چینی کی قیمتوں میں اضافے کا معاملہ وزیراعظم عمران خان نے تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی

اسلام آباد : تفصیلات کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے کمیٹی کے کنوینر ہوں گے، آئی بی کا نمائندہ اور ڈی جی اینٹی کرپشن پنجاب کمیٹی میں شامل.
ڈی جی ایف آئی اے بطور کنوینر کسی بھی ممبر کو کمیٹی میں شامل کرنے کے مجاز، وزیرِاعظم آفس کی جانب سے انکوائری کمیٹی کو سوالات بھی بھجوادیئے گئے. جن کی تفصیل کچھ اس طرح ہیں

سوال: کیا اس سال چینی کی پیداوار پچھلے سال کے مقابلے میں کم تھی؟

سوال: کیا کم پیداوار چینی کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بنی؟

سوال: کیا حکومت کی جانب سے مقرر کی جانے والی گنے کی قیمت کافی تھی؟

سوال: کیا شوگر ملز نے مقررہ قیمت سے زیادہ قیمت پر گنے کی خریداری کی؟

سوال: اگر گنے کی مہنگی خریداری تو کن وجوہات کی بنیاد پر کی؟

سوال : شوگر ملز کی جانب سے کسانوں سے کچھ ہفتوں کی محدود مدت کے لئے گنا نہ خریدنے کی کیاوجوہات تھیں؟

سوال: گنے کی قیمت کے چینی کی قیمت پر اثرات کیا پڑے؟

سوال: ایکس مل پرائس کے تعین کی بنیاد؟ ایکس مل پرائس میں اضافے کی وجوہات

سوال: کیا مل مالکان کی ملی بھگت، مارکیٹ میں مداخلت ہوئی ہے؟

سوال: چینی کی قیمتوں پر پیشگی معاہدوں کے اثرات اور کیا اس میں کوئی بدنیتی شامل تھی؟

سوال : کیا ایکس مل اور پرچون کے سطح پر چینی کے فروخت کے مارجن پچھلے سالوں کے مقابلے میں بڑھے یا نہیں بڑھے؟

سوال: اگر بڑھے ہیں تو کیوں اور اس سے کس نے فائدہ اٹھایا؟

سوال: ٹیکس میں اضافے کا چینی کی قیمت پر کتنا اثر پڑا؟

سوال: ایکس مل اور پرچون کی سطح پر کتنا اثر پڑا؟

سوال: ہول سیل اور ریٹیل کی سطح پر اور شوگر ملوں میں چینی کی ذخیرہ اندوزی، پچھلے سالوں کے مقابلے میں کتنی تھی؟

سوال: کیا چینی کی برآمد درست طریقے سے کی گئی تھی؟

سوال: چینی کی برآمد پر سبسڈی اور اسکے اثرات اور اس سے کون مستفید ہوئے؟

سوال: پرچون کی سطح پر چینی کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار درست تھا؟

سوال: چینی کی قیمت میں اضافے کے حوالے سے مختلف اسٹیک ہولڈرز کا کردار کیا تھا؟

کمیٹی حقائق کے تناظر میں ذمہ دار افراد، اداروں یا افسران کا تعین بھی کرے گی.کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ کیا کسی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش تو نہیں ہوئی کمیٹی مستقبل کے حوالے سے سفارشات بھی پیش کرے گی، وزیرِ اعظم آفس کا مراسلہ.