عزیز میمن کا قتل’ حقائق اور پروپیگنڈہ

مجھ سمیت ”قلم مزدوروں کا روزگار (خبروں’ تجزئیوں کا) باہمی اعتماد پر قائم ہے۔ ہم ایک دوسرے سے خبروں کا تبادلہ کرتے ہیں۔ برسوں اور عشروں کا صحافتی ساتھ ذاتی تعلق پر بھی استوار ہو تو ایک دوسرے پر قائم اعتماد خبر کو آگے بڑھانے میں معاون بنتا ہے، ایک دوسرے سے تصدیق کی ضرورت کم ہی پڑتی ہے۔ پچھلے ساڑھے چار عشروں کے دوران کم ہی ایسا ہوا کہ کسی دوست کی معلومات یا خبر پر تحریر بُنی ہو اور شرمندگی اُٹھانا پڑ گئی ہو۔ جب سے سوشل میڈیا آیا ہے دو چار بار سبکی اُٹھانا پڑی جس دوست پر اعتماد کیا وہ سوشل میڈیا پر جھوٹ کے طوفان کا دلدادہ نکلا۔ پچھلی شب عجیب یہ ہوا کہ لگ بھگ تین عشروں سے کوچہ صحافت میں موجود ایک دوست کی (ان سے ذاتی طور پر احترام بھرا تعلق بھی ہے) سعودی عرب میں کرونا وائرس اور ہلاکتوں کی خبر باہمی اعتماد پر شیئر کردی مگر کچھ دیر بعد جدہ میں مقیم دوست راشد جلیل کا مسیج ملا۔ شاہ جی! ”جدہ میں ایسی صورتحال ہے ناحکومت نے ایمرجنسی نافذ کی ہے”۔ ان کے پیغام کے بعد دوستوں سے معذرت کرلی، معذرت سے یہ اطمینان ہوا کہ دوستوں کا اعتماد قائم رہے گا۔ یہ ایک ذاتی مثال تمہید کے طور پر عرض کرنا ضروری تھی تاکہ آئندہ سطور میں پیش کی جانے والی معروضات کا پس منظر اور اس تحریر نویس کی رائے آپ بہتر طور پر سمجھ سکیں۔
ہفتہ دس دن قبل سندھ میں ایک صحافی عزیز میمن قتل ہوئے۔ ان کے قتل کے 21سے 25منٹ بعد اسلام آباد کے کچھ صحافی دوستوں نے عزیز میمن کے قتل اور ان کی سال بھر قبل کی ایک خبر کے ڈانڈے جوڑ کر بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی کو مجرم بنا کر پیش کردیا۔ ملک کے چند نامور صحافیوں اور اینکرز نے سوشل میڈیا کے اپنے اکائونٹس پر عزیز میمن کے قتل کی خبر کچھ اس انداز میں دی جس سے یہ تاثر اُبھرا کہ صحافی کو پیپلز پارٹی نے قتل کروایا ہے۔ قتل کی شام ہی قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر فوادچودہدری اور چند دیگر حکومتی ارکان جذباتی فضا بنا رہے تھے۔ گورنر سندھ اور دیگر حکومتی رہنمائوں میں سے جس کے جو جی میں آیا بولتا چلا گیا۔ پنجاب کے وزیر اطلاعات نے تو بلاول بھٹو کو عزیز میمن قتل کیس میں شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ داغ دیا۔ آگے بڑھنے سے قبل یہ بتا دوں کہ ایک سال قبل مقتول صحافی عزیز میمن کی حکومت کے حامی نیوز چینل پر ایک رپورٹ نشر ہوئی جس میں وہ صحافی بلاول بھٹو کے گرین مارچ کے استقبال کیلئے ایک ریلوے سٹیشن پر موجود خواتین سے پوچھ رہا ہے کہ ”آپ یہاں کس لئے آئی ہیں۔ ایک دو خواتین کہتی ہیں ہمیں بینظیر بھٹو سکیم کے پیسے دینے کیلئے لایاگیا ہے، ایک دو کہتی ہیں ہمیں دو ہزار روپے دے کر بلاول کے استقبال کیلئے لایاگیا ہے”۔
اس رپورٹ پر پیپلز پارٹی کا ابتدائی مؤقف تھا کہ چونکہ مذکورہ صحافی اُردو اور سندھی زبان کے دو الگ الگ اُن چینلوں کیلئے کام کرتا ہے جو پیپلز پارٹی کے مخالف ہیں اسلئے امکان یہ ہے کہ صحافی نے سندھ میں حکومت مخالف اتحاد جی ڈی اے کی رہنما اور وفاقی وزیر فہمیدہ مرزا کے کہنے پر یہ رپورٹ تیار اور نشر کی۔ اس رپورٹ کے نشر ہونے کے بعد اسلام آباد کے ایک صحافی جن کا دعویٰ ہے محترمہ بینظیر بھٹو نے انہیں ہمیشہ چھوٹا بھائی سمجھ کر اعتماد کیا اور مشاورت کیساتھ اہم خبریں بھی دیں۔ عزیز میمن کو فون کرکے سندھ سے اسلام آباد بلوایا اور یہاں اسے مختلف شخصیات’ میڈیا اور دیگر مقامات تک رسائی دلوائی، اس قیام اسلام آباد کے دوران عزیز میمن نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ جان بچانے کیلئے چھپتے پھر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ مقامی رہنما انہیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پندرہ بیس دن اسلام آباد میں قیام اور پھر کراچی حیدر آباد کی تفریح کے بعد عزیز میمن اگلا پورا سال اپنی صحافتی ذمہ داریاں ادا کرتے رہے، انہیں کسی نے کچھ نہ کہا۔ ہفتہ دس دن قبل وہی عزیز میمن اچانک پراسرار طور پر قتل ہو جاتے ہیں، ان کے قتل کے بعد اسلام آباد کے چند صحافی سوشل میڈیا پر اس قتل کی خبر اس انداز سے دیتے ہیں جس کا بالائی سطور میں تذکرہ کرچکا۔ ادھر صورت یہ ہے کہ مقتول عزیز میمن کے بھائی نے جن چار افراد کیخلاف ایف آئی آر درج کروائی ہے ان میں ایک ان کا کیمرہ مین ہے اور تین دوسرے افراد، پیپلز پارٹی کے کسی شخص کو ملزم نامزد کیا گیا نہ سازش کے خانہ میں رکھ کر 109 کا ملزم ٹھہرایا گیا مگر محترمہ بینظیر بھٹو کے منہ بولے بھائی سمیت متعدد اینکرز عزیز میمن کے قتل پر باقاعدہ پروگرام کرتے اور کالم لکھ چکے، پروگراموں اور کالموں میں عمومی تاثر یہی ہے کہ بلاول کے ٹرین مارچ کی خبر قتل کی وجہ ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ٹرین مارچ والی خبر قتل کی وجہ ہے تو سال بھر کے بعد ہی یہ قتل کیوں ہوا۔ دوسرا یہ کہ کیا یہ سارے عالمی تحقیقاتی شہرت یافتہ صحافی وجمہوریت پسند اس بات سے لاعلم تھے کہ عزیز میمن کے کیمرہ مین نے پولیس کو کیا بیان دیا ہے اور دوسرے گرفتار شخص نے کیا بیان دیا؟۔ عزیز میمن کے گرفتار ملازم کا بیان ہے کہ مقتول نے اس کے فون سے کسی کو ملاقات کیلئے فون کیا اور نمبر ڈیلیٹ کرکے انہیں کہا کہ اسے مطلوبہ مقام تک پہنچا دیں۔ یاد رہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے بعد میں عزیز میمن کی لاش ملی تھی۔ مجھے اپنے ان دوستوں پر جو خود کو جمہوریت اور آزاد ی صحافت کے مولاجٹ کے طور پر پیش کرتے ہیں، حیرانی ہے کہ کیسے انہوں نے بلاول اور پیپلز پارٹی کو مشکوک قرار دیدیا۔ معاف کیجئے گا الزام لگانے میں پیسے نہیں لگتے میں بھی کہہ سکتا ہوں چونکہ بینظیر بھٹو کا منہ بولا بھائی ہونے کے دعویدار صحافی کے مالک کی آصف زرداری سے ذاتی دشمنی ہے اسلئے اپنے مالک کے کہنے پر انہوں نے بلاول اور پیپلز پارٹی پر الزام لگایا۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل صحافت کو حرف جوڑتے ہوئے نتائج کو مدنظر رکھنا چاہئے، دروغ گوئی پر مبنی خبر سے پھیلے شک کے بادل اب کیسے چھٹیں گے اس کا جواب ان صحافی دوستوں پر واجب ہے۔