چالیس برس کا قصہ

یوں لگتا ہے کہ چالیس برس پلک جھپکتے ہی گزر گئے۔ چالیس سال نہیں ابھی کل ہی کی بات ہو جب بی بی سی اور وائس آف امریکہ افغانستان میں سوویت فوج کی آمد کی خبریں نمک مرچ لگا کر سنا رہے ہوں۔ ریڈیو پاکستان مہاجرین کے قافلوں کے پاکستان میں داخل ہونے کی خبریں دے رہا ہو۔ اونٹوں کے قافلے آن واحد میں پاکستان کے طول وعرض میں پھیل رہے ہوں۔ اونچے لمبے افغان مخصوص لباس پہنے گلی گلی عزت وتکریم کا باعث بن رہے ہوں۔ ہر شخص ان سے ہمدردی کا اظہا کر رہا ہو۔ ایسا ہی ایک سر وقد سرخ وسفید افغان چاچا چنار گل کپڑوں کی گھٹڑی اُٹھائے گھر گھر ”جاپانی کپڑا” کی صدائیں بلند کر رہا ہو اور وہ ہمارے دالان میں فرمائش پر بنوائی گئی کڑک چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے رزم گاہ کی کہانیاں سنا رہا ہو۔ ہمارے والد اسے بہادر قوم کا بہادر انسان سمجھ کر اور بے وطن جان کر وی آئی پی پروٹوکول دیتے کیونکہ وہ خود مہاجرت کا دکھ دسویں جماعت میں ہی جھیل چکے تھے جب کشمیر میں مسلم کانفرنس اور ایم ایس ایف کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے نعرے لگاتے لگاتے اپنے گھر سے بہت دور نکل آئے۔ یوں لگ رہا ہے کہ چنار گل راکٹ لانچر کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہو کہ ایک ایسا ہتھیار بھی ہے جس کی گولی آگے جاتی ہے اور آگ کا شعلہ پیچھے سے نکلتا ہے، ہم سکول کے بچے کان اور منہ کھول کر چاچا چنار گل کی باتیں حیرت سے سن رہے ہوں۔ افغان آئے تو انہوں نے جفاکشی اور محنت کو نیا مفہوم دیا۔ جب بھی کسی کو مزدور کی ضرورت ہوتی تو ہر شخص کی ترجیح ہوتی کہ وہ یہ کام افغان باشندے سے لے کیونکہ دیانت اور محنت ان پر ختم تھی۔ کاروباری معاملات میں بھی اپنی دیانت سے ساکھ قائم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ افغان صوبے کے پکتیا کے محمد خان کو ہم کیسے فراموش کر سکتے ہیں جو قالین کا کام کرتا تھا۔ ہماری والدہ قالین کی خریداری کیلئے محمد خان کی آمد کا مہینوں انتظار کرتیں اور محمد خان افغان جنگ میں حصہ لے کر آتا تو دروازے سے ہی آواز لگاتا ماں جی قالین آگیا ہے۔ والدہ کہتیں کہ محمد خان آپ مہینے کی آخری تاریخوں میں کیوں آتے ہو۔ محمد خان یہ کہتے ہوئے قالین پھینک کر چلا جاتا ماں جی پیسوں کی خیر ہے آپ قالین رکھ لو۔ افغانوں کو ہم نے پاؤں رکھنے کیلئے زمین اورآسمان کی صورت محفوظ چھت تو فراہم کی مگر وہ بھکاری نہیں تھے، انہوں نے اس ملک کو اپنے خون جگر سے سنوارا ہے۔ وہ ہماری قومی کاہلی، کہولت، سہل پسندی اور کام چوری سے پُر ماحول میں محنت اور سخت کوشی کی علامت بن کر جئے۔ اب تو خیر بہت سے پاکستانیوں کی طرح ایک افغان گھرانے سے ہماری قرابت داری بھی ہے اور ان کی مشکلات کا کسی حد تک اندازہ ہے۔ گزشتہ برس پاکستان میں پیدا ہونے والی افغان اور برطانوی شہریت کی حامل اپنی بھابھی کی پاکستان آمد پر مجھے انٹرویوز اور وضاحتوں کے کئی ادوار سے گزارنا پڑا۔ چند دن قبل میڈیا نے یاد دلایا کہ پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کے چالیس برس مکمل ہو گئے ہیں اور اس موقع پر اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انٹونیو گوئٹرس نے چالیس سالہ تقریبات کے سلسلے میں پاکستان کا دورہ کیا۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک اہم کانفرنس سے انٹونیو گوئٹرس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے بھی خطاب کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے مہاجرین میزبانی کرنے والا دوسرا ملک قرار دیکر پاکستان کی خدمات کی کھل کر تعریف کی۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا پناہ گزینوں کی مدد کیلئے عالمی تعاون کم رہا۔ انہوں نے قرآنی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تم سے کوئی پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دیا کرو۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان پناہ گزینوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں بہت اہم باتیں کیں۔ انہوں نے افغان پناہ گزینوں کیلئے پاکستان کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن کیلئے جو کچھ ہمارے بس میں ہے کر رہے ہیں۔ افغانستان کے پناہ گزینوں کی بے گھری کو چالیس سال ہوگئے، آج ملک کے طول وعرض میں پھیلے ان مہاجرین کی تیسری نسل جوان ہو رہی ہے۔ گوکہ پاکستان میں یہ عمومی تاثر ہے کہ پناہ گزینوں کی اس قدر بڑی تعداد کے باعث پاکستان منشیات، کلاشنکوف کلچر کی زد میں آیا اور یہاں کے مقامی لوگوں کا کاروبار بھی متاثر ہوا۔ اس کے باجود پاکستان کی ریاست اور سماج نے افغان پناہ گزینوں کیساتھ کوئی تفریق روا نہیں رکھی۔ بہت سے پناہ گزینوں نے پاکستان کے شناختی کارڈ حاصل کئے، شادیاں کیں اور دونوں ملکوں میں کاروبار کا سلسلہ شروع کیا۔ خرابی اس وقت ہوئی جب طالبان اقتدار کے خاتمے کے بعد کابل میں پاکستان مخالف سوچ غالب آگئی اور اس سوچ کو امریکہ اور بھارت کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ کابل حکومت، امریکہ اور بھارت نے افغان مہاجرین کو ایک لیوریج کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ یہ افغان پناہ گزینوں پر سب سے بڑا ظلم ہوا جو کابل کے حکمرانوں نے ڈھایا۔ جس کے بعد پاکستان کو اپنے قوانین پر عمل کرکے پناہ گزینوں کے حوالے سے کچھ سخت فیصلے کرنا پڑے۔ افغانستان میں طالبان اور امریکہ ایک امن سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں جسکے بعد افغانستان میں امن کے آثار بھی پیدا ہو رہے تھے مگر افغان چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد تنازعہ ایک نیا رخ اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ امریکہ طالبان سمجھوتے کے بعد افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے امکانات معدوم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ افغان حکمرانوں کو اب پناہ گزینوں اور خود اپنے بے خانماں عوام پر رحم کرتے ہوئے بھارت کا دم چھلا بننے کی بجائے طالبان کیساتھ ایسا پائیدار سمجھوتہ کرنا چاہئے جس سے یہ ملک خانہ جنگی کے عذاب سے نکل آئے۔ پناہ گزینوں کی واپسی کی یہی ایک صورت باقی رہ گئی ہے۔ تب بھی جنہیں جانا ہوگا وہ جائیں گے باقی اپنے باپ دادا کی طرح اسی سرزمین کا رزق ہوجائیںگے کہ یہ بھی ایک تاریخ کا ایک رخ اور ایک اٹل حقیقت ہے۔