قلم بولتا رہا

قلم کی اہمیت کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے اللہ کریم سورة العلق میں فرماتا ہے: ”تو پڑھتا رہ تیرا رب بڑے کرم والا ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے (علم) سکھایا”۔ علم اور قلم کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اپنا سیکھا ہوا، پڑھا ہوا قلم ہی کے ذریعے دوسروں تک پہنچایا جاتا ہے، جن کے ہاتھ میں قلم ہوتا ہے ان کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جایا کرتی ہیں۔ قلم کی تقدیس واہمیت کا احساس اسی وقت ہوتا ہے جب یہ بولے تو صرف سچ بولے اور سچ کے سوا کچھ بھی نہ بولے! اشفاق احمد اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں جب وہ ادبی دنیا میں داخل ہوئے لکھنے پڑھنے کا شوق بڑھا، تو ادبی محفلوں میں شرکت کی وجہ سے رات کو دیر سے گھر آنا ان کا معمول ہوگیا۔ ایک دن ان کی ماں جی نے ان سے کہا بیٹا! تجھے گھر آتے آتے آدھی رات ہوجاتی ہے، تو باہر کیا کرتا رہتا ہے؟ ماں جی میں نے قلم سے دوستی کرلی ہے، میں ادیب بنوں گا، کتابیں لکھوں گا، ماں جی نے ان کی بات سن کر کہا بیٹا! کتابیں تو ہزاروں لاکھوں لوگ لکھ رہے ہیں، ایک تیرے لکھنے سے کیا ہوگا؟ تیری کتابیں کون پڑھے گا؟ انہوں نے ماں جی کو اپنا نکتۂ نظر سمجھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی کتابیں لکھیں گے جن میں جھوٹ کا شائبہ تک نہیں ہوگا، وہ صرف اور صرف سچ لکھیں گے۔ ماں نے ان کی بات سن کر کہا بیٹا یہ تو کیا کہہ رہا ہے، سچ لکھنا تو بہت مشکل ہوتا ہے، یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی! بقول جوش ملیح آبادی:
سچ بات پہ ملتا ہے سدا زہر کا پیالہ
جینا ہے تو پھر جرأت اظہار نہ مانگو
مشہور فرانسیسی ادیب، مؤرخ اور مفکر والٹیئر قلم کے حوالے سے کہتا ہے ”اپنے ہاتھ میں قلم پکڑ لینا بالکل ایسا ہے جیسے آپ حالت جنگ میں ہوں” آج ہمارے اردگرد جو کچھ لکھا جارہا ہے اس میں سچ کی بڑی اہمیت ہے۔ یہ سچ ہی ہے جو معاشرے کی صحیح اور سچی عکاسی کرتا ہے، اسی کی روشنی میں سب کو اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کا موقع ملتا ہے۔ ایک لکھاری کی ذمہ داری اور اہمیت اس حوالے سے بہت بڑھ جاتی ہے یہ معاشرے کا وہ طبقہ ہے جو جان ہتھیلی پر رکھ کر اپنے لوگوں کے سامنے خوبصورت اور بدصورت دونوں قسم کی تصویریں پیش کرتا رہتا ہے۔ اس کا قلم ہمارے عقل وشعور اور علم میں اضافہ کرتا رہتا ہے، اس کی تحریریں پڑھ کر ہم چیزوں کو ان کے صحیح تناظر میں دیکھنے کے قابل ہوتے ہیں، یہ ہمیں دنیا بھر کی کہانیاں سناتا ہے یہ اس کا قلم ہی ہے جس کی وجہ سے ہم لمحہ بہ لمحہ تبدیل ہوتی دنیا سے آگاہی حاصل کرتے ہیں! ”قلم بولتا رہا” ایک باصلاحیت لکھاری حماد حسن کے کالموں کا مجموعہ ہے، کتاب کا عنوان اتنا پرکشش ہے کہ بے اختیاری کی ایک خاص کیفیت میں اسے کھول کر ورق گردانی شروع کردی، دل میں یہی خیال تھا کہ اگر قلم بول رہا ہے تو پھر اس کی بات ضرور سننی چاہئے! ذہن کے نہاں خانوں میں یہ بات بھی کہیں گردش کررہی تھی کہ قلم کا نام لینا اتنا آسان تو نہیں ہوتا اگر قلم کی بات کی جائے تو پھر سچ کی پاسداری کرنا بھی ضروری ہوتا ہے کیونکہ قلم کی اہمیت تو سچ کیساتھ جڑی ہوئی ہے، علم کی خوشبو اسی وقت چاروں طرف پھیل جاتی ہے جب قلم اور سچ ساتھ ساتھ سفر طے کریں! زندگی کے تقاضے نباہنا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے اور پھر لکھاری کیلئے تو یہ ایک مشکل ترین امر ہوتا ہے اسے اپنے سچ میں سب کو شامل کرنا ہوتا ہے، ایسی باتیں بھی لکھنی پڑتی ہیں جنہیں برداشت کرنا ارباب اختیار کیلئے اتنا آسان نہیں ہوتا لیکن ان سب مراحل سے قلم بول رہا ہے کا مصنف بڑی خوبصورتی اور بے باکی سے گزرا ہے۔ بہت سے بند دریچے وا ہوئے ہیں! ایک انٹرویو کے دوران ان سے سوال پوچھا گیا: پاکستان میں پرنٹ میڈیا کا مستقبل کیسا ہے؟ جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک ایسے دور میں جب آدم خور قبیلہ کے لوگ کالم نگار کی دہلیز سے نیوز روم کی چوکھٹ تک پہنچ جائیں تو پھر کیا اور کیسے لکھا جائے؟ اوپر سے مقابلہ جدید تراش خراش کے سوٹ پہنے لیکن کوڑھ مغز اور ذہنی طور پر بانجھ ان لونڈوں سے ہو جو چینل تو پکڑ لیتے ہیں لیکن کتاب اور قلم ہرگز نہیں پکڑتے، پھر کہاں کی شاندار روایتوں کی امین اُردو صحافت اور کہاں کی سچائی! تاہم یہ ضروری نہیں کہ ڈرا جائے یا جاہلوں کے غول کے سامنے ہتھیار پھینک دئیے جائیں کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ممالک مثلاً اری ٹیریا میں ریاستی جبر اور ظالمانہ سنسر کے باوجود بھی صحافی اور دانشور ڈٹے ہوئے ہیں، ترقی یافتہ ممالک میں پرنٹ میڈیا کو الیکٹرانک میڈیا باوجود اپنی پذیرائی اور انتہائی کوشش کے اسلئے پیچھے دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہوا کہ پرنٹ میڈیا نے صحافت کا اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھا ہے اور یہ ایک طویل ریاضت کے بعد اس کے ہاتھ لگا ہے! یقینا یہ سفر آسان نہیں ہے۔ ہنری اناتولی کا کہنا ہے ”صحافت کبھی خاموش نہیں رہ سکتی اور یہی اس کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے بڑی خامی ہے اس نے ہر حال میں بولنا ہوتا ہے اور بہت جلد بولنا ہوتا ہے یہ اس وقت بھی بول رہی ہوتی ہے جب فضا میں کامیابی کے بہت بڑے دعوؤں کی گونج بھی سنائی دے رہی ہوتی ہے اور خوف کے سائے بھی منڈلا رہے ہوتے ہیں”۔