شام میں روس کے ساتھ کشیدگی، ترکی امریکا سے پیٹریاٹ میزائل حاصل کرے گا

شام کے علاقے ادلب میں روس کے ساتھ پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد ترکی نے ایک بار پھر امریکا کے ساتھ قربت اختیار کرنا شروع کردی ہے۔ ترک وزیر دفاع خلوصی آکار نے کہا ہے کہ انقرہ نے ادلب میں ترکی کی قائم کردہ مانیٹرنگ چوکیاں ہٹانے کی روسی درخواست مسترد کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پرہم امریکا سے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خرید کریں گے۔توقع ہے کہ واشنگٹن انقرہ کو یہ میزائل سسٹم فراہم کرے گا۔

آکار نے ‘سی این این’ ترک ٹیلی ویژن کو دیے گئے انٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ ترکی اور روس ادلب میں شام کی فضائی حدود کے استعمال پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں اور زمین پر ترک اور روسی عہدے داروں کے مثبت بات چیت ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ادلب میں روسی افواج کے ساتھ محاذ آرائی کا ارادہ نہیں رکھتا لیکن اس کا واحد مقصد ادلب میں امن کا قیام ہے۔ اگر شام میں روس جانب داری کا مظاہرہ کرتا ہے تو بحران پر قابو پانے کے لیے ترکی کو اپنی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی۔

خلوصی آکار نے مزید کہا کہ پیٹریاٹ سسٹم کو خریدنے کے لیے امریکا کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور واشنگٹن ہمیں ادلب میں استعمال کے لیے پیٹریاٹ ڈیفنس سسٹم فراہم کرسکتا ہے۔

ادھر محاذ جنگ پر جُمعرات کے روز شام کے شہر ادلب میں فضائی حملوں سے دو ترک فوجی ہلاک ہوگئے۔ فوری رد عمل میں انقرہ نے شامی حکومت کو اس حادثے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

ترکی نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ شام کی حکومت کی وفادار فوج کی طرف سے شمال مغربی شہر ادلب کے قریب کیے گئے فضائی حملوں میں 2 ترک فوجی ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔ ترک حکام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں شام کے 50 فوجیوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔

اس حملے سے ایک روز قبل ترک صدر رجب طیب اردوآن نے ادلب میں ترک فوج پر کسی بھی حملے کے بارے میں متنبہ کیا تھا۔