خیبر پختونخوا میں ہزاروں سال پرانی زبانیں معدوم ہوتی نظر آ رہی ہیں

پشاور(سپیشل رپورٹر) خیبر پختونخوا میں ہزاروں سال کی تاریخ رکھنے اور بولی جانیوالی زبانوں کی ثقافت اور شناخت بیرونی یلغار کے باعث معدوم ہوتی نظر آ رہی ہیں آج 21 فروری کو زبانوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے مگر گزشتہ 20 سال کے دوران صوبے میں بولی جانے والی دو زبانیںپدیشی اور گھاورو شناخت کھو چکی ہیں جبکہ ضلع مانسہرہ میں4سال قبل مانکیالی کے نام سے ایک اور زبان کی شناخت ہوئی ہے جس کے بولنے والوں کی تعدادصرف600ہے چھوٹی زبانوں کی ترویج اور شناخت کو بچانے کیلئے حکومتی سطح پر کوئی سرپرستی نہیں ہے صوبے میںاس وقت23 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سب سے زیادہ20 زبانیں صرف ملاکنڈ ڈویژن میں بولی جاتی ہیں اور سب سے زیادہ12زبانیں اپر اور لوئر چترال میں بولی جاتی ہیں شناخت کھو جانے والی زبانوں کی بنیادی وجہ بولنے والوںکی آبائی علاقوں سے دیگر شہروںکی طرف نقل مکانی، معاشرے میں احساس کمتری کی شکار اور نسل درنسل اپنی زبانوں کو اہمیت نہ دینا ہے صوبے میں پشتو، ہندکو، سرائیکی، توروال، کھوار، پلولہ، دمیلی، شیخان، کلاشہ، گوارباتی ، گوجری، مدک لشٹی، واخی، یدغا، مانکیالی سمیت دیگر زبانیں بولی جاتی ہیں صوبے میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پشتو ہے4 سال قبل تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ مانسہرہ میں مانکیاری زبان دریافت ہوئی ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد صرف 600ہے ایک ہزار سال قبل افغانستان کے صوبے کنڑ اور لغمان سے لیکر کشمیر کے علاقے لداخ تک کافرستان پر مشتمل علاقے میں آباد کیلاش قوم کی تعدادکم ہو کر محض4ہزار رہ گئی اور آہستہ آہستہ ہزاروں سال پرانی زبانیں معدوم ہوتی جارہی ہیں آبائو و اجداد کے جانے کے بعد چھوٹی زبانوں کے نسل درنسل منتقل ہونے کے باوجود نئی نسل اپنی زبانوں کو اہمیت نہیں دے رہی جس کی وجہ سے آئندہ چند سال میں صوبے میں بولی جانے والی مزید کئی زبانیں معدوم ہوتی جارہی ہیں۔