ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوار اور تین کردار

آج کی دنیا اور بین الاقوامی نظام تضادات کا مجموعہ اور ملغوبہ ہے۔ اس میں کچھ اصطلاحات کی مثال اُردو کے محاورے ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور” کی ہے۔ انسانی حقوق کی اصطلاح کا ایک مقام پر ایک مفہوم ہوتا ہے اور دوسرے مقام پر یہ معانی کلی طور پر بدل جاتی ہے۔ بالکل یہی حال دہشتگردی کی اصطلاح کا ہے۔ ایک جگہ یہ عمل غنڈہ گردی قرار پاتا ہے اور دوسرے مقام پر اسی کو دہشتگردی کا نام دیا جاتا ہے۔ گویا کہ ان اصطلاحات کے دومفہوم انہیں ماپنے کے دو پیمانے اور دیکھنے کی دو عینکیں ہیں۔ یہ اصطلاحات سیاست کی ملمع کاری سے آراستہ اور مزین ہیں۔ انسان بھی وہی ہوتے ہیں ان کے حقوق بھی بین الاقوامی قانون کے تحت وہی ہوتے ہیں مگر جب ان حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو پھر چہرے، مہرے اور وضع قطع اور نام ونسب دیکھ کر فیصلے ہوتے ہیں۔ کہیں بین الاقوامی قانون حرکت میں آتا ہے، رات کی رات قراردادیں پاس ہوتی ہیں اور کارروائی کا آغاز ہوجاتا ہے، کہیں انسان مچھر مکھیوں سے بھی کم تر حیثیت کے حامل ہوتے ہیں مگر بین الاقوامی قانون خواب خرگوش کے مزے لیتا ہے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) بھی دوہرے کردار اور معیار اور ذومعنی اصطلاحات کا حامل ایک ادارہ ہے۔ فی زمانہ یہ ادارہ معتوب ملکوں کی کلائی مروڑنے کا ایک نیا انداز ہے۔ ناپسندیدہ ملکوں کو بدنامی کا چلتا پھرتا اشتہار بنانا ہو تو ایف اے ٹی ایف ان پر بلیک لسٹ ہونے کا سٹکر چسپاں کر دیتا ہے۔ پاکستان کے بیتے ہوئے دو عشرے بہت کڑے اورسخت گزرے ہیں۔ اس عرصے میں پاکستان کے پہلو میں ایک ”گریٹ گیم ” جاری رہی۔ افغانستان اس خونیں کھیل کا میدان تھا۔ اس عرصے میں پاکستان کو دہشتگردی کے نام پر دنیا بھر میں بدنامی کا اشتہار بنا کر رکھ دیا گیا۔ ایک وقت وہ بھی آیا جب امریکہ کے شہرہ آفاق میگزین ”نیوویک” نے اپنی ٹائٹل سٹوری میں پاکستان کو دنیا کا خطرناک ترین ملک قرار دیا۔ ہر گزرتے دن کیساتھ پاکستان اس دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا۔ کچھ عالمی مہربانیاں بھی تھیں کچھ ہر دور اور تاریخ کے ہر موڑ پر ناقص پالیسیوں کی صورت ”تجربات” اور ”ایجادات” کی ہماری آتش شوق بھی مسلسل بھڑکتی رہی ہے کہ جو پاکستان کو دنیا میں یکا وتنہا کرنے کا باعث بنتی رہی ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو شمالی کوریا اور ایران کیساتھ بدنامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا راستہ اپنایا۔ شمالی کوریا اور ایران کی طرح پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کے ریڈار پر ڈالنے کے اس فیصلے کے پیچھے سیاسی مقاصد کی موجودگی سے انکار ممکن نہیں۔ یہ خیریت گزری کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالا گیا۔ اب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے اور بھارت اسے مسلسل بلیک لسٹ کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بلیک لسٹ کا معاملہ تو اب ختم ہو گیا ہے مگر گرے لسٹ سے نکلنے میں اور کتنا وقت لگے گا؟ یہ سوال اہم ہے۔ ایف اے ٹی ایف میں چھ ماہ بعد دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان کے معاملات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پاکستان اپنا مقدمہ پیش کرتا ہے۔ دہشتگردی کیخلاف اقدامات پر اپنے فیصلوں سے دنیا کو آگاہ کرتا ہے اور یوں یہ موقف سننے کے بعد فورم کے رکن ممالک ”ڈومور” کی ایک اور فہرست تھما کر پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھتے ہیں۔ اب پیرس اجلاس میں پاکستان کے اقدامات کی تعریف کرنے کے باوجود اسے اگلے چارماہ تک گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیرس اجلاس کے اعلامئے میں کہا گیا کہ پاکستان نے ستائیس میں سے چودہ نکات پر اچھی پیشرفت کی ہے اس میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے پاکستان کو انتالیس میں سے بارہ ووٹ درکار تھے جو ظاہر ہے حاصل نہیں ہو سکے ہوں گے، جس کے بعد اگلے چار ماہ کیلئے پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا گیا، پاکستان کیلئے اطمینان کا پہلو یہ ہے کہ بھارت کی کوشش اور دباؤ کے باوجود اسے بلیک لسٹ نہیں کیا گیا اور بھارت کا اطمینان یہی ہے کہ پاکستان کے سر پر بدستور ایف اے ٹی ایف کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس طرح موجود صورتحال میں یہ ”وِن وِن” یعنی سب کی جیت کا گول مول سا انداز ہے۔ بھارت نے اس اجلاس میں بھی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے پورا زورِبازو صرف کیا اور اس کیلئے مسعود اظہر کیخلاف اقدامات نہ کرنے کی دُہائیاں دیں مگر چین، ترکی اور ملائیشیا جیسے ملکوں نے پاکستان کے کردار کا بھرپور دفاع کیا جس کی وجہ سے بھارتی موقف کو پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔ بھارت نے پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کیلئے جس قدر زور صرف کیا ہے پاکستان نے اس کا عشر عشیر بھی جوابی طور پر بھارت کو دہشتگردوں کی سرپرستی کرنے والا ملک ثابت کرنے پر صرف نہیں کیا۔ کلبھوشن یادیو کا رنگے ہاتھوں پکڑا جانا، احسان اللہ احسان کے اعترافی بیانات اس کی ایک اہم بنیاد بن سکتے تھے مگر عالمی نظام کی مجبوریوں اور مصلحتوں کے کیا کہنے کہ عالمی عدالت انصاف میں ایک جاسوس اور دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈ کا مقدمہ پوری توجہ اور ہمدردی سے سنا گیا اس لئے کہ یہ شخص دہشتگردی کی اس تعریف پر پورا نہیں اُترتا جو مغربی ملکوں نے طے کر رکھی ہے اور اس اصطلاح پر اقوام متحدہ کی مہر ثبت کرائی گئی ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے کٹہرے میں کھڑا سیاسی فیصلوں کی قمیت چکا رہا ہے اور اس لٹکتی تلوار کے نیچے پاکستان کچھ کرنے سے قاصر ہے، ایف اے ٹی ایف کی تلوار پاکستان کے سر پر لٹک رہی ہے جبکہ اسی تلوار کے سائے تلے امریکہ افغانستان سے باعزت رخصتی کا ماحول پیدا کر رہا ہے اور اسی کی آڑ میں بھارت کشمیر میں کچھ فیصلہ کن اور دوررس اثرات کے حامل فیصلے کرتا جا رہا ہے۔