جب کسی رہنما کی بات چلی

کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ اپنے گریبان میں بھی جھانک لیا جائے، عام آدمی کے حوالے سے بھی بات کی جائے، دن بھر دوسروں کے عیب تلاش کرنے والا خود کیا کر رہا ہے؟ گلی محلے کے سبزی فروش سے سبزی خریدنے کے بعد مہنگائی کی شکایت کی: تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا جناب کونسی چیز سستی ہے؟ اس کی اطمینان بھری مسکراہٹ اس کی مالی آسودگی کی غماز تھی، ہم نے فریاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر محلے کا دکاندار پانچ دس روپے زیادہ لے لے تو مناسب ہے لیکن جس نرخ پر آپ سبزی بیچ رہے ہیں یہ تو شرفاء کی کھال اُتارنے والی بات ہے! دراصل سارا قصور ہمارا ہے ہم سے ذرا تکلیف نہیں ہوتی کہ سبزی منڈی کا ہفتے میں ایک آدھ چکر ہی لگالیں، دکاندار نے سقراط کی طرح آنکھیں سکیڑتے ہوئے کہا! جناب سیدھی بات تو یہ ہے کہ آپ سبزی منڈی سے جس قیمت پر ہفتے بھر کی سبزی خریدتے ہیں، اس سے دگنی قیمت اپنی گلی کے دکاندار کو دیتے ہیں۔ ہمارے بھی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں دو پیسے ہم نے بھی کمانے ہیں، بات تو اس کی صحیح تھی دراصل مناسب نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے محلے کے دکاندار من مانی قیمت وصول کرتے ہیں اور مہنگائی کے جن کو قابو کرنا جن کی ذمہ داری ہے وہ چین کی نیند سو رہے ہیں۔ انہیں تمام سہولیات میسر ہیں، انہیں پسے ہوئے طبقے سے کیا ہمدردی ہوسکتی ہے۔ یہی صورتحال پھلوں کی بھی ہے، آپ فروٹ منڈی سے پھل خرید کر دیکھیں دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ آج ہمیں اپنے معاشرے میں جو بگاڑ نظر آتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہم خود ہیں کیا، کبھی ہم نے اس پر غور کیا ہے کہ ہم دوسروں کا حق مارتے ہیں! اپنے بھائی کی راہ میں کانٹے بچھاتے ہیں! آج ہر طرف نفسا نفسی کا عالم ہے بے حسی، خودغرضی، لالچ، رشوت، ظلم وستم، معصوم انسانوں کا قتل عام! یہ سب کچھ صرف اس لئے ہے کہ ہم روشنی سے محروم ہیں، ہم ابھی تک اپنا قبلہ درست نہیں کرسکے! حکمرانوں نے اپنے آپ کو کبھی قوم کا خادم نہیں سمجھا، ان کے بڑے بڑے محلات برقی قمقموں سے روشن ہیں، گھروں میں ایئرکنڈیشن، گاڑیوں میں ایئرکنڈیشن! عبدالحمید عدم نے کیا خوب کہا ہے:
جل گئے رہزنوں کے بھی سینے
جب کسی رہنما کی بات چلی
ہم نے اپنے شہر پشاور کا کیا حشر کردیا ہے اب تو اپنے شہر کی فضاؤں میں سانس لینا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ خستہ حال سڑکوں پر دھول اُڑاتے رکشے، موٹر سائیکلوں، گاڑیوں کی کثرت اب تو گھر سے نکلنا بھی محال ہوگیا ہے، یہ سب بڑھتی ہوئی آبادی اور ناقص منصوبہ بندی کے شاخسانے ہیں! پشاور کے خوبصورت شاہی باغ کا حسن اُجڑ چکا ہے، ماضی کے اس خوبصورت باغ کے اردگرد کا ماحول اتنا آلودہ ہوچکا ہے کہ وہاں سے گزرنا محال ہے، شاہی باغ کیساتھ موجود پردہ باغ کی ساتھ والی سڑک کو سبزی منڈی میں تبدیل کر دیا گیا ہے، سڑک کے کنارے سبزی کے ڈھیر، ساتھ بے ترتیب کھڑی گاڑیاں جن میں سبزی لادی جارہی ہوتی ہے، ساتھ ہی گدھا گاڑیوں کی بھرمار اور پھر پولیس کانسٹیبل کا نہ ہونا اب تو وہاں سے گزرنے کیلئے بڑے دل گردے کی ضرورت ہے! پردہ باغ کیساتھ فٹ بال سٹیڈیم جو افغان گراؤنڈ کے نام سے مشہور ہے اس خوبصورت گراؤنڈ کی دیوار کیساتھ بروز جمعہ کتوں کی منڈی سجائی جاتی ہے جس میں کتوں کی خرید وفروخت ہوتی ہے۔ بھانت بھانت کے کتے ایک دوسرے پر جھپٹتے اور بھونکتے نظر آتے ہیں! لڑاکا کتے، شکاری کتے، چوکیدار کتے! سوداگر ان کی رسیاں پکڑے ادھر ادھر گھومتے نظر آتے ہیں، خریدار قیمتی گاڑیوں میں آتے ہیں اور اپنی پسند کے کتے خرید کر لے جاتے ہیں۔ ہمیں کتوں کی منڈی پر کوئی اعتراض نہیں ہے، صرف اس طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ سڑک کنارے اس قسم کی منڈیاں سجانا مہذب قوموں کا شیوہ نہیں ہے۔ کتوں کی خرید وفروخت کسی مناسب مقام پر موجود فارم میں بھی کی جاسکتی ہے۔ کتوں کی منڈی کے بالکل سامنے ریل کی پٹڑی پر کبوتروں کی منڈی لگی ہوتی ہے۔ کتوں، کبوتروں، مرغوں اور سائیکلوں کی یہ غیرقانونی اور غیراخلاقی منڈیاں میونسپل کارپوریشن کے دفتر سے زیادہ دور نہیں ہیں، قریب ہی ڈی سی او آفس بھی ہے لیکن کبھی کسی نے کارپوریشن کی حدود کے اندر کتوں کے اس غل غپاڑے کو بند کرنے کے بارے میں نہیں سوچا؟ کتوں کے اس اجتماع کو کبھی کسی نے منتشر کرنے کی کوشش نہیں کی، وہاں کے دکانداروں کا کہنا ہے کہ کبھی کبھار پولیس والے انہیں یہاں سے بھگا دیتے ہیں لیکن یہ تھوڑی دیر بعد پھر وہیں موجود ہوتے ہیں! یہ وہ مسائل ہیں جن کو حل کرنے کیلئے کسی فالتو بجٹ کی ضرورت نہیں پڑتی اور نہ ہی یہ کوئی راکٹ سائنس ہے جو ہماری سمجھ میں نہ آسکے۔ ان مسائل کا تدارک ذرا سی توجہ سے بڑی آسانی کیساتھ حل کیا جاسکتا ہے لیکن ایک بات ہے کہ اس طرح کچھ محکموں کے گماشتوں کو تنخواہ کے علاوہ بالائی رقم سے ضرور ہاتھ دھونے پڑتے ہیں!