جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی کا قدرتی علاج

پیورائن والی غذائوں کومحدود کیجئے:

یورک ایسڈ کی وجہ بننے والی غذائوں کو محدود کرکے جسم سے یورک ایسڈ کو کم کیا جاسکتا ہے۔گوشت ،سی فوڈ اور سبزیوں میں پیورائن ہوتا ہے جب یہ ہضم ہوتی ہیں تو جسم میں یورک ایسڈ کوچھوڑدیتی ہیں۔
ان غذائوں کا استعمال ترک یا ان میںکمی ضرور کریں ۔
۔گوشت
۔مچھلی
۔مٹن
۔گوبھی
۔مٹر
۔خشک پھلیاں
۔مشرومشکر والی غذائیں اور مشروبات:

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء میں موجود اضافی شکرخاص کر فرکٹوس کورن سیرپ جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بڑھا سکتا ہے۔لہٰذا ڈبے میں پیک اشیاء کو خریدتے وقت ان کے اوپر لگا لیبل ضرور دیکھ لیں ۔اور ایسی غذائوں کا استعمال کم سے کم کریں ۔
اسی طر ح سوڈا ڈرنکس اورفروٹ جوس میں بھی فرکٹوس اور گلوکوز والی شکر موجود ہوتی ہے۔یہ شکر تیزی سے جذب ہوتی ہے اورخون میں شکر کی مقدار بڑھانے کے ساتھ یورک ایسڈکو بھی بڑھا دیتا ہے۔زیادہ پانی پیئیں :

زیادہ پانی پینے سے گردوں کو یورک ایسڈ تیزی کے ساتھ خارج کرنے میں مدد ملے گی۔ پانی کی بوتل ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی پیتے رہیں۔وزن کم کریں :

غذا کے ساتھ اضافی وزن بھی یورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے کیونکہ مسلز کے مقابلے میں فیٹس زیادہ یورک ایسڈ بناتے ہیں ۔اسی طرح زیادہ وزن کی وجہ سے بھی گردوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ۔جبکہ فوری طور پر وزن میں کمی یورک ایسڈ کے لیول پر مثبت اثر کرے گی۔
اس سلسلے میں غذا کے ماہر سے مشورہ کرکے اپنے لئے صحت بخش غذا کا انتخاب کریں۔جسم میں انسولین کو متوازن کریں :

اگر آپ شوگرکے مریض نہیں بھی ہیں تواپنا بلڈ شوگر لیول ضرور چیک کرائیں ،انسولین استعمال کرنے والے شوگر کے مریضوں میں بھی انسولین کا لیول زیادہ ہوسکتا ہے۔جسم میں انسولین کی زیادہ مقدار جسم میں یورک ایسڈ کو بڑھاتی ہے۔اپنی غذا میں زیادہ فائبر شامل کریں :

زیادہ فائبر کھانے سے بھی یورک ایسڈ کی زیادتی سے بچا جاسکتا ہے۔فائبر خون میں شکر اور انسولین کے لیول کو بھی کم کرتے ہیں۔فائبر کی وجہ سے زیادہ کھانے سے بچت رہتی ہے۔
اپنی روزانہ کی غذا میں 5 سے10 گرام فائبر ضرورشامل کریں۔
۔تازہ یا خشک پھل
۔تازہ سبزیاں
۔جوء
۔میوے

کیٹاگری میں : صحت