حکومتی کارکردگی میں بہتری کا دعویٰ

حکومتی جماعت تحریک انصاف کے قائدین کا عمومی مزاج یہ ہے کہ بحران اور مشکلات عارضی اور وقتی ہیں ‘ وزیر اعظم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر قائدین بحران اور مشکلات کو سابقہ حکومتوں کا پیداکردہ قرار دیتے ہیں’ وزیر اعظم عمران خان نے نئے سال کے آغازمیں کہا تھاکہ 2020ء ترقی و خوشحالی کا سال ہو گا۔اسی طرح وزیراعظم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گزشتہ روز صوابی میںجلسہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ محمود خان کا کہنا تھا کہ صوبے اور وفاق میںاگلی حکومت دوبارہ تحریک انصاف کی ہو گی’ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہم اپنی اعلیٰ کارکردگی اور ویژن کی بنیاد پر دوبارہ حکومت قائم کریں گے۔ وزیر اعلیٰ محمود خان کے بقول خیبر پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاںپر سیاسی سرگرمیاں آج بھی جاری ہیں اور ان میں عوام جوق درجوق شرکت کررہے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو 18ماہ سے زائد ہو چکے ہیں مگر اس دوران عوام کو وہ تبدیلی دکھائی نہیںدی جس تبدیلی کا عوام کیساتھ وعدہ کیا گیا تھا’ بلکہ اس کے برعکس مہنگائی ‘ بیروزگاری اور غربت نے عوام کیلئے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ محکمہ شماریات کے مطابق تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو فی کس قرضہ ایک لاکھ 44ہزار روپے تھا جبکہ 2019ء کے اواخر تک یہی قرضہ فی کس کے حساب سے ایک لاکھ 87ہزار روپے تک پہنچ گیا’ جس سے معاشی ترقی کی شرح 5.4 فیصد سے گر کر 3.3فیصد تک پہنچ چکی ہے اور مہنگائی کی شرح 7.9فیصد سے بڑھ کر 12.7فیصد تک پہنچ چکی ہے’ ان اعداد و شمار کی روشنی میں اگر یہ کہا جائے کہ حکومت نے اپنے ابتدائی دو سال میں اپنی ناقص حکمت عملی اور ناکام پالیسیوں کی بدولت عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے تو بے جا نہ ہو گا کیونکہ وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے جو بھی وعدے کیے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی پورا نہیںہوا۔ انہی وجوہات کی بناء پر عام پاکستانی میں بے چینی پائی جاتی ہے ‘ جبکہ دوسری جانب معیشت کے حوالے سے معمولی مثبت اشارے ملے ہیں ‘ شاید انہی اشاروںکی وجہ سے وزیر اعظم عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے قائدین 2020ء کو بحران کے خاتمے کا سال قرار دے رہے ہیں۔ انٹرنیشنل ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کی ریٹنگ بڑھا دی ہے ‘ اس سے قبل آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کی معیشت کی بہتری کے حوالے سے اطمینان کااظہار کیا ہے ‘ اس کیساتھ ساتھ ورلڈ بینک بھی پاکستان کی معیشت کے حوالے سے یہ کہہ چکا ہے کہ پاکستانی معیشت میں قابل قدر اضافہ اور بہتری آئی ہے’ پاکستان کی برآمدات میں 10فیصد اضافہ سے روپے کی قدر میں استحکام آیا ہے’ سب سے بڑھ کر پاکستانی روپے کا ڈالر کے مقابلے میں اپنی جگہ پرٹھہر جانا واقعی اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستانی معیشت بہتری کی طرف گامزن ہے ‘ لیکن پاکستان کے عوام دو وجہ سے پریشان ہیں’ ایک تو یہ کہ گزشتہ 18ماہ میںمہنگائی کی شرح میںجس قدر اضافہ ہو چکا ہے کیا آنے والے دنوں میں اس میںکمی ہو گی؟ عوام کی یہ پریشانی بلاوجہ نہیں کیونکہ پاکستان کی تاریخ میںجب جب مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ‘ معیشت میں بہتری آنے کے باوجود مہنگائی میں کمی نہیں ہوئی ‘ عوام کی دوسری پریشانی آئی ایم ایف کی کڑی شرائط سے متعلق ہے’ کیونکہ آئی ایم ایف اپنی ریکوری کیلئے گیس وبجلی کی قیمتوں اور ٹیکسز میں مزید اضافے کیلئے حکومت پر دبائو ڈالے گا اور حکومت کو نہ چاہتے ہوئے بھی آئی ایم ایف کی ہدایات پر عمل کرنا پڑے گا۔ اس پس منظر کے بعد یہ سمجھنا نہایت آسان ہے کہ حکومتی جماعت کے قائدین روپے میں استحکام کی بنا پر دعویٰ کر رہے ہیں کہ آنے والا وقت ترقی و خوشحالی کا ہو گا جبکہ پاکستان کے عوام زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر دہائی دے رہے ہیں کہ مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہونے کے سبب ان کی قوت خرید جواب دے رہی ہے ‘ اس ضمن میں ضروری معلوم ہوتاہے کہ حکومتی سطح پرمہنگائی کی شرح کاجائزہ لیا جائے اور مہنگائی کی شرح 12.7فیصد سے کم کر کے اس قدر طے کی جائے جو عوام کی قوتِ خرید کے مطابق ہو بلکہ عام شہری اور مزدور کی قوتِ خرید کو سامنے رکھ کر مہنگائی کی شرح طے کی جائے۔ اگر حکومت مہنگائی کی شرح کم کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر یقین کیساتھ کہا جا سکتا ہے کہ واقعی پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور 2020ء خوشحالی کا سال ہو گا۔