ہم نے انتظار کیا لیکن اب صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے : سراج الحق

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پریس کانفرنس میں مزید کہا کہ موجودہ پاکستان میں معاشی لحاظ سے سانس لینا بھی محال ہوگیا-حکومت کے 540 دن گزر گئے اس دوران ترقی کا پہیہ رک گیا ہے. 540 دنوں کچھ حکومت کے پیارے امیر جبکہ عوام غریب ہوگئی. آئی ایم ایف کے کہنے پر حکومت نے سود کی شرح 13.25 فیصد کردی. اس حکومت سے قبل سود کی شرح 7 فیصد تھی. موجودہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں 100 فیصد اضافہ کردیا. گیس کی قیمتوں میں 234 فیصد اضافہ ہوا.
امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ حکمران اور اپوزیشن دونوں سٹیٹس کو کا حصہ ہیں، ایک ہی در کے فقیر اور ملنگ ہیں. جماعت اسلامی نے مہنگائی کے خلاف کراچی تا چترال مہم کا اعلان کردیا ہے. پہلا جلسہ 23 فروری مینگورہ، دوسرا جلسہ لیہ میں ہوگا.
امیر جماعت اسلامی کا مزید کہنا تھا کہ ان ہاؤس تبدیلی مسئلے کا حل نہیں ہے، ہم چھانگا مانگا کی سیاست کے حامی نہیں. ان ہاؤس تبدیلی کا مطلب گھوڑوں کی قیمت میں اضافہ کرنا ہے جو ہم چاہتے نہیں. ہم مکمل اسلامی نظام کے حامی ہیں تبھی مسائل حل ہونگے. اسلامی نظام کی راہ میں رکاوٹ آئین نہیں یہ جاگیرداری، سرمایہ داری نظام ہے، عوام کو صحیح معنوں حق نمائندگی دی جائے. ان ہاؤس تبدیلی کی بجائے شفاف انتخابات سے مسئلہ حل ہوسکتا ہے.الیکشن سے پہلے شفاف نظام بنایا جانا ضروری ہے.