پشاور کی وسعت کے مطابق اقدامات ومنصوبہ بندی کی جائے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی صوبائی دارالحکومت پشاور کی بحالی اور تزئین وآرائش میں دلچسپی کے باعث پہلی مرتبہ ایسے امورپر توجہ نظر آتی ہے جن پر اس سے قبل توجہ نہیں دی گئی۔ یہ رپورٹ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں میں پشاور شہر میں 10کلومیٹر ایریا سے وال چاکنگ کا خاتمہ کیا جا چکا ہے ۔ شہر کی صفائی یقینی بنانے کیلئے300سے زائد فلیکس ہٹائے گئے ،200سے زائد کھمبوں پر بے ترتیب تاروں کو صاف کیا گیا ، فٹ پاتھوں کی مرمت پر بھی کام جاری ہے۔ پشاور شہر کے چار مقامات پر کارروائیاں کی جارہی ہیں جن میں دلہ زاک روڈ، کسٹم چوک سے بورڈبازار ، کبابیانو پل سے رنگ روڈ اور کوہ دامن چوک سے لیکر عبد الرحمن بابا فلائی اوور تک مقامات شامل ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور کی آبادی میں اگلے چند برسوں میں نہ صرف کافی اضافہ کا امکان ہے بلکہ شہرائو کے عمل میں مزید تیزی آنے کے باعث مضافات کے دیہات شہر کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گے۔ پشاور شہر جس کی حدود ضلع خیبر سے لیکر ضلع نوشہرہ وچارسدہ سے متصل علاقوں تک پھیل چکی ہے۔ شہر کے جنوبی حصے کی طرف بھی آبادی پھیل رہی ہے جہاںسرکاری طور پر نئے شہری علاقے کا قیام زیر غور ہے جس کیساتھ شہری آبادی کی ایک پٹی نوشہرہ کی حدود تک جا سکتی ہے جس سے اس شہر کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔صوبائی دارالحکومت میں ٹریفک کے اژدھام کی صورتحال اس وقت قابل کنٹرول نہیں۔ ایک سروے کے مطابق آئندہ دو دہائیوں کے دوران پشاور کی سڑکوں پر گاڑیوں کی تعداد 12لاکھ سے تجاوزکرسکتی ہے۔ پشاور کی چار بڑی سڑکوں پر صبح کے اوقات جبکہ جمرود روڈ پر شام کی اوقات میں ٹریفک بہائو مزید بڑھنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔سروے کے مطابق جمرود روڈ پشاور پر شام کو ٹریفک کا بہائو سب سے زیادہ جبکہ چارسدہ،کوہاٹ، جی ٹی روڈ اور موٹر وے پر ٹریفک کا بہائو صبح کے اوقات میں بہت زیادہ ہوتا ہے ۔ جس میں مزید اضافہ سے صورتحال گمبھیر ہوسکتی ہے، البتہ بی آر ٹی کے چلنے سے شہر کی مرکزی سڑک پر دبائو کے قدرے کم ہونے کا امکان ہے۔تاہم آبادی میں اضافے، مزید گاڑیوں کے آنے اور سڑکوں کی موجودہ حالت کے تناظر میں مسئلہ برقرار رہنے بلکہ صورتحال کے مزید گمبھیر ہونے کا امکان ہے۔ ان سارے عوامل اور امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو جس قسم کی منصوبہ بندی اور اقدامات کی ضرورت ہے اس کا فقدان نظر آتا ہے۔ٹریفک کے بہائوکی شرح اور دبائو کی مناسبت سے سلپ روڈ تعمیر کرنے کی تجویز پر عملدرآمد بھی اس میں اضافے کی شرح کے تناسب سے پوری طرح کار آمد منصوبہ نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگرچہ صوبائی دارالحکومت کا واحد مسئلہ ٹریفک کے نظام کی بہتری نہیں لیکن اس مرکزی مسئلے کے حل کے بغیر باقی منصوبوں پر عملدرآمد مفید نہ ہوگا مستزاد صرف مرکزی سڑک ہی قابل توجہ نہیں بلکہ چارسدہ روڈ،کوہاٹ روڈ،ناصر باغ روڈ،ورسک روڈ اور شہر کے باقی حصوں کو مرکزی شہر سے ملانے والی دیگر سڑکوں پر بھی توجہ درکار ہوگی۔ صوبائی دارالحکومت کے حوالے سے منصوبہ بندی اس کی بحالی اور تزئین کے تقاضوں میں سے موجودہ حکومت کے بعض اہم اقدامات یقیناً قابل تحسین ہیں، صوبائی دارالحکومت میں پہلی مرتبہ ایسے اقدامات نظر آرہے ہیں جس پر پہلے نہ تو توجہ دی گئی اور نہ ہی عملی طور پر اس کیلئے کوئی قدم اُٹھایا گیا، بہرحال پشاور کی تزئین وبحالی کے جتنے منصوبے بھی بنائے جائیں وہ وقتی اور حال کے مسائل پر مبنی نہ ہوں بلکہ اس میں آئندہ پندرہ بیس سالوں کی ضروریات کا خیال رکھا جائے۔پشاور بڑا شہر بننے جارہا ہے، بڑے شہر کے مسائل بھی بڑے ہوتے ہیں اور اس کیلئے بڑی منصوبہ بندی اور بڑے اقدامات بھی کرنے کی ضرورت ہے۔