وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی

اسلام آباد :کل کابینہ اجلاس میں اٹارنی جنرل کی استعفے کی تفصیلات بتائی گئیں، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں مہنگائی،بجٹ رپورٹ اور ٹیکس محصولات پر طویل بات چیت.

وفاقی کابینہ کا ایک اور اجلاس،اتحادی وزراء نہ آئے ،وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اتحادی وزرا مسلسل غیر حاضر ، ق لیگ کے طارق بشیر چیمہ اور ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی اجلاس میں شریک نہ ہو سکے .خالد مقبول صدیقی کراچی میں اور طارق بشیر چیمہ بہاولپور میں تھے ، وزیراعظم نے کابینہ اجلاس میں خالد مقبول صدیقی کا پھر پوچھا.

وزیر اعظم عمران خان نے اجلاس سے کہا کے عوام کا بہت احساس ہے، اب عوام کو حکومتی فیصلوں سے ریلیف نظر آئے گا، عوام پر نئے ٹیکسوں کا بوجھ بھی نہیں ڈالاجائے گا. وزیر اعظم کا معاشی ٹیم کو ساڑھے پانچ ٹرین ارب ٹیکس ہدف بروقت پورا کرنے کا بھی ہدف.

کابینہ اجلاس میں وفاقی وزراء نے بھی مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے تجاویز دیں.مہنگائی کے خلاف وزیر اعظم اور کابینہ ارکان میں ایکا،عوام کو ریلیف دینے کا مشترکہ عزم.

اب گیس مہنگی ہوگی نہ بجلی، وزیر اعظم کابینہ میں اپنی پالیسی بتادی.گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا، کابینہ ارکان نے بھی اتفاق کرلیا.

اشیاء خوردونوش کی قیمتیں بھی نہیں بڑھیں گی کابینہ میں فیصلہ، پیاز، ٹماٹر، آلو اور ضروری سبزیوں کی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے گا.آٹا،چاول ،دالیں ،چینی اور گھی کی قیمتیں کنٹرول میں رکھنے کے لئے موثر حکمت عملی تیار کابینہ کو بریفنگ.