میں کیسے زندہ ہوں؟

اسی زندگی میں ہی کتنی بار ہم موت کا سامنا کرتے ہیں اپنے اردگرد ہی نہیں، اپنے حوالے سے بھی۔ لیکن شاید کبھی احساس نہیں ہوتا یا شاید ہم محسوس نہیں کرنا چاہتے، شاید یہی بہتر ہوتا ہے۔ ہر ایک تبدیلی میں بھی ایک طرف کی موت ہی تو ہوتی ہے۔ صرف اتنی بار جب ہمارے آس پاس ہم سے محبت کرنے والے یا وہ جن سے ہم محبت کرتے ہیں وہ یوں اُٹھ کر دنیا سے چلے جاتے ہیں تو لگتا ہے کہ موت حقیقت ہے۔ اپنے پنجے پھیلائے ہر وقت ہم میں سے ہر ایک کو دبوچنے کی جستجو میں لگی ہے۔ یہ ہمارے ساتھ ہمارے سائے میں ہے، کبھی ایک کو اچک لیتی ہے، کبھی دوسرے کو آگھیرتی ہے لیکن کبھی تھمتی نہیں۔ ہر بار رہ جانے، بچ جانے کے اطمینان کیساتھ ہم اپنے نقصان کیساتھ اُلجھنے لگتے ہیں۔ آنسو نہیں تھمتے، دُکھ کا احساس ختم ہی نہیں ہوتا۔ ہم ایک ایک وجود کا حصہ، ایک ایک قطرہ، ایک ایک لمحہ کر کے مرنے لگتے ہیں۔ جو ہم سے جدا ہوتا ہے، اکیلا نہیں جاتا، اپنا آپ سمیٹتے، سمیٹتے ہمیں بھی کہیں سے سمیٹ لیتا ہے۔ گٹھڑی باندھنے میں وہ اپنا ہی کوچ نہیں باندھتا، ہمیں بھی کہیں سے توڑ کر باندھ کر لے جاتا ہے۔ کسی شہر کا کوئی کونا، کوئی دریچہ، کوئی گلی، کوئی مسکراہٹ بجھ جاتی ہے۔ جو کبھی دوبارہ نہیں لوٹتی۔ کسے لوٹے وہ لوگ ہی نہیں رہتے۔ کمال یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر کو اس کا احساس رہتا ہے۔ جوگیا وہ کیا لے گیا، اس کے جانے سے کتنا خلا ہوا لیکن کبھی میں کہاں مرگیا، کسی نے سوچا، جہاں سے میں نے کوچ کیا اس لمحے میں اس جگہ پر میں تو مرگیا، لیکن مجھے خیال تک نہ آیا۔ شاید یہی موت ہے، میں نے کہاں سے کوچ کیا اس کا خیال نہ آیا ہوگا۔ کبھی پلٹ کر دیکھا بھی ہوگا تو سب سفر کا حصہ ہی معلوم ہوتا ہوگا۔ آج میں یہاں ہوں تو یہاں زندہ ہوں۔ کل کہیں اور ہوں تو کہیں اور زندہ ہوں اور جہاں پہلے تھی، وہاں میں مرچکی ہوں۔
جس مکاں میں میں پہلے رہتی تھی، اس مکان سے میں کہیں اور کوچ کر جاؤں وہ مکان، اس میں سکونت کا سامان اور وہ سارا وقت تو اسی مکان میں، اس کے اپنے وقت میں قید رہتے ہیں لیکن میں جو وہاں سے اُٹھی اور نکل گئی، میں تو وہاں بھی مرگئی۔ کیونکہ باقی تو سب باقی رہا، بس ایک میں نہ رہی۔ یہی تو موت ہے کہ بس میں نہ رہوں لیکن یہی میرا ایمان ہے کہ میں ایک جگہ نہیں ہوں لیکن کہیں اور، میں ہوں کیونکہ میری کہیں اور زندگی، اور کسی ایک جگہ موت ہی میری حقیقت ہے۔
مگر اس ساری حقیقت کیساتھ اُلجھے کتنے خاموش سوال ہیں، جن کا سرا کبھی کسی نے تھاما ہی نہیں، اور میں نے خود بھی کبھی ان کو اس قدر غور سے نہ دیکھا کہ میں اس کا جواب تلاش کرسکتی۔ میں نے اپنے پیدا ہونے میں اپنی موت نہ دیکھی کہ جب میں نے اس دنیا میں آنکھ کھولی تو میں کہیں اور کسی اور دنیا میں مرگئی اور اگر موت بس اتنی ہی تبدیلی کا نام ہے تو اس سے خوف کیسا؟ لیکن جب تبدیلی اتنی سادہ نہیں اور اس تبدیلی میں اتنا حساب پنہاں ہے کہ میں نے ابھی اس لمحے میں کیا کیا، اس کا حساب لپیٹ کر رکھ لیا گیا، اور پھر جب وقت ہوگا تو سارے بس کھاتے جمع کر لئے جائیں گے اور سارا تول کر کے یہ فیصلہ کر لیا جائے گا کہ اگلی مکانیت کیسی ہوگی تو ہم، ہم سب، میں آپ ہم سب ہی اتنے مطمئن کیسے رہتے ہیں جب ہم یہ جانتے ہیں کہ جو بھی کچھ ہمیں معلوم ہے وہ تو سب ہی ادھورا ہے۔ اور اس ادھورے پن کا ہمیں یقین ہے تو پھر میں کیسے مطمئن زندگی گزار رہی ہوں۔ میں اپنے ہاتھ سے لمحہ کیسے گر جانے دیتی ہوں۔ میں مُٹھی بھینچ کیوں نہیں لیتی کہ سب جو میری اُنگلیوں کے درمیان سے پھیل رہا ہے میرا نقصان ہی نہ ہو۔ اگر میں نے اس لمحے کو بس اپنے لئے سنہرا نہ کرلیا تو وہ ضائع ہی ہوگیا۔ میں اتنی باہمت کیسے ہوں کہ اپنا ہی نقصان کر رہی ہوں۔ میں اپنی ہی موت سے کیسے واقف نہیں، میںکیسے اپنے نقصان سے بے بہرہ، انتہائی آرام سے یہ وقت گزار رہی ہوں، میں کیسے خاموش ہوں۔ میں کیسے مسکرا لیتی ہوں، میں کیسے پریشانی کا شکار نہیں ہوتی۔ میں کیسے فیصلے کرتی ہوں۔ میں کیسے دنیا میں چل پھر لیتی ہوں۔ میری خواہشات بھی زندہ ہیں اور وہ میرے اندر ایسا تلاطم بھی بھر دیتی ہیں کہ میں ان کے زور سے اپنے فیصلوں کی تہوار گھما لیتی ہوں۔ میں دیکھتی ہوں لیکن پھر کیسے انجان بن جاتی ہوں۔ میرے اندر سارے سوال اور سارے جواب موجود ہیں لیکن میںکبھی ان کی آواز پر کان نہیں دھرتی۔ یہ کیسے ہے کہ میں ہر لمحہ مر رہی ہوں، جی رہی ہوں لیکن میں گھبراہٹ کا شکار نہیں۔ یہ سب کیسے ہو رہا ہے۔ اس سوال نے مجھے، میرے دل ودماغ کو بری طرح جکڑ رکھا ہے۔ میں مر رہی ہوں، اور میں زندہ کہلاتی ہوں۔