مستقل نہ ہونے پر قبائلی اضلاع کے سینکڑوں ملازمین کے فارغ ہونے کاخدشہ

پشاور(نیوزرپورٹر)قبائلی اضلاع کے صحت دفاتر اورمختلف محکموں کے پراجیکٹوں میں کنٹریکٹ بنیادوں پر تعینات سینکڑوں ملازمین کامستقل نہ ہونیکی وجہ سے30جون سے ملازمت سے فارغ ہونیکا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے ذرائع نے بتایا کہ سات قبائلی اضلاع خیبر،مہمند،باجوڑ،کرم ،اورکزئی ،جنوبی وزیرستان ،شمالی وزیرستان اور اس سے ملحقہ6نیم قبائلی علاقوں ایف آر پشاور،ایف آر کوہاٹ، ایف آر بنوں، ایف آر لکی مروت، ایف آر ڈیرہ اسماعیل خان اور ایف آر ٹانک میں صحت ،تعلیم اور دیگرشعبوںمیں مختلف پراجیکٹس میں تعینات ملازمین کے کنٹریکٹ30جون کوختم ہوجائیں گے کیونکہ زیادہ تر پراجیکٹ مستقل بجٹ میں شامل کرکے فاٹا سیکرٹریٹ کے ملازمین کو متعلقہ محکموں میں ضم کردیا گیا ہے جنکی تنخواہیں پی سی ون سے دی جارہی ہیں ۔اس حوالے سے تاحال محکموں کو مذکورہ ملازمین کی تنخواہوں کیلئے نیاپی سی ون بنانے کی ہدایت نہیں دی گئی ہے جس کے نتیجے میں مذکورہ پراجیکٹ ملازمین یکم جولائی سے فارغ کردیئے جائیں گے بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ پراجیکٹ ملازمین ہیلتھ میں تعینات ہیں جنکی مستقلی کیلئے قانون سازی کا فیصلہ بھی کیا گیا تھا لیکن ابھی تک اسکا نتیجہ نہیں نکل سکا ہے۔