المیوں سے د وچار مقبوضہ کشمیر

برطانوی پارلیمنٹ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیرکا پائیدار حل ہی خطے میں امن و سلامتی اور استحکام کی ضمانت ہے۔ بھارت کے جارحانہ اقدامات نے علاقائی و عالمی امن کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ عالمی برادری کا فرض ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کے خلاف بھارتی اقدامات کا نوٹس لے۔ برطانیہ کے آل پارٹیز کشمیر گروپ کے اراکین نے اس موقع پر کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔ وفد کی سربراہ ڈیبی براہم کا کہنا تھا کہ ہم ایک آزاد غیر جانبدار گروپ ہیں’ ہم پرو پاکستان یا اینٹی انڈیا نہیں بلکہ انسانی حقوق کے حامی ہیں۔ برطانوی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کی ابتر صورتحال اور بھارتی مظالم کے خلاف پاکستان عالمی برادری کو متوجہ کرنے کا فرض ادا کرتا رہے گا۔ مقبوضہ کشمیر کی افسوسناک صورتحال کے مشاہدے اور حقائق سے آگاہی کے لئے برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز کشمیر گروپ کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر جانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ امر واقع یہ ہے کہ عالمی برادری کا 5اگست کے بعد کی صورتحال پر ردعمل ضرورت سے کم رہا ہے جس کی وجہ سے بھارت کو ہمیشہ کی طرح کھل کھیلنے کا موقع ملا۔ پچھلے ساڑھے 6ماہ کے دوران بھارتی مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈائون جیسی صورتحال ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہزاروں فعال سیاسی و سماجی کارکنوں کو گرفتار کرکے دور دراز کی بھارتی جیلوں میں منتقل کردیاگیا ہے’ گھر گھر تلاشی کے دوران لگ بھگ 700افراد کو شہید کیا جاچکا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے سیاسی و سماجی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ گرفتار شدگان میں 500 خواتین اور طالبات بھی شامل ہیں۔ ان حالات میں برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز کشمیر گروپ کا دورہ بھارت و پاکستان خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بھارت قبل ازیں یورپی برادری میں بھارت کے لئے لابنگ کرنے والے یورپی پارلیمنٹ کے بعض ارکان کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کروا چکا ہے مگر اب مودی سرکار نے برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز کشمیر گروپ کو مقبوضہ کشمیر کے دورہ کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کے خیالات بجا طور پر درست ہیں۔ قبل ازیں پاکستان کے دوروں پر آئے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا کشمیری عوام کی امنگوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا ضروری ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم ہو۔ مقبوضہ کشمیر کو بھارتی ریاست کا باقاعدہ حصہ بنانے کے قانون کی منظوری کے بعد بھارت نے 5اگست 2019ء کو مزید ایک لاکھ فوجی کشمیر پہنچا دئیے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس وقت کشمیر دنیا کی سب سے بڑی جیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بنیادی حقوق سے محروم کشمیریوں کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت نے فوجی وردیوں میں ملبوس آر ایس ایس کے ہزاروں انتہا پسند کارکنوں کو مقبوضہ کشمیر پہنچا دیا ہے جہاں وہ پچھلے چھ ماہ سے امن و انسانیت دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ فوجی وردیوں میں آر ایس ایس کے غنڈے مقبوضہ کشمیر کی سابق حکمران پارٹیوں کے رہنمائوں اور دیگر آزادی پسندوں کے گھروں پر کھلے عام حملے کرتے پھرتے ہیں اور سیکورٹی فورسز انہیں تحفظ فراہم کر رہی ہے۔ حریت کانفرنس اور دیگر ذرائع پچھلے 6ماہ کے دوران 80ہزار افراد کی گرفتاری اور انہیں بھارت کے دور دراز کی جیلوں اور خصوصی طور پر قائم کئے گئے ٹارچر سیلوں میں منتقل کئے جانے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اس افسوسناک صورتحال پر عالمی برادری کے بڑوں کے چند رسمی بیانات مداوا نہیں بن سکتے۔ جیل میں تبدیل ہوئے مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔ سرکاری دفاتر میں معمول سے کم حاضریاں اور بڑے و چھوٹے کاروباری علاقوں کی بندش سے پیدا شدہ صورتحال سے کشمیری عوام جن عذابوں سے دوچار ہیں ان سے صرف نظر کرنا پاکستان کے لئے بہت مشکل ہے۔ برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز کشمیر گروپ کے دورہ بھارت و پاکستان سے یہ امید پیدا ہوچکی ہے کہ آنے والے دنوں میں دنیا کشمیر کی عمومی صورتحال اور بھارتی مظالم کی حقیقت سے بخوبی آگاہ ہو سکے گی۔ مقبوضہ کشمیر پر پاکستان کے موقف اور اقوام کی برادری کو پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر بھارتی حکومت یہ کہتی چلی آئی ہے کہ یہ پاکستان کا پروپیگنڈہ ہے لیکن برطانوی پارلیمنٹ کے آل پارٹیز کشمیر گروپ کے ارکان کو بھارت میں جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اس کی تردید کرنا مودی حکومت کے لئے بہت مشکل ہوگا۔ یہاں یہ عرض کرنا بھی از بس ضروری ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ساڑھے چھ ماہ سے جاری لاک ڈائون سے پیدا شدہ صورتحال’ مسائل اور عذابوں کا نوٹس لے۔ ایک کروڑ کے قریب کشمیری بھارت کی انسانیت دشمن پالیسیوں اور اقدامات کی بدولت جن حالات کا شکار ہیں ان کے تدارک کے لئے سنجیدہ کوششیں نہ ہوئیں تو بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھیانک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ بدھ کے روز بھارت سے ڈی پورٹ ہو کر پاکستان آئے برطانوی پارلیمانی وفد کو مختلف سطح پر تنازع کشمیر کے حوالے سے دی گئی بریفنگ نے بھارت کی مودی سرکار کے چہرے پر پڑے جمہوریت پسندی کے نقاب کو ہٹانے میں کردار ادا کیا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج اور فوجی وردیوں میں ملبوس آر ایس ایس کے غنڈے نازی جرمنی کے ہٹلر کی گسٹاپو جیسے مظالم ڈھانے میں مصروف ہیں’ ان حالات میں دنیا کو مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے کشمیریوں کے لئے آواز بلند کرنا ہوگی تاکہ ایک کروڑ کشمیری باشندے بھارت کے ظلم و جبر سے نجات حاصل کرسکیں۔