امریکی صدر کے دورہ بھارت کے حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بول پڑے

اسلام آباد،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا امریکی صدر کے دورہ بھارت کے حوالے سے اہم بیان ،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے بھارت سے تقاضہ کیا ہے کہ وہ اس خطے میں مثبت کردار ادا کرے ۔انہوں نے بھارت سے کہا ہے ہے کہ وہ امن و استحکام کے فروغ کے لیے ہاتھ بڑھائے۔ یہ تب ہی ممکن ہوگا جب دیرینہ مسئلہ کشمیر کا کوئی حل نکلے گا۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ بھارت کی موجودہ حکومت نے اس پیچیدہ مسئلہ کو مزید الجھا دیا ہے بھارت کے پانچ اگست کے اقدامات نے کشمیر کے تشخص کو متاثر کیا ہے اور اس کو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے206 روز ہوگئے ہیں مقبوضہ کشمیر میں لاک ڈاون ہے ۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ن حالات میں بات کیسے آگے بڑھے گی۔ بھارت راگ الاپتا رہا ہے کہ یہ مسئلہ کشمیر کا اندرونی نہیں بیرونی ہے۔صدر ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امن کا شراکت دار ہے پاکستان نے دہشت گردی کہ شکست دینے میں جو پیشرفت کی ہے وہ دنیا میں ایک مثال ہے افغانستان میں امن واستحکام کے حوالے سے بھی پاکستان کا کردار سب کے سامنے ہے وہ پاکستان جس کو بھارت ایک مسلہ کہتا تھا آ ج دنیا اس کو ایک حل کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں پاکستان کا جو کردار ہے اسے سراہا جا رہا ہے۔متنازعہ شہریت قانون کی وجہ سے ںھارت میں خلفشار ہے اس کا عملی مظاہرہ انہوں نے خود دیکھ لیا کہ اس وقت دہلی کی صورت حال کیا ہیمجھے یقین ہے صدر ٹرمپ دورہ بھارت میں مسلہ کشمیر پر ضرور بات کریں گے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کو مسلہ کشمیر پر تشویش ہے۔ وہ سمجھتے ہیں دو ایٹمی قوتیں آ منے سامنے ہیںاگر بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو امن کا خلل پوری دنیا کو متاثر کر سکتا ہیمیونخ سیکورٹی کانفرنس میں ماہرین نے تجزیہ پیش کیا کہ اگر دونوں ملکوں میں چپقلش ہوتی ہے تو اس کے اثرات دنیا پر کیا ہوں گیان چیزوں کو صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت کو اپنے رویے اور پالیسی پر نظر ثانی کرنی ہو گی۔ صدر ٹرمپ کا بھارت میں پاکستان سے متعلق بیان غیر معمولی تھا اس کی اہمیت سے انکار نہیں کر سکتے۔ صدر ٹرمپ نے کرکٹ سٹیڈیم میں ہندتوا نظر یے کے حامل بہت بڑے مجعے کے سامنے یہ بیان دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہیںجب ہم حکومت میں آ ئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں سرد مہری تھیتعلقات میں تناو تھا ساوتھ ایشیا سٹریٹیجی کا اعلان ہو چکا تھاپاکستان کو ایک مسلہ سمجھا جا رہا تھا۔آ ج جو خوشگوار تبدیلی آ ئی ہے اس پر میں پوری قوم، افواج پاکستان اور سیاسی قیادت کو مبارکباد دیتا ہوں ۔