اُلٹنے اور ایک نیا کھیل شروع کرنے کا فیصلہ لینے کیلئے کافی ہے؟ اسلام آباد کے باخبر حلقے اسی بارے سرگوشیاں کرتے سنائی دیتے ہیں۔ مگر یہاں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ یہ بساط اُلٹنے کے بعدکا منظر کیا ہوگا؟
باخبر لوگ یہ بحث کر رہے ہیں کہ آیا اس ان ہاؤس تبدیلی کی شروعات پنجاب سے ہوگی یا اسلام آباد سے؟ اس بات کی کوئی وضاحت نہیں دیتا کہ بھلا وہ کون ہو سکتا ہے جو اس قدر نااہلی کے باوجود اسلام آباد میں یہ حکومت قائم رہنے دے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب شہر بھر میں کوئی دینا پسند نہیں کرتا۔ وہ لوگ جو یہ ساری بساط بچھائے بیٹھے ہیں، اگر تھوڑی سی بھی حس مزاح رکھتے ہیں تو وہ یہ بات یقینی بنائیں گے اس تبدیلی کا مرکز اسلام آباد ہوکہ اس کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز کو اپنی وہ تمام تقاریر اور بیانات زبردستی یاد کرائے جائیں گے جو انہوں نے تحریک انصاف کی نااہلی کے متعلق داغے تھے اور ممکن ہے کہ اس کے بعد ہم تحریک انصاف کو ایک مرتبہ پھر اپنی پرانی روش کے مطابق احتجاج کرتے اور کنٹینر پر کھڑا دیکھیں۔ اس ممکنہ صورتحال میں مسلم لیگ نواز کے متوالے ہی اتنے معصوم ہو سکتے ہیں کہ اس بات پر یقین کر لیںکہ شیروں کے پنجاب میں اقتدار واپس لینے کے بعد وہ ویسے سخت اقدامات لینے میں مزاحمت دکھائیں گے جیسے ابھی تحریک انصاف کو لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ تجربہ کار مسلم لیگ کسی بھی ان ہاؤس تبدیلی کا حصہ بننے سے بظاہر انکاری ہے کہ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہیںکہ وہ پیپلز پارٹی کی مدد کے بغیر حکومت نہیں بنا سکیں گے اور وہ ان مشکلات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں جن کا سامنا انہیں اقتدار میں آتے ہی شدید ترین معاشی بحران کی وجہ سے کرنا پڑے گا۔ حقیقت یہ ہے اس وقت مسلم لیگ کو اقتدار میں لیکر آنا ان پر کسی قسم کی مہربانی نہیں ہوگی۔
عددی لحاظ سے پنجاب میں حکومت بنانا مسلم لیگ کیلئے زیادہ آسان ہے کہ مٹھی بھر تحریک انصاف کے ناراض رکن یا مسلم لیگ (ق) سے اتحاد پنجاب میں حکومت کی تبدیلی کا آسان ترین ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایسا کرنے میں کوئی مسئلہ بھی درپیش نہیں کہ سب جانتے ہیں کہ پنجاب میں ترچھی ٹوپی والے شہباز شریف ہی ڈلیور کر سکتے ہیں جبکہ عثمان بزدار اب تک شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ وہ نااہلی ہی ہے جو حکومتوں کے گھر جانے کی بنیادی وجہ بنتی ہے اور یہ سول ملٹری تعلقات کی خرابی صرف ایک بہانہ ہوتی ہے۔مسلم لیگ نواز تحریک انصاف کے ممکنہ انجام سے آگاہ اور اس پر خوش نظر آرہی ہے مگر یہ کسی بھی شے کی اعلانیہ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔ ممکن ہے یہ خاموشی ابھی معاملات کا حتمی طور پر طے نہ ہونے کے سبب ہو۔
سب چیزیں ایک طرف رکھیں، کیا مسلم لیگ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت کو ختم کر کے اسے ایک نئی زندگی دینا چاہے گی؟ اس صورتحال میں وفاق یا پنجاب سے تحریک انصاف کی حکومت ہٹانے کی کوئی بھی کوشش اسی کے حق میں جائے گی۔ اس طرح کا اقدام نہ صرف عمران خان کے سر سے ”سلیکٹڈ” کا الزام دھو ڈالے گا بلکہ وہ اس کے بعد اس بنیاد پر اپنے حامیوں کو دوبارہ اکھٹا کرنے لگیں گے کہ ان سے اپنی باری پوری کرنے اور حکومت کرنے کا حق چھینا گیا ہے اور اس کے بعد ایک مرتبہ پھر وہ سیاسی طور پر مضبوط پوزیشن میں آنے لگیں گے۔
یہ وہ تمام باتیں ہیں جو ایک سب ایڈیٹر کے ذہن کی اختراع ہے۔ وہ لوگ جو اصل میں طاقت کے حامل ہیں اور وہ جو یہ بساط بچائے بیٹھے ہیں، الگ سوچتے ہیں۔ البتہ اقتدار کے ایوانوں میں تحریک انصاف کی حکومت کے آخری دن گنے جانے لگے ہیں۔
(بشکریہ ڈان نیوز۔ ترجمہ: خزیمہ سلیمان)