وہ بازی ہار گئے یا جیت

تاریخ بتاتی ہے کہ درانیوں کا دور بڑا ہنگامہ خیز گزرا ہے لیکن دورِ نیازی بھی کم ہنگامہ خیز نہیں جا رہا ہے۔ ایک بحران جاتا ہے تو دوسرا آن کھڑا ہوتا ہے، اب معلوم نہیںکہ عمران اور بحران ہم قوافی ہیں یا ہم قوالی ہیں اس پر تو کوئی ادیب وشاعر ہی نظر ڈال سکتا ہے، گزشتہ چند روز سے سابق اٹارنی جنر ل کے یکایک منہ سے جھڑے الفاظ سے نہ صرف قانون دانوں کے حلقوں میں بھونچال آیا بلکہ ساری دنیا بھی ورطۂ حیرت کا شکار رہ گئی۔ اتنا بڑا الزام نہ کبھی پہلے لگا جو اب لگا دیا گیا، جسٹس فائز عیسی کے کیس میں جب سابق اٹارنی جنرل انور منصور پیش ہوئے تو انہوں نے اپنے دلائل کے دوران کہہ دیا کہ کیس کی تیاری میں بنچ میں موجود بعض ججز نے قاضی فائز عیسیٰ کی مدد کی ہے، یہ الفاظ سن کر کمرۂ عدالت میں سب ہکا بکا رہ گئے، یہ الزام انور منصور نے کیوں لگایا اور جب ان سے فوراً ان الزامات کی واپسی کیلئے کہا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنے کہے سے دستبردار ہونے کو تیار ہیں مگر جو انہوں نے کہنا تھا وہ کہہ دیا۔ باہر ایک بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی، اس کے بعد کیا ہوا وہ سب میڈیا میں آچکا ہے۔ جب انور منصور نے عدلیہ پر الزام عائد کیا تھا تو اس وقت غیرقانونی اثاثہ جات کی ریکوری کے معاون خصوصی شہزاد اکبر اور وفاقی وزیر قانون نسیم فروغ بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھے، دونوں میں سے کسی نے بھی وفاق کی طرف سے فوری طور پر لاتعلقی کا اظہار نہیں کیا، جب یہ دونو ں معززین کمرۂ عدالت سے باہر آئے تو ان سے حکومتی مؤقف معلوم کرنے کیلئے صحافیوں نے استفسار کیا تو انہوں نے حکومت کا مؤقف تو بیان نہ کیا البتہ یہ کہا کہ عدالت میں بیان اٹارنی جنرل نے دیا ہے اس لئے انہی سے پوچھا جائے۔ انور منصور ایک سینئر قانون دان ہیں مگر بحیثیت اٹارنی جنرل ان کا جو رویہ رہا ہے وہ ایک ماہر اور پیشہ ور قانون دان کا نہیں بلکہ ایک سیاسی فریق کا رہا ہے کیونکہ وہ اکثر بعض معاملات پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بھی پائے گئے ہیں۔ دوسرے اٹارنی جنرل وفاق کا نمائندہ ہوتا ہے اور جب وہ عدلیہ میں پیش ہوتا ہے تو وہ وفاق کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے مگر ان کا رویہ ہمیشہ ایک سوالیہ نشان رہا ہے۔ مثلاً جب سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو خصوصی عدالت کی جانب سے سزا سنائی گئی تو انہوں نے پریس کانفرنس کا انعقاد کر کے کہا کہ جسٹس وقار سیٹھ کا دماغی توازن درست نہیں ہے جس کا علاج کرایا جانا چاہئے کیا اٹارنی جنرل کو ایسا رویہ اختیار کرنا زیب دیتا ہے اور یہ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اس موقع پر مجرم پرویز مشرف کی یا وفاق پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے، اب نیا شوشا چھوڑ دیا اور ایک ہلچل مچا دی جس میں حکو مت اور خود ان کی سبکی ہوئی۔ بعض حلقوں کا کہنا یہ ہے کہ گزشتہ آٹھ نو ماہ سے جسٹس قاضی فائز عیسی کا کیس چل رہا ہے اور قاضی صاحب کے وکلاء اپنے زبانی وتحریری دلائل عدالت کے سامنے پیش کر چکے ہیں اب ان کی باری تھی مگر یہ محسوس کیا جارہا تھا کہ ان کے پا س دلائل نام کی کوئی شے نہیں ہے اور یہ وقت کو لمبا کھینچ رہے ہیں چونکہ یہ دباؤ سے کا م لیتے ہیں چنانچہ انہوں نے عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے یہ لنگر ڈالا کہ ایک ہلچل پیدا کر دی جائے اور یہ بنچ مقدمے کی سماعت سے انکار کر دے مگر یہ حربہ کامیاب نہ ہو سکا اور اُلٹا گلے پڑ گیا، اب توجہ ہٹانے کی غرض سے یہ بحث چھڑی جا رہی ہے کہ انور منصور خود مستعفی ہوئے ہیں یا ان سے استعفیٰ لیا گیا ہے حالانکہ یہ بحث ہے ہی فضول کہ استعفیٰ کس نے دیا یا کس نے لیا، اب انور منصور نے جو الزام لگایا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انتظامیہ ججز کی نگرانی کرتی ہے اور ان کی چھان بین رکھتی ہے گویا انور منصور نے یہ ثابت کر دیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں جو اپیل دائر کی ہے وہ حقیقت رکھتی ہے اور ان کا مؤقف درست ہے۔ علاوہ ازیں ایک نجی ٹی وی کی اینکر پرسن کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انور منصور سے جب یہ پوچھا گیا کہ ان کو یہ معلومات کہاں سے ملیں تو انہوں نے بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی سے جس کا مطلب یہ ہے کہ اٹارنی جنرل کو مواد فراہم کرنے کی ذمہ داری وزارت قانون کی ہوتی ہے اور مجاز اتھارٹی وہ ہی قرار پاتی ہے اس سوال پر کہ ان کو کس کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ عدالت میں یہ معلومات پیش کر دی جائیں تو انور منصور کا کہنا تھا کہ ہدایت کا مطلب کیا، کوئی باقاعدہ آرڈر تو نہیں دیا جاتا ہے مواد اس لئے تو فراہم نہیںکیا جاتا ہے اس کی لائبریری بنا دی جائے ضرورت پر اس کو استعمال میں لایا جاتا ہے انور منصور کے اس بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کو مواد اسی غرض سے فراہم کیا گیا تھا، بہرحال اس سارے جھنجھٹ میں انور منصور قربانی کا بکرا بن گئے یا بنا دئیے گئے اب کیا ہوگا اس بارے میں حتمی رائے تو قائم نہیں کی جا سکتی، تاہم نئے اٹارنی جنرل کی تقرری کی خبر بھی آگئی ہے نئے اٹارنی جنرل کیلئے چھ کے لگ بھگ قانون دانوں کو پیشکش کی گئی تھی ان میں نعیم بخاری بھی شامل ہیں مگر خالد جاوید نے اس پیشکش کو قبول کر لیا ہے ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری ہو جائے گا، دلچسپ امر یہ ہے کہ عمران خان کی ٹیم میں بڑی تعداد یا تو پرویز مشرف یا پھر پی پی سے متعلق افراد کی ہے، خالد جاوید پی پی کے ایک مرکزی رہنماء پروفیسر این ڈی خان کے فرزند ارجمند ہیں، این ڈی خان ماضی میں پی پی کی کابینہ میں وزیر رہ چکے ہیں، خالد جاوید سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں ان کے مشیر بھی رہے ہیں، ساتھ ہی اٹارنی جنرل کے دفتر میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، علاوہ ازیں1995 میں نجکاری کمیشن کے رکن بھی رہے ہیں جبکہ2013 میں سندھ حکومت کے ایڈووکیٹ جنرل کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے عدالت عظمیٰ سے اس کیس میں تین ہفتے کے التواء کی درخواست کی ہے کیونکہ نئے اٹارنی جنرل کو کیس کا مطالعہ کرنے کیلئے وقت درکار ہے، پی ٹی آئی کے حلقے کہہ رہ ہیں کہ جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس میں شاید حکومت کیس واپس لے لے اس بات کا امکان پایا جاتا ہے۔