افغانستان میں امن آنے میں وقت لگے گا

امریکہ ابھی جن عسکری عناصر کے ساتھ امن مذاکرات کر رہا ہے ان میں بیشتر وہی ہیں جنھوں نے اسی امریکہ کی حمایت کے ساتھ روس کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ اس وقت انہی گروہوں نے”مقدس جنگجوؤں ”کے طور پر سرخ افواج کو امریکہ کے مہیا کردہ اسلحے سے نکال بھگایا تھا۔ مگر پھرتاریخ نے ایسا پلٹا کھایا کہ انہی میں سے اکثر نے اپنی بندوقوں کے منہ اپنے ہی سابقہ آقاوں کی جانب موڑ دیے۔ دوہا میں امریکہ سے مذاکرات کرنے والے اکثر طالبان رہنما بد نام زمانہ گوانتانامو بے کے قیدی رہ چکے ہیں۔ پچھلی دو دہائیوں سے افغانیوں نے صرف جنگ ہی دیکھی ہے اور اب بھی امن عمل میں اچھی خاصی پیش رفت کے باوجود یہاں امن قائم ہو نے کی بہت ہی کم امید باقی ہے اور افغانیوں کے دکھوں اور غموں کے اختتام کو ابھی وقت لگے گا۔ اس حوالے سے ایک بڑی پیش رفت یہ رہی کہ فریقین کچھ وقت کے لیے جنگ بندی پر راضی ہوگئے ہیں اور ممکن ہے کہ یہ معاہدہ مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ پر اگر ہم افغان مسئلے کی پیچیدگی پر غور کریں تو ہمیں ایک قابل عمل سیاسی حل کاحتمی ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہم امید کر سکتے ہیں کہ رواں ماہ کے آخر تک طالبان اور امریکہ میں ایک امن معاہدہ طے پا جائے گا جس سے بعد افغانستان کے اندرونی گروہو ںکے مابین مذاکرات کا آغاز ہوگا۔ یہ مذاکرات جو اگلے ماہ اوسلو میں ہونا متوقع ہیں،کا حتمی لائحہ عمل طے ہونا ابھی باقی ہے۔ اگرچہ اٹھارہ برس سے جاری اس جنگ کا اختتام کبھی اتنا قریب محسوس نہیں ہوا جتناکہ اب ہو رہا ہے مگر اس کازیادہ تر دارومدار افغانستان کے اندر طاقتور حلقوں کے آپسی مذاکرات پر ہے جو کہ انخلاء کے بعد اگلا اہم ترین مرحلہ ہوگا۔ فی الوقت افغانستان کی اندرونی سیاسی صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر ایسا ہوناخاصا دشوار محسوس ہوتا ہے۔ افغانستان میں طاقت کے مختلف مراکز کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کسی متفقہ سیاسی حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ کابل مذاکرات میں اشرف غنی کی حکومت کا ایک مضبوط پوزیشن سے شامل ہونا غیر یقینی ہے۔ خاص کر کہ تب جب حالیہ الیکشن میں ان کی فتح پر کئی خدشات پائے جاتے ہیں۔ ستمبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات ، جن میں دھاندلی کے بھرپور الزام لگائے گئے تھے، کے سرکاری نتائج کا اعلان گزشتہ رات ہی ہوااور انہیں عبداللہ عبداللہ کی جانب سے چیلنج بھی کیا جا چکا ہے۔ طاقت کی اس رسہ کشی میں یہ بات اب تک غیر حتمی ہے کہ آنے والے مذاکرا ت میںکابل حکومت کی نمایندگی کون کرے گا۔ جہاں ایک طرف صدر غنی ان مذاکرات کی صدارت کرنے کے خواہش مند ہیں، وہیں یہ مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہاہے کہ ان مذاکرات میں کوئی ایسا شخص حکومتی نمایندگی کرے جو اصل میں سب کا نمایندہ کہلانے کے لائق ہو۔ دوسری طرف طالبان مکمل طور پر متحد اورہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ عالمی سطح پر انہیں ملنے والی پذیرائی نے ان کے اعتماد کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان میں موجود کئی جنگجو سرپرست اور طاقت ور گروہوں کے طالبان کے ساتھ خفیہ معاہدوں کے بھی شواہد ملے ہیں جو نتیجتاً افغانستان حکومت کو مزید کمزور کر نے کا سبب بنیںگے۔ مزید برآں یہ سوال بھی اہمیت کا حامل ہے کہ کیا افغان طالبان امن مذاکرات کے مکمل ہونے تک جنگ بندی پر کاربند رہیں گے یا نہیں۔ ہم اس حوالے سے کچھ بھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک مستقل سیاسی حل کے حتمی نہ ہونے تک جنگ بندی پر کاربند رہنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا۔ افغان طالبان اب بھی اپنے ترپ کے پتے سینے سے لگائے کھڑے ہیں ۔ حالیہ واقعات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مذاکراتی عمل مزید پیچیدہ اور دیر تک لٹکنے جا رہا ہے۔ افغان طالبان اس لیے بھی فی الفور مستقل جنگ بندی کے لیے راضی نہیں ہورہے کہ ایک دفعہ اگر فدائی اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے تو انہیں دوبارہ یکجا اور متحرک کرنا نہایت مشکل ہو جائے گا۔ مختصر دورانیے کے لیے عسکری کاروائیوں میں تعطل ان فدائیوں کوکم از کم محاذوں پر کھڑا ضرور رکھتا ہے ۔ جنگ بندی سے قبل مسلح فریقین کے بیچ عسکری کاروائیاں خوب زوروں پر تھیں اور طالبان کی جانب سے شدید حملے کئی افغان فوجیوں کی جان لے چکے تھے۔ دوسری جانب امریکی بری اور فضائی جنگی بیڑوں نے بھی طالبان کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی تھی۔ ان کاروائیوں میں عام لوگوں کی شہادتوں کی خبریں بھی سامنے آئیں مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ فریقین دوہا میں معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے طے شدہ، انتیس تاریخ تک اس جنگ بندی پر کاربند رہتے ہیں یا نہیں۔ مجوزہ امن معاہدے کی شقوں میں ان پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی بھی شامل ہے جو امریکہ اور افغان حکومت کی جانب سے اس عرصہ میں گرفتار کیے گئے۔ ہمیں طالبان کی جانب سے بھی امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے مطالبے میں کچھ لچک دیکھنے کو مل رہی ہے۔ امریکہ افواج کا انخلاء معاہدے پر دستخط کے فوری بعد شروع ہو سکتا ہے البتہ مکمل انخلاء میں کئی ماہ کا عرصہ لگے گا۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ معاہدے کے بعد بھی امریکہ سکیورٹی ایجنسیاں القاعدہ اور دولت اسلامیہ کے باقی ماندہ شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ بلاشبہ امریکہ میںافغانستان سے افواج کے انخلاء سے متعلق مکمل حمایت پائی جاتی ہے کہ یہ ایک ایسی جنگ تھی جسے دنیا کی سپر پاور اپنی تمام تر عسکری طاقت اور وسائل کے باوجود بھی نہ جیت سکی۔اب بھی افغانستان میں مکمل امن کی بحالی اور دو دہائیوں تک متاثر کرنے والی امریکی موجودگی کو کلی طور پر ختم ہونے میں بہت عرصہ لگے گا البتہ دیر پا امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ تمام افغان دھڑے آپس میں کم از کم کسی معاہدے پر اتفاق رائے قائم کر لیں۔
(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)