امن معاہدہ،خلا ء کون پُر کرے گا؟

افغان قومی سلامتی کونسل کے ترجمان کے مطابق امریکہ اور طالبان کے درمیان ایک ہفتے تک تشدد میں کمی پر عمل 22فروری سے ہو چکا ہے۔دوسری جانب امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کیساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق29فروری کو امن معاہدے پر دستخط کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ امریکہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے طالبان کیساتھ امن معاہدے کیلئے مذاکرات کر رہا ہے جس کے تحت وہ طالبان کی جانب سے امن کی ضمانت کے عوض افغانستان سے اپنے ہزاروں فوجیوں کو نکال لے گا۔تشدد میں کمی کے عبوری معاہدے سے اشارہ ملے گا کہ طالبان اپنی فورسز پر کنٹرول کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ اس ممکنہ امن معاہدے سے قبل نیک نیتی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔ امن معاہدے کی صورت میں پینٹاگون اِس وقت افغانستان میں موجود اپنے12سے13ہزار فوجیوں میں سے نصف کو واپس وطن بلا لے گا۔اس سے قبل بھی امریکہ اور طالبان امن معاہدے کے قریب پہنچ چکے تھے تاہم آخری لمحات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ پرتشدد واقعات کو وجہ قرار دیکر اس سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔اب بھی ا س امر کا پورا امکان موجود ہے کہ اس مدت میں کوئی بڑا واقعہ رونما ہو۔ افغانستان کی خوں ریزی روکنے کی کوششیں پیچیدہ عمل ہے جو کسی بھی وقت ناکام ہو سکتی ہیں یا پھر اس سے بھی بدتر جیسا کہ ان کا کہنا ہے کہ متحارب گروپ اپنی افواج کی تشکیل نو اور جنگ کے میدان میں فائدہ حاصل کرنے کیلئے اس عمل کو استعمال کر سکتے ہیں۔ان تمام عوامل سے قطع نظرپاکستان کے نزدیک اہمیت کا حامل معاملہ یہ ہے کہ امن معاہدہ ہونے اور امریکی افواج کے انخلاء کے بعد جو خلاء پیدا ہونے جارہا ہے اسے کون پر کرے گا۔یہ خلاء اگر ایک سمجھوتے پر مبنی انتظام کے تحت افغان قوتیں ہی پر کر تی ہیں اور ان کو یہ خلا پر کرنے کا پورا موقع ملتا ہے اور تشدد یا طاقت کے بل بوتے پر اپنی جگہ بنانے کی بجائے پر امن طور پر خلا پر ہوتا ہے تو اس سے پڑوسی ممالک خاص طور پر پاکستان پرمنفی نہیں بلکہ مثبت اثرات پڑیں گے۔ خدشہ اس امر کا ہے کہ اسی خلا کو پر کرنے کیلئے ایک مرتبہ روس کے بعد امریکہ اور امریکہ کے بعد کوئی اور قوتیں اگر بالواسطہ طور پر آگے آتی ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے کسی گروپ کی سرپرستی کرتی ہیں تو افغانستان میں قیام امن اور استحکام امن کا خواب اھورا ہی رہنے کا خدشہ ہے۔ اس خلاء کو پر کرنے کیلئے امریکہ کا بھارت سے گٹھ جوڑ خارج از امکان امر نہیں جو افغانستان میں پاکستان مخالف لابی کی سرپرستی کر کے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال کر سکتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت میں اس حوالے سے کیا طے ہوتا ہے وہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام امن کیلئے اہم ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد کابل حکومت افغان طالبان اور دیگر گروپوں کے کرداروعمل سے ہی اس امر کا تعین ہوگا کہ وہ چالیس سال بعد اپنے ملک کو اغیار سے چھڑا کر مل بیٹھ کر اپنا ملک چلانے کا فیصلہ کرتے ہیں یا پھر کسی اور ملک کی گود میں بیٹھ کر افغانستان میں ایک اور محاذ کھولتے ہیں یا پھر جانے انجانے میں وہ اپنے ملک کو باہم محاذ آرائی کا شکار بنا کسی افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور داخلی استحکام کی منزل دور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔افغانوں کیلئے29فروری کا امن معاہدہ ان کی تاریخ کا اہم دن ہوگا جو ایک نئے افغانستان کا سبب بن سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس موقع کو پہلے کی طرح گنوانے کی غلطی نہ کریں۔ امریکہ نے اگر افغانستان میں بھارت کی سر پرستی کی غلطی کی تو یہ دنیا کو محفوظ بنانے کے اس دعوے اور افغانستان سے ان کے فوجوں کے انخلاء کے مقصد کی نفی ہوگی جس کے اثرات سے افغانستان میں موجودان کے عسکری اڈے بھی محفوظ نہیں ہوں گے۔
ایف اے ٹی ایف، خطرہ ابھی ٹلا نہیں
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو ادارے کی گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان کے27میں سے14نکات پر عمل درآمد کی پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔ ادارے نے کہا ہے کہ پاکستان جون تک دہشتگردی کی مالی معاونت روکنے، قانونی چارہ جوئی اور سزا کے حوالے سے واضح اقدامات کرے بصورت دیگر ایف اے ٹی ایف کارروائی کرے گا۔ پاکستان کو ایکشن پلان پر عمل درآمد جاری رکھتے ہوئے اپنی سٹریٹجک خامیوں کو دور کرنا ہو گا۔ ایف اے ٹی ایف نے کہا ہے کہ پاکستان کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے متعلقہ ادارے غیرقانونی طور پر رقوم کی منتقلی کیخلاف اقدامات کر رہے ہیں۔ پاکستان کو انسداد منی لانڈرنگ کیلئے سرحد پار کرنسی کی سمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات پر عمل درآمد بھی دکھانا ہوگا۔ واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو جون2018میں اپنی گرے لسٹ میں شامل کیا تھا۔ایف اے ٹی ایف کی جانب سے پاکستان پر مزید چھ ماہ کیلئے دبائو برقرار رکھنا اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے بعض ممالک خواہاں ہیں، بہرحال پاکستان کے اقدامات پر اظہار اطمینان اگرچہ ایک مثبت امر ہے لیکن ابھی پاکستان کو اپنی کارکردگی کے حوالے سے محتاط رہنے اور مزید اقدامات اور شرائط پوری کرنے کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان نے حال ہی میں جو عملی اقدامات کئے ہیں وہ اس دبائو کو کم کرنے کیلئے کافی مؤثر ضرور ثابت ہوئے اس کا دوسرا پہلو بہرحال یہ ہے کہ پاکستان اگر یہ اقدامات پہلے کر چکا ہوتا اورخود کو قابل اعتماد ثابت کرنے کی سعی کی جاتی تو دبائوکی نوعیت اس قدر سخت نہ ہوتی۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان پر دبائو اس وقت تک برقرار رکھا جائیگا جب تک وہ تمام شکوک وشبہات دور نہیں ہوتے اور وہ تمام اقدامات یقینی نہیں بنائے جاتے جو ایف اے ٹی ایف کو مطلوب ہیں ۔ہمارے دوست ممالک زیادہ سے زیادہ پاکستان کو خدانخواسہ بلیک لسٹ قرار دینے سے بچانے ہی میں کردار ادا کر سکتے ہیں باقی اقدامات پاکستان کو اُٹھانے ہوں گے۔بعض اقدامات اتنے پیچیدہ اور مشکل ہیں جس میں غیر مرئی قسم کے افعال تک رسائی اور روک تھام کی ضرورت ہوتی ہے اس طرح کے معاملات میں پاکستان کو تنہا چھوڑنے کی بجائے عالمی برادری کو اس کی اعانت کرنا ہوگی۔پاکستان کو اب اپنی پالیسیوں میں واضح تبدیلی کیساتھ ساتھ ایسے معاملات کو ہر گز برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنانا ہوگی جس کے باعث پاکستان کو گرے لسٹ میں ڈالا گیا تھا۔پاکستان کے گرے لسٹ ہی میں ہونے سے خطرہ ابھی ٹلا نہیں صرف پانی سر سے اونچا ہوا ہے اسلئے محتاط رہنے اور سنجیدہ اقدامات کی ضرورت کیساتھ ساتھ دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ ان کے شکوک وشبہات کی وجوہات کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں تاکہ ان کو اطمینان ہواور پاکستان گرے لسٹ سے نکل آئے۔