برطانوی اور چینی ماہرین کی سپرکپیسٹر کی خاص بات

ویب ڈسک : برطانوی اور چینی ماہرین نے مل کر ایک سُپرکپیسٹر بنایا ہے جو تیزی سے چارج ہوتا ہے اور اسی جسامت والے کسی بھی کپیسٹر کے مقابلے میں دس گنا زائد بجلی ذخیرہ کرسکتا ہے۔یونیورسٹی کالج لندن اور چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ماہرین نے ایک نئے قسم کے سپرکپیسٹرکے بارے میں اپنے تحقیقی رپورٹ جاری کی ہے۔ سپرکپیسٹر میں گرافین کی تہیں لگائی گئی ہیں اور ان کے درمیان فاصلہ کم کیا گیا ہے۔ اس طرح کپیسٹر میں توانائی کی کثافت یا انرجی ڈینسٹی بڑھ جاتی ہے۔ ڈیزائن میں گرافین کی سطح پر خاص انداز سے سوراخ بھی کاڑھے گئے ہیں۔

اس ڈیزائن کے تحت کپیسٹر کی صلاحیت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس وقت تیز چارجنگ کی جو بھی جدید ترین ٹیکنالوجیز موجود ہیں، وہ 5 سے 8 واٹ آور فی لیٹر توانائی جذب کرتی ہیں جبکہ نیا ڈیزائن 88 واٹ آور فی لیٹر تک توانائی جذب کرسکتا ہے اور اب تک کی تمام ایجادات میں یہ پہلا کاربن آلہ ہے جسے سب سے زیادہ توانائی تھامنے والا سپر کپیسٹر قرار دیا جاسکتا ہے۔

دوسری اہم خاصیت یہ ہے کہ اگر اس طریقے سے کوئی بیٹری تیار کی  جائے تو اس کی زندگی بہت طویل ہوگی یعنی 5000 مرتبہ چارج اور ری چارج ہونے کے باوجود 97 فیصد کارکردگی برقرار رہے گی۔ تصویر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ یہ کپیسٹر بہت لچک دار ہوگا اور موڑنے اور کھینچنے سے بھی اس پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

تاہم اسے بنانے والے انجینئروں نے کہا ہے کہ اب بھی اس کی منزل دور ہے اور اس کی تیاری میں کئی رکاٹیں حائل ہیں۔