دہشت گردی سے سیاحت تک کا سفر

خطے میں امن وامان کا قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کی کوششیں کسی سے مخفی نہیں ہیں ‘ بلکہ پاکستان کی بہادر افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے وہ کر دکھایا جودنیا کی بہترین افواج بھی نہ کرسکیں۔ نائن الیون کے بعد پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پاکستان کی بہادر افواج نے یکے بعد دیگرے کئی آپریشن ترتیب دئیے، جن میں سے آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد نہایت کامیابی کیساتھ ہمکنار ہوئے’ آپریشن رد الفساد کے تین سال پورے ہونے پر پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کہا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اور سرحدوں کی دفاع کیلئے 22فروری 2017ء کو آپریشن رد الفساد شروع کیاگیا’ یہ دہشت گردی کے خاتمے سے سیاحت تک کا سفر ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاکہ انتہا پسندی کیخلاف جنگ میں قوم نے بھرپور حمایت کی اور ہمارے شہداء ہمارا فخر ہیں۔ اس موقع پر آرمی چیف نے جنگ کی دو دہائیوںکو قربانیوں کیساتھ منسلک کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نتائج خطے میں امن کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کا یہ منصوبہ تھا کہ پاکستان کوبیک وقت اندرونی و بیرونی مسائل میں اُلجھا کر رکھا جائے ‘ بھارت نے بلوچستان میں خلفشار پیداکرنے کی کوشش کی لیکن بلوچستان میںناکامی کے بعد اس نے افغانستان سے ملحقہ علاقوں میں صورتحال بگاڑنے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگایااور بھارت نے اس مقصد کیلئے افغانستان میں درجنوںقونصل خانے قائم کئے لیکن پاک افواج کی ٹھوس منصوبہ بندی کی وجہ سے ایک کے بعد ایک کر کے بھارت کے تمام منصوبے ناکامی سے دوچار ہوتے رہے۔ یہ یقیناً پاک افواج کی قربانیوں کی بدولت ہی ہو پایا ہے کہ آج ہماری عبادت گاہیں محفوظ اور بازاروںمیںخطرات کے بادل دکھائی نہیں دیتے ‘ گو ہم نے دہشت گردی کی بھاری قیمت چکائی ہے لیکن اب جبکہ امن قائم ہو چکا ہے تو دہشت گردی کے حوالے سے ایسا میکنزم بنایا جائے کہ دشمن کو دوبارہ درآنے کی جرأت نہ ہو۔
ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات
محض چند سو روپے یومیہ اجرت پر سینکڑوں مزدور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر محنت مزدوری کر کے اپنے بچوںکا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں’ کوئلہ کی کانوں اور پہاڑوں کے نیچے آ کر دبنے کی وجہ سے آئے روز درجنوں مزدور موت کو گلے لگا لیتے ہیں’ گو کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے لیکن کان کنی سے وابستہ مزدوروں کی موت کی وجہ حفاظتی تدابیر کا فقدان بتایا جاتا ہے’ دنیا بھر میں کان کنی کیلئے جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جا رہا ہے ‘ زیرزمین جہاں آکسیجن کی بھی کمی ہوتی ہے وہاں انسانوں کو بھیجنے کی بجائے روبوٹس کو بھیج کر کام لیاجا رہا ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو محفوظ رکھا جا سکے’ اسی طرح پہاڑوںکو توڑنے کیلئے بھی بارود سمیت جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جا رہا ہے’ جبکہ پاکستان میں بدقسمتی سے اس کے برعکس ہو رہا ہے ‘ ٹھیکیدار چند ہزار روپے کی بچت کیلئے مزدوروں کی جان دائو پر لگا دیتے ہیں’ پاکستان میں کان کنی کیلئے حفاظتی تدابیر اور سہولیات کی فراہمی نہ ہونے کے برابر ہے ۔ حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ کان کنی کیلئے ٹھیکہ دینے سے قبل اطمینان کر لے کہ کھدائی کیلئے لازمی حفاظتی سہولیات کو فراہم کیا جا رہا ہے یا نہیں؟ عدم دستیابی کی صورت میں ٹھیکے کو کینسل کر دیا جائے بلکہ ایسے ٹھیکیداروں پر بھاری جرمانے عائد کر کے ان کا لائسنس کینسل کر دیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ٹھیکیدار انسانی جانوں کیساتھ کھلواڑ نہ کر سکے۔ گھر کے واحد کفیل کے ورثاء کو دو چار لاکھ کی امدادی رقم فراہم کرنے کی بجائے لازمی قرار دیا جائے کہ اگر کوئی مزدور ٹھیکیدار کی جانب سے سہولیات کی عدم فراہمی کے باعث موت کے منہ میں چلا گیا تو اس کے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ٹھیکیدار پر عائد ہو گی، اس شرط کے بعد یقین کیساتھ کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی ٹھیکیدار مزدوروں کی جان کو خطرے میں نہیں ڈالے گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا 6ماہ میں حکومت کی رخصتی کا دعویٰ
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حکومت کا ٹھیکہ پورا ہو چکا ہے’ آئندہ چھ ماہ میں حکومت رخصت ہو جائے گی۔ جمہوری سسٹم کی روح ہے کہ منتخب حکومت اپنی آئینی مدت 5سال پورے کرے’ پانچ سال کے بعد نئے انتخابات کرائے جائیں اور فیصلہ عوام پرچھوڑ دیا جائے کہ وہ آئندہ کیلئے کس جماعت کو منتخب اور کس جماعت کو مسترد کرتے ہیں اگرکارکردگی اچھی ہوئی تو عین ممکن ہے عوام برسراقتدار جماعت کو ہی دوبارہ موقع فراہم کریں’ اگر کارکردگی اس کے برعکس ہوئی تو عوام کے پاس انہیں مسترد کرنے کا مکمل اختیار ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں آج تک جمہوری سسٹم کی روح کیخلاف ہوتا آیا ہے اور منتخب جمہوری حکومت کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نان ایشوز میں الجھا کر رکھا جاتا ہے تاکہ وہ ڈلیور نہ کر سکے اور اس کی ناکامی پر اپنی حکومت کا محل کھڑا کیا جاسکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب اس روش کو ختم ہونا چاہیے اور منتخب حکومت کو اس کی آئینی مدت سے پہلے ختم کرنے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے بلکہ اپوزیشن کی جماعتوں کو مثبت تنقید کے ذریعے حکومت کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ اپوزیشن کی جماعتیں بھی جمہوری سسٹم کا حصہ ہوتی ہیں اور حکومت کیساتھ ساتھ اپوزیشن کی جماعتیں بھی ملکی حالات میں برابر کی ذمہ داری ہوتی ہیں۔