مہنگائی میں کمی بارے حکومتی اقدامات

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت کا بنیادی مقصد عوام کو اور خصوصاً کم آمدنی والے افراد کو ممکنہ حد تک ریلیف فراہم کرنا ہے، حکومت کو احساس ہے کہ کم آمدنی والا اور تنخواہ دار طبقہ مشکلات کا شکار ہے اور حکومت کی ہر ممکنہ کوشش ہے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کے ضمن میں جہاں تک ممکن ہو سکے ان طبقات کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے ہر آپشن پر غور کیا جائے گا۔وزیر اعظم نے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ پیٹرول، ڈیزل اور گیس کی قیمتوںمیں ممکنہ حد تک کمی لانے کی غرض سے جامع روڈ میپ جلد ازجلد مرتب کیا جائے اور اس ضمن میں سفارشات پیش کی جائیں تاکہ قابل عمل سفارشات پر عمل درآمد کیا جا سکے۔وزیراعظم نے قدرتاخیر سے مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف دینے پر توجہ دی ہے مگر بہرحال ابھی بہت دیر نہیں ہوئی اب بھی حکومت کے اقدامات کے نتیجے میںمہنگائی میں کمی لا کر عوام کی مشکلات کم کی جائیں اور عوام کو یہ احساس دلایا جائے کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے اور اس میں کمی لانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے۔اگر دیکھا جائے تو مہنگائی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ خود حکومتی منظوری سے ہونے والے اقدامات ہیں جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ،گیس اور بجلی کی بار بار بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔ اس کے علاوہ انتظامیہ کی کمزور گرفت کے باعث خود ساختہ قیمتوں کی وصولی اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے مارکیٹ میں طلب ورسد کا توازن بگاڑ کر مہنگے داموں اور عوام کو قلت کا خوف دلا کر ضرورت سے زائد اشیاء کی خریداری پر مجبور کر کے دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کا ہاتھ روکنا شامل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت محولہ بالا معاملات میں اپنے حصے کا منافع کم کرنے کیساتھ ساتھ جو بلاوجہ ٹیکس ان اشیاء کے بلوں میں شامل ہیں اگران کو واپس لے یا اس میں کمی لائے تو مہنگائی میں کمی لانا نا ممکن نہیں۔ ساتھ ہی ساتھ مقررہ نرخوں پراشیاء کی فروخت کی ہر قیمت پر پابندی کرانے کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے تو عوام کو ریلیف کا احساس دلایا جا سکتا ہے۔حکومت کو سرکاری اداروں سے مختلف صورتوں میں امداد لینے والوں کے وظیفے میں اضافہ کے علاوہ ای او بی آئی کے پنشنروں کے پنشن میں مزید اضافہ کر کے محروم طبقے کی بطور خاص دست گیری کر سکتی ہے۔پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی وگیس کے نرخوں میں کمی سے ملک گیر مہنگائی میں کمی آسکتی ہے، یہ درست ہے کہ اس سے ملکی خزانے پر بوجھ ضرور پڑے گا لیکن عوام کو جینے کے قابل رکھنے کیلئے یہ کوئی بڑی قیمت نہ ہوگی۔
قبائلی اضلاع بارے سیاسی جماعتوں کی سفارشات
ضم اضلاع بیٹھک میں شریک سیاسی جماعتوں بشمول صوبائی وزیر اطلاعات کے بیشتر مطالبات کا تعلق سیاسی نہیں بلکہ عوامی فلاح وبہبود کیلئے ہیں جن پر عملدر آمد حکومتی ذمہ داری اور خود حکومتی اعلانات کے عین مطابق ہے۔ مشترکہ اعلامئے میں حکومت اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبہ بھر اور بالخصوص ضم اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جائے۔ باڑہ انڈسٹریل زون کو بحال کیا جائے اور ہر ضلع میں انڈسٹریل زون قائم کیا جائے۔ لینڈ ریکارڈ ڈیجیٹلائزڈ کیا جائے اور ضم اضلاع کیلئے مختص نشستوں پر عملدرآمد اور سکالرشپس کی بحالی کو یقینی بنایا جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد وہاں کے عوام کو تبدیلی کا احساس دلانے کیلئے جن اقدامات کی ضرورت تھی اور دہشت گردی سے چھٹکارے کے بعد حکومت کو علاقے کی ترقی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے جو اقدامات اُٹھانا ضروری تھے اس میں کمی اور کوتاہیاں موجود ہیں۔ ان دونوں موقعوں پر مشکلات کا شکار قبائلی عوام کو بجا طور پر توقع تھی کہ حکومت کے اقدامات کے باعث وہ دکھ کی یہ گھڑی بھول جائیں گے لیکن اس کے بعد ان کو ہونے والی مایوسی کسی طور ان کٹھن حالات سے مختلف نہیں۔ مہینہ بھر سے میران شاہ بازار کے متاثرین روزانہ مظاہرہ کر رہے ہیں مطالبات کررہے ہیں، آئے روز پریس کلب کے باہر کسی نہ کسی قبائلی ضلع کے عوام کے کیمپ لگ جاتے ہیں مگرمتعلقہ حکام ان سے مذاکرات تک کے روادار نہیں، اس قسم کی صورتحال سے قبائلی اضلاع کے عوام کی محرومیوں میں اضافہ اور وہاں کے عوام کا جذباتی عناصر کے نعروں کا شکار ہونا فطری امر ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے اور سیاسی جماعتوں نے اتفاق سے قبائلی اضلاع کے حوالے سے جو مطالبات اور تجاویز حکومت کے سامنے رکھے ہیں ان پر سنجیدگی سے غور کیا جائے اور جتنا جلد ممکن ہو سکے ان تمام مطالبات اور تجاویز کے حوالے سے پیشرفت ہونی چاہئے۔
پانی کے شکستہ پائپ اور ڈینگی
وفاقی حکومت آسٹریلیا سے نئی ٹیکنالوجی حاصل کر کے ڈینگی پر مکمل قابو پانے اور اس کے انسداد کیلئے پیشگی طور پر سرگرم ہے تو دوسری جانب ڈی جی ہیلتھ کے دفتر کے عین سامنے ڈینگی کی افزائش کیلئے موزوں صاف پانی کے فوارے اور کھڑے پانی کی موجودگی کی صورتحال روایتی غفلت کا وہ مظہر ہے جس کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی۔ یہ درست ہے کہ پانی کے پائپ کی درستگی محکمہ صحت کی ذمہ داری نہیں لیکن کیا سرکاری عہدیدار اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنے طور پر ہی پائپ ٹھیک کروا کر پانی کے ضیاع کی روک تھام اور ڈینگی کی افزائش کے ایک اہم ذریعے کا خاتمہ کرسکے۔ معلوم نہیں شہر میں اور کتنی جگہوں پر اس طرح کی صورتحال ہوگی جس پر توجہ دے کر ڈینگی کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔ڈینگی پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قابو پانے کی کوشش اس وقت ہی کامیاب ہوں گی جب اس کے دیگر اسباب ووجوہات کے تدارک پر بھی توجہ دی جائے۔