پہلا قاعدہ کامیابی کی طرف پہلا قدم

پاکستان شرح خواندگی کے لحاظ سے دنیا کے اُن ممالک میں شامل ہے جو ابھی بین الاقوامی معیار تک نہیں پہنچے ہیں۔ ہماری یہ شرح تقریباً ساٹھ فیصد کے آس پاس ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر مقرر کردہ شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ سکول جانے والی عمر کے بچوں کی ایک بڑی تعداد سکول نہیں جا رہی اور اس سلسلے میں ہم دنیا میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ بہت سارے چھوٹے چھوٹے ممالک ہم سے شرح خواندگی میں آگے بلکہ بہت آگے ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق خواندگی کی تعریف ”تعلیم یافتہ” ہونے سے بہت کم بلکہ بہت پیچھے ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی تحریری یا زبانی مواد کو پہچاننے، سمجھنے اس کی تشریح کرنے (سادہ تحریر) تخلیق کرنے شمار کرنے وغیرہ کو خواندگی سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی اعلیٰ یونیورسٹی کی ڈگری کا عمل دخل نہیں اور اسی سادہ خواندگی میں ہی ہم ترقی یافتہ تو کیا بہت سارے ترقی پذیر ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ اقوام متحدہ کے تمام ممبر ممالک نے2015 میں سترہ اہداف رکھے جن کو
Sustainable Development Goals
کا نام دیا گیا جن میں سے دنیا بھر کیلئے مساوی تعلیم کو چوتھے نمبر پر رکھا گیا جو بنیادی ترین ضروریات کے فوراً بعد ہے۔ غربت کے خاتمے، بھوک کے خاتمے، صحت کی سہولیات اور بہترمعیار زندگی کے بعد مساوی تعلیم کو رکھا گیا لیکن ہم نہ تو شرح خواندگی میں اس پیمانے تک پہنچ سکے ہیں اور نہ ہی معیار تعلیم میں اور نہ ہی ہمارے پاس تعلیم کیلئے کوئی کریش پروگرام ہے۔یہ سب وہ چند حقائق ہیں جن کو جان کر ہم اپنے معیارتعلیم کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ ہم ایک ہی ملک میں کئی نظام ہائے تعلیم چلا رہے ہیں اور باوجود بہت سارے دعوؤں کے ایک معیاری نظام تعلیم پر نہیں آپا رہے۔ ہم ابھی تک سرکاری سطح پر سکولوں میں روایتی بلکہ فرسودہ طریقہ تدریس کو تبدیل نہیں کر سکے جس کی وجہ سے یہاں سے نکلنے والے طلباء عملی زندگی میں وہ کارکردگی نہیں دکھا سکتے جو وقت کی ضرورت ہوتی ہے اگرچہ ہمارے پرائیوٹ سکولوں کے پڑھے ہوئے طلباء نسبتاً بہترہوتے ہیں لیکن یہ قدرے بہتر معیار بھی چند بڑے اور مخصوص سکول سسٹمز تک محدود ہے جبکہ ملک میں پرائیوٹ سکولز خود رو پودوں کی طرح اُگے ہوئے ہیں اور اسے منافع بخش کاروبار سمجھا جا رہا ہے۔ میں اسے بھی ایک بہتر عمل سمجھتی ہوں کہ کم ازکم اس طرح سے ہی سہی ایک عام پڑھا لکھا آدمی روزگار حاصل کر رہا ہے اور ملک میں تعلیم کے میدان میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے اور کم ازکم شرح خواندگی کو ہی سہی بڑھا رہا ہے لیکن ضرورت اس سے اگلے مرحلے کی بھی ہے اور وہ ہے معیار تعلیم۔ ان گلی محلوں میں کھلے ہوئے سکولوں میں پڑھنے والے بچے اگلی جماعت میں ترقی ضرور حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ اگر اُن سے نصاب میں دئیے گئے یا پڑھائے گئے کسی موضوع پر کسی دوسری طرح سے بات کی جائے تو وہ جواب تو درکنار اپنا نکتۂ نظر تک بیان نہیں کر سکتے جبکہ ماں باپ اور سکول ریکارڈ کے مطابق وہ بڑے اچھے نمبر لیکر پاس ہوئے ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات درجہ اول میں ”پاس” ہوتے ہیں۔ یہی حال اُن یونیورسٹیوں کا ہے جو کسی بنگلے، پرانے ہوٹل کی عمارت یا کسی پلازے کی بالائی منزل پر چل رہی ہوتی ہے اور خودمختار اور آزادانہ طور پر ڈگریاں دے رہی ہوتی ہیں یا کسی بڑی یونیورسٹی سے منسلک ہوتی ہیں۔ طلباء انگلش اور اُردو جیسے مضامین میں پورے پورے نمبر لے رہے ہوتے ہیں جبکہ جیسے ہمارے دور میںکہا جاتا تھا کہ مضمون اور کہانی جیسے سوالات کے جوابات میں پورے نمبر نہیں ملیںگے کیونکہ اس کو بہرصورت اس سے بہتر بھی لکھا جا سکتا ہے جو بالکل درست بات ہے لیکن اب ان میں بھی پورے نمبر دے دیئے جاتے ہیں۔ دوسرا مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے کہ جو کتاب میں لکھا ہے وہ لکھ دیا جائے تو نمبر پورے یعنی ہم رٹے کے نظام سے نکلنے کو بالکل تیار نہیں، چاہے آرٹس ہو یا سائنس کے مضامین اور اسی لئے ہم تخلیقی ذہن پیدا نہیں کرسکتے۔ ہمارے اساتذہ جوابات بورڈ پر لکھ دیتے ہیں اور بچہ اسے کاپی پر اُتار لیتا ہے اور پھر رٹ کر امتحان پاس کر لیتا ہے، چاہے وہ سوال جواب سے بالکل غیرمتعلقہ ہی کیوں نہ ہو لیکن بچہ سوچنے سمجھنے کی ضرورت محسوس ہی نہیں کرتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اُس نے نمبر کیسے لینے ہیں سو وہ اسے کسی قانونی یا غیرقانونی طریقے سے حاصل کر ہی لیتے ہیں یعنی سوالوں کے جوابات تو سیکھ لئے جاتے ہیں بنیادی تصور کو سمجھنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ اُس کا اُس کے پرچے سے یا نمبر حاصل کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔ یوں ہمارا نظام تعلیم جدت سے دور پرانے طریقوں میں بُری طرح اُلجھا ہوا نئے زمانے کے تقاضوں سے ناآشنا بس چلتا جا رہا ہے۔ جو طلباء اپنی ذہانت کے بل بوُتے پر آگے نکل جائیں تو بہتر ورنہ ہم کم ازکم قومی سطح پر ایسی نسل تیار کرنے کی مخلصانہ کوشش نہیں کر رہے۔ یہ باوجود اس کے ہے کہ ہم نے بہت جامع اور اچھی قومی تعلیمی پالیسیاں مرتب کی ہیں لیکن ہمارے ملک کے عام رواج کے مطابق ان پر اس طرح عمل نہیں ہو رہا جیسا کہ ہونا چاہئے اور یہ عمل گراس روٹ یعنی بنیادی اور ابتدائی تعلیمی اداروں سے شروع ہونا چاہئے کیونکہ تخلیقی عمل جب وقت پر شروع ہوگا اور بتدریج آگے بڑھے گا تو ہی کامیابی حاصل ہوگی اور یہ یاد رہنا چاہئے کہ بچے کے ہاتھ میں پکڑا ہوا پہلا قاعدہ ترقی، کامیابی اور بہتر مستقبل کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے اور پہلا قدم بہت سوچ سمجھ کر اور مضبوطی سے اُٹھانا چاہئے تاکہ وہ کہیں للکھڑائے نہ اور منزل تک یقینی طور پر پہنچا سکے۔