صدرٹرمپ دراصل کس کے دوست ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں، انہوں نے نومبر2016 کے صدارتی انتخابات میں اپنی مخالف اُمیدوار ہیلری کلنٹن کو ہرا کر دنیا کو حیران کر دیا تھا، اس جیت کو یقینی بنانے کیلئے انہوں نے رنگ ونسل کی بنیاد پر امریکیوںکو ڈرا کر ان سے ووٹ لئے تھے۔ الیکشن سے ایک رات پہلے ہیلری کلنٹن کے حامیوں کو اگلے دن نشانہ بننے کی افواہیں گڑھ کر دفاعی پوزیشن پر لے آئے تھے۔پھر گزشتہ سال یعنی22جولائی2019 کو وائٹ ہاؤس کے دروازے پر عمران خان کا خود استقبال کرکے انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے مقاصد کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں، اس دن انہوں نے عمران خان کو اپنا اچھا دوست قرار دیا اور ان کو وہ پروٹوکول دیا جس نے پاکستان کے اندر عمران خان کے قدکاٹھ میں اضافہ کیا۔ پاکستان بھر میں یہ توقعات پیدا ہوئیں کہ اب تو صدرٹرمپ ضرور کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی خواہش کے مطابق کردار ادا کریں گے۔ ہم یہی سمجھے اور ہمیں سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ اب تو مسئلہ کشمیر حل کی جانب بڑھ ہی جائے گا لیکن صدر ٹرمپ کے دوست بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس سے قریباً دس دن بعد ہی مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے دنیا کو بتا دیا کہ نہ صرف صدر ٹرمپ سے کسی بھی بات کی توقع کی جا سکتی ہے بلکہ ان کے دوست بھی شاید ”ان” کی شہ پر کبھی بھی کچھ بھی کرسکتے ہیں۔
ابھی تو پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کی کامیابی کی گونج فضاؤں میں تھی کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو ختم کرکے اسے اپنا حصہ قراردیدیا اور ابھی دنیا کی جانب سے کشمیر کے معاملے پربھارت کو منفی نمبر مل رہے تھے کہ امریکی صدرٹرمپ اس کے اندازاً ڈیڑھ ماہ بعد امریکہ میں بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کیساتھ ہندوستانی امریکنز کے جلسے میں پہنچ گئے۔
اب ایک بار پھر کل ہی صدر ٹرمپ اپنے دوست نریندر مودی کی مسلسل کم ہوتی شہرت کو سہارا دینے اور اپنے دوبارہ انتخاب میں انڈین نژاد امریکی ووٹروں کی مدد کے حصول کیلئے بھارت پہنچے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی گرتی شہرت کی بحالی کیلئے صدر ٹرمپ ان سے مسلمانوں کیخلاف بنائے گئے متنازعہ قانون کو واپس لینے کا بھی مطالبہ کر سکتے ہیں جس کے جواب میں اگر مودی سرکار نے ان کی مہمان نوازی کا حوالہ دیکر اس قانون کو واپس لے لیا تو یہ وزیراعظم نریندر مودی کو ملنے والی ایک بڑی مدد تصور کی جائے گی۔
نہیں معلوم کہ اس کالم کے چھپنے تک وہ ”نمستے ٹرمپ” کے عنوان سے بھارت میں عوامی اجتماع سے خطاب کر چکے ہوں گے یا ان کا خطاب ابھی باقی ہوگا لیکن وہ بھارت میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد پہلے امریکی صدر بن جائیں گے جو کسی اور سرزمین پر عوامی اجتماع سے خطاب کریں گے۔ان کے دورۂ بھارت کی کامیابی سے بہت کم توقعات وابستہ کی جارہی ہیں اور اس دورے کے دوران توقع یہ ہے کہ ہندوستان مہمان صدر کی عزت افزائی کیلئے امریکہ سے اسلحہ کی خریداری کا ایک معاہدہ کر لے۔ یہ دورہ امریکی صدر کے رواں سال دوسرے ٹرم کیلئے انتخابات میں اُترنے کا آغاز بھی سمجھا جارہا ہے تاکہ امریکہ میں آباد ہندوستانیوں کو اس بات پر مجبور کیا جاسکے کہ وہ صدرٹرمپ کو اپنا دوست مان کر اسی کو ووٹ دیں۔ ایسے میں ایک جانب اگر صدر ٹرمپ اس دورے کو اپنے لئے انتخابات میں ووٹوں کے حصول کا ذریعہ سمجھیں گے تو دوسری جانب نریندر مودی اس دورے کو اپنی ڈوبتی نیا کو پار لگانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں۔ تاہم یہ سوال ابھی جواب طلب ہے کہ آیا صدر ٹرمپ اپنے اسٹریٹجک پارٹنر بھارت کے افغانستان سے متعلق خدشات کو بھی دور کر سکیں گے یا نہیں؟ کیونکہ ہندوستان نے اتنے سالوں میں جو افغانستان میں سرمایہ کاری کی تھی وہ سب ڈوبتی نظر آرہی ہے۔ ہندوستان کو شکوہ ہے کہ امریکہ خود افغانستان سے نکلنے کیلئے جو جتن کر رہا ہے ان میں وہ اپنے لئے کچھ ہوتا نہیں دیکھ رہا تاکہ ہندوستان کی افغانستان میں اب تک ہونے والی سرمایہ کاری کو بچایا جاسکے، یہ الگ بات ہے کہ خود ہندوستان کو بھی اس بات کا پتہ ہے کہ امریکہ خود بھی اس معاملے میں کچھ زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
دیکھنا یہ بھی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورۂ امریکہ کے دوران کشمیر پر ثالثی کا تاثر دینے والے صدر ٹرمپ کشمیر کے معاملے پرکیا مؤقف اختیار کرتے ہیں؟ کیا وہ کشمیر کے معاملے پر ثالثی کا اعادہ کریں گے یا اس کی حیثیت میں تبدیلی کے معاملے پر خاموشی اختیار کریں گے؟۔
صدر ٹرمپ کے دورے کے دوران سی پیک کے منصوبے اور کرونا وائرس کے حملوں کے بعد کے چین پر بات ہونے کا قوی امکان ہے اور خدشہ ہے کہ دونوں دوست ریاستیں چین کو مقامی طور پر ہی گھیرنے یا مصروف رکھنے پر بھی ضرور بات کریں گے۔یوں تو امریکی صدر ٹرمپ اور وزیراعظم نریندر مودی کے مابین تعلقات کو انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے لیکن اس دورے میں تجارت کے معاملے پر کسی بڑے بریک تھرو کی توقع نہیں کی جارہی ہے۔ ہندوستان کے ایک قدرے محتاط بیان میں اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ انہیں امریکہ کیساتھ کسی معاہدے میں جانے کیلئے کوئی جلدی نہیں ہے کیونکہ اس سے ان کے شہریوں کا مفاد غیرمحفوظ ہونے کا اندیشہ ہے۔ صدر ٹرمپ ہندوستان آچکے ہیں اور چینی صدر جون میں پاکستان کا دورہ کریں گے تو کیا اب سمجھ لیا جائے کہ خطے میں بات پاک بھارت دوطرفہ تعلقات کی سطح سے کہیں بہت اوپر جاچکی ہے اور اب یہ ملکوں کی بجائے بلاکس کی سطح پر ہی پرکھے جائیں گے۔