حکومت اور حزب اختلاف کے قائدین فراست کا مظاہرہ کریں

خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومت اور حزب اختلاف کے اراکین نے دوسرے روز بھی جس کردار وعمل کا مظاہرہ کیا اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے، ایک دوسرے پر حملہ، بازاری زبان کا استعمال اور شور شرابہ کا منظر دیکھ کر یقین نہیں آتا کہ خیبر پختونخوا جیسے روایتی پختون معاشرے اور باہم عزت واحترام اور پختون معاشرے کے عوامی نمائندے محض سیاسی اختلاف کی بناء پر پاتال میں اُتر سکتے ہیں۔ وہ منظر تو نہایت ہی افسوسناک ہے جس میں ایک سفید ریش کے سر کی سفید ٹوپی تک گر جاتی ہے۔ بلوے کے مناظر پر مبنی حالات میں اس امر کا تعین بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ کس کی زبان اور کس کے ہاتھ سے کیا سرزد ہوا۔ سیاسی اختلافات، حکومت سے شکایات، حزب اختلاف کے شکوے، عوامی مسائل کے حل نہ ہونے اور فنڈزمیں ناانصافی سمیت جو بھی شکایات ہوں ان سے قطع نظر ایک ایسا رویہ اور طرزعمل اختیار کرنا کہ اسمبلی کی کارروائی ہی جاری نہ رکھی جا سکے نہ صرف قابل مذمت امر ہے بلکہ اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ کردار عوامی نمائندگی اور ایوان کی توہین ہے۔ اس عمل میں جو بھی شریک ہوئے ہوں خواہ ان کا تعلق جس بنچ اور جماعت سے ہو، قابل مذمت عمل کے مرتکب ہوئے ہیں،جس پر ان کو عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔ ایوان کے تقدس کی بات کرنے والے ہی اگر ایوان کو بازیچہ اطفال بنانے لگیں اور منتخب نمائندوں کا کرداربٹیر بازوں اور مرغہ لڑانے والوں جیسا ہو جائے، خاتون اراکین مردوں سے بڑھ کر ایوان کا وقار مجروح کرنے لگیں تو ایسے ایوان سے اور ایسی حکومت سے عوام اپنے مسائل کے حل اور بہتر قانون سازی کی کیسے توقع کر سکتے ہیں۔ ہمیں اس امر سے غرض نہیں کہ ابتداء کس نے کی اور قصور وار کون ہیں، ہمیں افسوس ان مناظر کا ہے جو گزشتہ روز اور خاص طور پر دوسرے روز ایوان میں پیش آئے۔ اسمبلی اجلاس کو پرامن رکھنے کیلئے اضافی سیکورٹی کی تعیناتی اور اراکین اسمبلی کا ایک دوسرے پر حملہ خیبرپختونخوا اسمبلی کی روایات کا خون ہے۔ شاید ہی ایسا منظر پہلے کبھی اسمبلی میں دیکھا گیا ہو۔ اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ حزب اختلاف حکومت کو اسمبلی سے باہر بھی پنجہ آزمائی کی دعوت دے رہی ہے اور حکومت بھی بھرپور جواب دینے کا اعلان کرتی ہے۔ الیس منکم رجل رشید،کیا ایوان میں کوئی عقل ودانش کی بات کرنے والا اب نہیں رہا۔ حزب اختلاف اور حکومت دونوں کی صفوں میں جذباتی اور لڑائی پر تلے ہوئے عناصر کو سمجھانے والا کوئی بھی نہیں۔ اگرچہ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی والا معاملہ ہے اور کوئی بھی فریق پیچھے نہیں لیکن اس کے باوجود پارلیمانی روایات اور مصلحت اس امر کا متقاضی ہے کہ حکومت کشیدگی میں کمی لانے میں پہل کرے اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا ور سپیکر اسمبلی انا کو بالائے طاق رکھ کر ایوان کا ماحول معتدل بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ حکومتی اراکین اور خاص طور پر وزراء کا اسمبلی اجلاس میں قصداً تاخیر سے آنا اور اسے معمول بناناحکومتی اراکین اور وزراء کی بطور خاص غیرحاضری حزب اختلاف کے سوالات کا مناسب اور بروقت جواب نہ دینا اور اس جیسی شکایات حکومت کیلئے کسی مثبت تاثرات کا باعث نہیں بلکہ حزب اختلاف کی ان جائز شکایات کی ہر کوئی تائید کرے گا۔ حکومت کی کوشش تو یہ ہونی چاہئے کہ حزب اختلاف کو فنڈز سے لیکر دیگر معاملات میں کسی قسم کی شکایت کا موقع ہی نہ ملے۔ انصاف ومساوات پر مبنی پالیسیاں اپنائی جائیں اور ایک دوسرے کے عزت واحترام کا خیال رکھا جائے تو نوبت اس حال کو نہ پہنچے کہ جگ ہنسائی ہو۔ سینئر سیاستدان اور قائد حزب اختلاف کے طور پر اکرم درانی سے بجا طور پر اس امر کی توقع کی جا سکتی ہے کہ حکومت کی طرف سے ان سے رابطہ ہونے پر وہ مثبت جواب دے اور کشیدگی میں اضافہ سے گریز میں اپنا کردار ادا کرے۔ حکومت کو جلد سے جلد کمیٹی تشکیل دے کر حزب اختلاف سے رابطہ کرنا چاہئے وزیراعلیٰ اور سپیکر کو درون خانہ کردار ادا کرنے میں تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈروں کو کشیدگی سے گریز کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ آئندہ اجلاس کا انعقاد ہم آہنگی کی فضا میںممکن ہو سکے۔