معصیت را خندہ می آید ز استغفار ما

بعض خبریں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ ان پر انہی کی طرح چٹ پٹا تبصرہ ہی کافی ہوتا ہے، اس لئے کالم کے ابتدائی حصے میں چند ایسی ہی خبروں پر شعری تبصروں سے کام چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے جو بیان گزشتہ روز دیا ہے اور جس پر اخبارات میں بڑی اچھی سرخیاں جمائی گئی ہیں، اس کو پہلے دیکھ لیتے ہیں اور پھر اس پر ایک شعری تبصرہ، موصوف نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ لڑائی نہیں، صرف ٹی وی پروگرام کریں گی، گویا صورتحال کچھ یوں ہے کہ
کون کہتا ہے کہ ہم تم میں لڑائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہوگی
دراصل پاکستان کی سیاست میں اکثر وبیشتر حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین سیاسی جنگ پر ”دوستی” کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں،اسی لئے اکثر مخالف جماعتوں کیلئے ”فرینڈلی اپوزیشن”کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، اب یہ ہر شخص کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ اس فرینڈلی اپوزیشن کو نگہ استہسان سے دیکھے یا پھر اسے طنزیہ استفہام کے درجے پر رکھے، وزیر موصوف نے اگرچہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی سرگرمیوں کو بھی نہیں بخشا اورکہا ہے کہ مولانا جلسہ کرنے آئے تو سموسوں پکوڑوں سے استقبال کریں گے اور اگردھرنا دینے آئے تو دھرلئے جائیں گے، گویا انہوں نے مولانا موصوف کو چتائونی (دھمکی) دیدی ہے، تاہم دیکھتے ہیں کہ مولانا اس کا جواب کن الفاظ میں دیتے ہیں، اپنی مخصوص مسکراہٹ سے یا پھر اس قبیل کے غصے سے جو کبھی کبھار ان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے اور جسکا مظاہرہ شاذونادر بعض اینکروں کی جانب سے ان کا انٹرویو کرنے کے دوران کسی تلخ ترش اور طنزیہ سوال کے بعد مولانا صاحب کرتے ہیں، بہرحال چونکہ شیخ صاحب اینکر نہیں وزیر ہیں اس لئے ممکن ہے وہ مولانا صاحب کے غصے سے محفوظ رہیں بقول صائب تبریزی
معصیت را خندہ میآید ز استغفار ما
ادھر بلاول بھٹو زرداری بھی آہستہ آہستہ حقیقی سیاستدان بننے کی راہ پر گامزن ہوکر واقعی سیاسی رہنما بنتے جارہے ہیں اور ایسی بات کہہ جاتے ہیں کہ خامہ انگشت بہ دنداں والی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے، اپنے تازہ بیان میں انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے جہاں میاں نوازشریف کو رگڑا ہے وہاں حکومت کے بارے میں بھی تبصرہ کرنے سے گریز نہیں کیا اور کہا ہے کہ نوازشریف بھی سلیکٹڈ تھے،ٹھیکہ پورا ہوچکا، حکومت 6ماہ میں چلی جائے گی، اس پر یہ شعربہت حد تک موزوں ہوتا ہے کہ
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑے ناسمجھ ہو سزا چاہتے ہو
بہرحال سزا تو تب ہوگی جب وہ خدانخواستہ کوئی غیرقانونی کام کریں اور مخالفوں پر طنزیہ جملے کسنا کوئی جرم نہیں بلکہ بقول شیخ رشید محض ٹخ ٹوخ ہے، بلاول نے جوبات کی ہے اس کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے یہ بات کی ہے کہ ٹھیکے پر لی گئی حکومت کے پاس کوئی اختیار نہیں، تحریک انصاف کی طرح ن لیگ بھی پارلیمنٹ کو کوئی اہمیت نہیں دیتی، اب ذرا غور سے دیکھا جائے تو پارلیمنٹ کو اہمیت دینے کے بلاول کے بیان کو رد بھی نہیں کیا جا سکتا، تاہم بلاول کے بارے میں بھی وہ جو شیخ رشید نے کہا ہے کہ وہ اپنا صدقہ اُتاریں تو یہ مشورہ بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ شیخ صاحب اندر کی باتیں بخوبی جان کر ہی بعض اوقات تبصرے بھی کرتے ہیں، مشورے بھی دیتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دھمکی نما بیانات بھی الار دیتے ہیں، جیساکہ انہوں نے مریم نواز کے باہر جانے کے حوالے سے تازہ بیان داغا ہے کہ ان کے ملک سے باہر جانے میں کابینہ رکاوٹ ہے، اب اس پر ”ایک نہتی لڑکی سے” گھبرانے والا تبصرہ کیا جائے یا نہیں، لگے ہاتھوں اگر شیخ رشید اس پر بھی اظہار خیال فرما دیں تو بہتوں کا بھلا ہوگا۔ بقول احمد فراز
اگرچہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے
مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے
امیر جماعت اسلامی حضرت سراج الحق بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں بلکہ تازہ حالات پر بے لاگ تبصرے کر کے سیاست کے میدان میں خود کو ان رکھنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، انہوں نے مہنگائی کو موضوع بناتے ہوئے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ وزیراعظم پیاروں کی سرپرستی چھوڑ دیں تو مہنگائی کم ہوجائے گی۔ اب اپنی اس بات کی وضاحت تو سراج الحق خود ہی بہتر طور پر کر سکتے ہیں کہ جن پیاروں کی وہ بات کر رہے ہیں ان کی تعداد ایک مخصوص مذہبی گروہ کے مشہور پانچ پیاروں کے برابر ہے یا پھر یہ مغل اعظم شہنشاہ اکبر کے نورتنوں کی مانند ان کے گرد موجود ہیں جن میں بیربل اور ملا دوپیازہ بھی شامل تھے کہ جہاں تک ملا دوپیازہ کا تعلق ہے وزیراعظم کے ”پیاروں” میں شیخ رشید کو اس مقام پر رکھا جا سکتا ہے، جو بظاہر ”مذاقیہ” مگر اندر سے بڑے کائیاں تھے، اسی طرح، بیربل کا مقام بھی ایک ”جہاز بردار” کو دیا جا سکتا ہے، بہرحال اگر محترم سراج الحق خود ہی وضاحت کردیں تو بہتر رہے گا، یہ الگ بات ہے کہ وزیراعظم کو خود انہیں ڈھونڈنے میں دقت کا سامنا ہے کہ ایک محاورے کے مطابق چراغ تلے اندھیرا ہی رہتا ہے اور ایسے پیارے اسی ”اندھیرے” کا فائدہ اُٹھا کر ہی تو اپنا کام چلا لیتے ہیں، ویسے بڑے ڈاکوؤں کو پکڑنے کا وزیراعظم کا بیانیہ بھی اہمیت کا حامل ہے اور اس پر شہباز انور خان کا تازہ قطعہ بھی خوبصورت تبصرہ ہی لگتا ہے کہ
بڑے ڈاکو پکڑنے کا ہدف پولیس کو دیکر
حکومت نے کیا ہے فیصلہ گرچہ بڑا، لیکن
ہیں جتنے بااثر ڈاکو یہ کیا ان کو بھی پکڑے گی
ہماری زندگی میں کیا کبھی آئے گا دن یہ بھی؟