مادری زبانوں کا گنجل اور حل

اس موضوع پر بہت عرصہ پہلے بھی اظہار خیال کر چکا ہوں، شاید اتنا عرصہ پہلے کہ خود مجھے بھی یاد نہیں اپنے موقف کے حوالے سے کیا کیا دلائل دیئے تھے، اگرچہ جو لوگ اس ضمن میں مسلسل مطالبات کر رہے ہیں ان کی بات اصولی طور پر درست بھی ہے اور قابل توجہ بھی، مگر ایسا لگتا ہے کہ ان مطالبات میں سیاست کا پہلو بھی بہت نمایاں ہے، یعنی اگر ہم تھوڑی دیر کیلئے خیبرپختونخوا کے تناظر میں ان مطالبات کا جائزہ لیں تو ان میں سے کئی جماعتیں مختلف اوقات میں خود بھی برسراقتدار رہی ہیں تاہم جو مطالبات شدومد سے آج کئی جماعتیں کر رہی ہیں انہی مطالبات پر اپنے اپنے ادوار میں عمل درآمد سے یہی جماعتیں کنی کتراتی رہی ہیں۔ کہنے کا مقصد بس یہی ہے کہ اس مسئلے کو بھی ان لوگوں نے سیاسی نعرے بازی کیلئے ہی زندہ رکھا ہوا ہے، ہاںالبتہ سماجی حلقے جو اس ضمن میں ہمیشہ سرگرم رہی ہیں ان کے مطالبات کے حق میں آواز اُٹھانے کو سیاسی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ حالانکہ اس کیساتھ ایک اور مگر نہایت ہی نازک سا نکتہ جڑا ہوا ہے،جس کا ذکر آگے آئے گا، بہرحال پہلے اصل موضوع کا جائزہ لیتے ہیں جس پر اقوام متحدہ کی جانب سے سال میں ایک دن مقرر کئے جانے کے بعد ہر سال غوغا آرائی کی جاتی ہے اور یار لوگوں کو اسی دن حاضری لگوانے کا بھرپور موقع ملتا ہے، مسئلہ ہے مادری زبانوں کا، اقوام متحدہ دنیا بھر میں لوگوں میں یہ احساس اُجاگر کرتا ہے کہ بچوں کو مادری زبانوں میں ابتدائی تعلیم پڑھانے سے ان میں شعور اُجا گر ہوتا ہے، وہ آسانی سے آگے برھتے ہیں اور دنیا میں اپنا مقام متعین کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں، ہمارے ہاں مگر چند برس پہلے تک پرائمری سطح پر تو کیا، ہائی لیول سکولوں تک میں مادری زبانوں کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی تھی بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کم ازکم پشتو کی حد تک ذریعہ تعلیم کو رائج کرنے کو ”غداری اور ملک دشمنی” سمجھا جاتا رہا ہے، البتہ کالج کی سطح پر آکر پشتوکو ذریعہ تعلیم کے ایک مضمون کے طور پر تھوڑی بہت توجہ ضرور دی جاتی تھی، جبکہ پشتو کیساتھ ناروا سلوک پھر بھی عام سی بات تھی اور جو طالبعلم کالج میں پشتو زبان کو ایک اختیاری زبان کے طور پر پڑھتے تھے ان کو عجیب نظروں سے دیکھا جاتا تھا، بہرحال وقت گزرتا رہا اور پشاور یونیورسٹی میں نہ صرف اس زبان کے بارے میں قابل قدر تحقیق سے لوگ وابستہ ہوتے رہے بلکہ ایم اے کی سطح تک پوسٹ گریجویٹ کی کلاسوں میں طلباء کی تعداد بڑھتی رہی،دو اداروں پشتو ڈیپارٹمنٹ اور پشتو اکیڈمی کی پشتو زبان وادب کی ترویج وترقی میں قابل فخر خدمات ہیں، یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ریڈیو پاکستان (آل انڈیا ریڈیو کے دور سے) کے پشتو پروگراموں نے بھی(سٹریٹجک ضرورت کے تحت) پشتو کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، بعد میں پی ٹی وی نے بھی ایک خاص پالیسی کے تحت پشتو پروگراموں کو بڑھاوا دیا، یوں زبان تیزی سے ترقی کرتی گئی اور یہی وہ عوامل ہیں کہ اب پشتو کو ابتدائی سطح پر ذریعہ تعلیم بنانے کے مطالبات اکثر وبیشتر سامنے آرہے ہیں، جبکہ مادری زبانوں کے عالمی دن پر تو پورے پاکستان میں تمام ماہ بولیوں کی ترقی وترویج کے مطالبات زور پکڑنے لگتے ہیں، انگریزی کا ایک مقولہ ہے کہ اگر خواہشات گھوڑے ہوتے تو لوگ ان پر سواری کرتے، مگر ایسا نہیں ہے اور اس کی وجوہات یہ ہیں کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں لاتعداد زبانیں بولی جاتی ہیں خود خیبر پختونخوا میں ایسی زبانیں بھی ہیں جن میں سے کچھ کو معدومیت کا خطرہ ہے اور ان پر توجہ دینے سے نہ صرف ان کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ ان کو ترقی سے بھی ہمکنار کیا جا سکتا ہے، اسلئے اگر دیکھا جائے تو مادری زبانوں میں ذریعہ تعلیم کو رائج کرنا ایک انتہائی کٹھن کام ہے، پھر بھی اگر بڑی بڑی زبانوں ہی کو تعلیم کیلئے چنا جائے تو کم ازکم تین چار ایسی زبانیں یا بولیاں ضرور سامنے آتی ہیں جن کو ابتدائی تعلیم کیلئے چننے سے ان پر اُٹھنے والے اخراجات صوبائی وزارت تعلیم کے بجٹ کو مشکلات سے دوچار کر سکتی ہیں۔
زیادہ دور جانے کی بھی ضرورت نہیںصرف صوبائی دارالحکومت پشاور ہی کو لے لیں،وہی پشاور جسے شہرہفت زبان کہا جاتا ہے، اسی شہر میں پشتو کیساتھ ساتھ ہندکو، فارسی، چترالی، سرائیکی اور ہزارے والی ہندکو بھی بولی جاتی ہے یعنی مادری زبانوں کے حوالے سے تقسیم کئی علاقے مختلف النوع زبانوں کی آماجگاہ ہیں، اسلئے اگر تجرباتی طور پر ہی سہی صرف پشاور ہی کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر منتخب کر کے عملی اقدامات اُٹھائے جائیں تو لگ بھگ ہر پرائمری سکول میں ایک کلاس یعنی طلبہ کو مختلف ٹولیوں میں تقسیم کر کے انہیں مادری زبانوں سے آشنا کرنے کی ضرورت پڑے گی اور اگر جو لوگ صرف کسی ایک مخصوص زبان ہی کو پوری آبادی پر مسلط کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو ان کی یہ سوچ یقینا دوسری زبانیں بولنے والوں کیساتھ تعصب کے زمرے میں شامل ہوگی، یہ بات واضح ہے کہ پشتو کے بعد اب ہندکو زبان (بشمول سرائیکی اور ہزارے والی ہندکو) میں بھی کتابیں تیزی سے چھپ رہی ہیں جبکہ صوبائی سطح پر دیگر زبانوں میں ابتدائی تعلیم کے حوالے سے نصاب ترتیب دینے پر بھی کچھ عرصہ پہلے بہت عمدہ کام ہوا تھا، مگر اس کا کیا بنا؟ معلوم نہیں، اور جس بات کی جانب کالم میں اشارہ کیا تھا کہ ذکر آگے چل کر آئے گا تو وہ یہ کہ مادری زبانوں کا غم کھانے والوں کا ان محنت کش بچوں کے بارے میں کیا نظریہ ہے جو سرے سے ہی تعلیم سے محروم ہیں یعنی دیگر جگہوں پر زندگی کی گاڑی چلانے کیلئے رزق کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں، یہاں تک کہ گندگی کے ڈھیروں اور نالیوں سے ”کام” کی چیزیں اکٹھی کر کے اپنے والدین کی مدد کرتے ہیں، ان کو مادری زبانوں میں تعلیم سے زیادہ صرف تعلیم کی کتنی حاجت ہے یہ بھی بہت بڑا سوال ہے، بقول سعید احمد اختر
بلانے اپنے بچوں کو دعا دی
خدامحفوظ رکھے ہر بشر سے