وہی دنیا وہی فتنے یہاں کچھ بھی نہیں بدلا

عادت تو بظاہر ایک چھوٹا سا لفظ ہے مگر اس کا ہماری شخصیت پر بڑاگہرا اثر ہوتا ہے، یہ ہمارے بنانے اور بگاڑنے میں بڑا اہم کردار ادا کرتی ہے، اس کی وجہ سے کامیابیاں ہمارے قدم چومتی ہیں اور اسی کی وجہ سے ہم ناکام ونامراد بھی ہوجاتے ہیں۔ اچھی عادات ہمیں اپنے ماحول سے بھی ملتی ہیں ہمارے جینز میں بھی شامل ہوتی ہیں اور انہیں اپنایا بھی جاسکتا ہے۔ جہاں کتاب کے مطالعے پر ہمیشہ زور دیا جاتا ہے وہاں اپنے اردگرد بکھرے ہوئے انسانوں کا مطالعہ بھی کرتے رہنا چاہئے۔ کہتے ہیں انسان کا بہترین مطالعہ انسان ہے، اچھے انسانوں کی اچھی عادات کو اپنانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اسی طرح برے انسانوں کی بری عادات سے بچنا بھی شخصیت کی تعمیر کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس حوالے سے اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے، اگر آپ اپنی عادات دوسروں کو نہیں بتا سکتے تو پھر انہیں خاموشی سے ترک کردیں۔ عادات کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عادتیں شروع میں کچے دھاگے کی طرح ہوتی ہیں لیکن پھر جیسے جیسے وقت گزرتا چلا جاتا ہے یہ لوہے کی زنجیریں بن جاتی ہیں اور پھر انہیں توڑنا بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب لوگ اپنی عادات کے قیدی بن جاتے ہیں، فارسی میں کہتے ہیں کہ بری عادت قبر تک انسان کیساتھ رہتی ہے اور سب کچھ رخصت ہوجاتا ہے مگر بری عادت انسان کی جان نہیں چھوڑتی۔ غالباً یہ ان پرانی عادات کے حوالے سے کہا جاتا ہے جو ہماری طبیعت ثانیہ بن جاتی ہیں، یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوتی ہیں، ان کی مثال اس کمبل جیسی ہوتی ہے جسے آپ تو چھوڑنا چاہتے ہیں لیکن وہ آپ کو نہیں چھوڑتا! اچھی اور بری عادات کا اسی وقت پتہ چلتا ہے جب اس حوالے سے سوچا جائے اپنے آپ سے مکالمہ کیا جائے، یہ بھی ذہن میں رہے کہ بری عادت کو چھوڑنا اتنا آسان نہیں ہوتا! مشہور مفکر لاؤزے کا کہنا ہے کہ ”اپنے خیالات پر نظر رکھنی چاہئے یہ آپ کے الفاظ بن جاتے ہیں، اپنے الفاظ پر غور کرتے رہو یہ آپ کے اعمال بن جاتے ہیں، اپنے اعمال کی جانچ پڑتال کرتے رہو یہ آپ کی عادت بن جاتے ہیں، اپنی عادات پر گہری نظر رکھو یہ آپ کا کردار بن جاتی ہیں اور کردار ہی آپ کی شخصیت ہے جس نے بعد میں آپ کا نصیب بننا ہوتا ہے” اچھی صحبت پر اسی لئے زور دیا جاتا ہے کہ یہ آپ کی پہچان بن جاتی ہے آپ جن لوگوں میں اُٹھتے بیٹھتے ہیں ان کی عادات کا تھوڑا بہت اثر آپ کی شخصیت پر ضرور پڑتا ہے، مولانا روم فرماتے ہیں ”صحبت صالح ترا صالح کند۔ صحبت طالح ترا طالح کند۔ (نیک لوگوں کی صحبت نیک بناتی ہے اور برے لوگوں کی صحبت برا بنا دیتی ہے) آج کل تبدیلی کا لفظ بہت زیادہ استعمال ہو رہا ہے تبدیلی بھی اسی وقت آتی ہے جب عادتیں تبدیل ہوجاتی ہیں، جب تک عادات تبدیل نہیں ہوتیں تبدیلی کیسے آسکتی ہے؟ زبانی کلامی دعوے کرنا اور بات ہے اور سچ مچ کی تبدیلی لانے کیلئے سب سے پہلے اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑتا ہے جو یقینا ایک مشکل امر ہے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بننے سے پہلے بڑی شاہانہ زندگی گزارتے تھے بہترین لباس پہنتے تھے، طرح طرح کے بیش قیمت عطر استعمال کرتے تھے لیکن جب وہ خلیفہ بنے تو انہوں نے اپنی پرانی عادات کو ترک کردیا۔ اب سادہ لباس، سادہ کھانا، سادہ طرز زندگی ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگیا، عادات بدلتے ہی ان کی زندگی تبدیل ہوگئی، عادات کی یہی تبدیلی انسانی زندگی میں بہت بڑے انقلاب کا سبب بنا کرتی ہے۔ ہمارے یہاں دنیا کے مشہور ومعروف رہنماؤں کا نام تو بہت لیا جاتا ہے لیکن ہمارے حکمران طبقے کو کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ ان کو عظیم بنانے والی ان کی عادات ہیں ان کا کردار ہے۔ وطن عزیز میں گفتار کے غازی تو بہت نظر آتے ہیں لیکن کردار کا غازی ناپید ہے:
دنیا وہی فتنے وہی کچھ بھی یہاں بدلا نہیں
بندے وہی جھگڑے وہی کچھ بھی یہاں بدلا نہیں
عادت ہم سے کہتی کیا ہے اس پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں: ”مجھے ناکامی اور کامیابی سے کوئی فرق نہیں پڑتا، میرے اچھے اور برے نتائج کا خمیازہ آپ کو بھگتنا پڑتا ہے بس مجھے آپ نے قابو کرنا ہے، اپنے اختیار میں لینا ہے، میری تربیت کرنی ہے، مجھے بہت سی باتیں سکھانی ہیں اور یاد رکھئے میرے ساتھ نرمی کا مظاہرہ نہیں کرنا، میرے اوپر ہمیشہ نظر رکھنی ہے، اگر میں راہ راست سے بھٹکنے کی کوشش کروں تو مجھے سخت سے سخت سزا دینی ہے۔ اگر یہ سب کچھ آپ کرسکے تو پھر یاد رکھئے میں دنیا کو آپ کو مطیع کردوں گی، آپ دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال سکیں گے، دنیا آپ کے اشاروں پر ناچے گی، لوگ آپ پر رشک کریں گے اور آپ جیسا بننے کی کوشش کریں گے۔ لوگ آپ کی کامیابی پر حیران ہوں گے لیکن وہ اس بات سے بے خبر ہوں گے کہ آپ کی ترقی، کامیابی وکامرانی میں میرا ہاتھ ہے، میری وجہ سے ہی آپ نے حیران کن کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اگر میرے ساتھ ذرا سا نرمی کا سلوک کیا میرا کہنا مانا اور میری خواہشات کے پیچھے چل پڑے میری ہر بات پر لبیک کہا تو پھر مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کو تباہ وبرباد کردوں گی، آپ دنیا سے منہ چھپاتے پھریں گے لیکن آپ کو کوئی پناہ گاہ میسر نہیں آئے گی، اس وقت لوگوں کو نصیحت کرنا آپ کا شیوہ ہوگا لیکن آپ کی باتوں پر کوئی بھی توجہ نہیں دے گا کیونکہ ناکام انسان کی باتیں لوگوں کیلئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں!۔