کرونا وائرس کا پھیلائو

حکومت پاکستان چین میں پھنسے ہوئے طالب علموں کو ان کے والدین کے اصرار کے باوجود صرف اس بناء پر وطن واپس نہیں لارہی ہے کہ ملک میں خدانخواستہ کورونا وائرس کی آمد ہو سکتی ہے۔حکومت کی حکمت عملی اوروالدین کے مطالبات سے قطع نظر اب اس قدر احتیاط کے باوجود پاکستان میں خدانخواستہ اس وائرس کی آمد کے خطرات میں اضافہ نظر آتا ہے۔ چین،ایران کے بعد اب افغانستان میں بھی وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ بھارت میں بھی اس کے امکانات کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس وائرس کے ممکنہ پھیلائو کی روک تھام کے حوالے سے ماہرین ہی بہتر تجاویز دے سکتے ہیں۔ ایک ممکنہ منتقلی کا ذریعہ پاکستان کے سرحدی علاقوں اور چین کے درمیان آمدورفت رکھنے والے پرندے ہوسکتے ہیں جن کے شکار پر پابندی اور لوگوں کو اس حوالے سے شعور وآگہی دینے کی ضرورت ہے۔چین میں بھی وائرس کا مقابلہ ایک صوبہ کو سیل کر کے کرنے کی وشش کی گئی اگر یہ کامیاب وکارگر اقدام ہوتا تو وائرس کی دور دراز کے ممالک کو منتقلی نہ ہوتی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وباء کی مکمل روک تھام ممکن نہیں، بہرحال بہتر ہے احتیاطی تدابیر جو بھی ہو اسے اپنائے بغیرچارہ نہیں۔ ایران اور پاکستان کے درمیان آمدورفت کی بندش ایک احتیاطی قدم کے طور پر اُٹھایا گیا ہے جس کی پوری پابندی کی ضرورت ہے لیکن اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان پیدل آمدورفت اب بھی جاری ہے جبکہ غیرقانونی طور پر آمدورفت تو معمول ہے اس ضمن میں دونوں ممالک کو مزید سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جو لوگ زیارت وتجارت کی بھی مقصد کیلئے ایران جانے کے خواہاں ہیں ان کو از خود اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے اور ایسا کرنا فطری امر بھی ہے۔ ایران کے بعد افغانستان میں بھی مبینہ طور پر ایک مریض کی اطلاع ہے یا پھر ممکنہ خطرہ تو بہرحال موجود ہے اس سلسلے میں بھی حکومت کو ابھی سے محتاط رہنے اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ایران سے افغانستان اور پاکستان دونوں ہی میں وائرس کی آمد کاخطرہ ہے ایسے میں افغان سرحد کی بندش اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ صورتحال بارے بھی سوچ بچار کی ضرورت ہے۔وباء کی مکمل روک تھام حکومت اور رعایا دونوں کیلئے تقریباً نا ممکن ہے، صرف احتیاطی تدابیر ہی ممکن ہے جسے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ ساتھ ہی بطور مسلمان اس قسم کی صورتحال میں ہمارا دین اور مذہب جس امر کا متقاضی ہے اس پر پوری توجہ دی جائے تو بہترہوگا۔ بڑے پیمانے پر وباء اور بیماریوں کا پھیلائو انسانی تاریخ کا حصہ ہے ان سے خوفزدہ ہونا تو فطری امر ہے بطور مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ لمحہ رخصت میں نہ ایک سیکنڈ کی تقدیم اور نہ تاخیر ہوسکتی ہے یہی حقیقت بھی ہے اور ممکنہ حالات سے نمٹنے کا مناسب ذریعہ بھی۔
اتوار بازار،خطرات کی اتنی تاخیر سے نشاندہی کا معمہ
پشاورپولیس کی جانب سے اتوار بازار حیات آباد کیلئے حفاظتی اقدامات کی تجویز اور خطرات سے آگاہ کرنے سے پوری طرح اتفاق ہے، عوام کے جان ومال کے تحفظ کیلئے پولیس اور سیکورٹی ادارے جو تجاویز دیں اور جن خطرات کی نشاندہی کریں ان پر عملدرآمد حکومت اور عوام دونوں کی ذمہ داری ہے۔ ان تمام امور سے اتفاق کیساتھ یہ سوال ضرور اُٹھتا ہے کہ پشاور پولیس نے دہشتگردی کیخلاف جنگ کے ایام میں اس قسم کے اقدامات کی تجویز کیوں نہ دی اور حکومت کو خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے اتوار بازار کے انعقاد کو معطل کرنے کی سفارش کیوں نہ کی۔ یہ سوال بھی بلاوجہ نہ ہوگا کہ صوبائی دارالحکومت میں جب روزانہ ایک سے پانچ چھ دھماکے ہونے والے دنوں میں اتوار بازار حیات آباد میں کوئی واقعہ رونما نہ ہوا، تو اب سیف سٹی کے تھوڑے بہت انتظامات کی موجودگی اور امن کی بحالی کے بعد پشاور پولیس کو اچانک سے اتوار بازار میں خطرات کے احساس اور انتباہ کی ضرورت کیوں پیش آئی۔معروضی حالات میں پولیس سے اسلئے اتفاق ممکن نہیں کہ اتوار بازار کے اردگرد اب ایسی تعمیرات اور سرگرمیاں نظر آرہی ہیں جس کے بعد اتوار بازار کا موجودہ مقام پر انعقاد شاید ممکن نہ ہو۔ پی ڈی اے کی جانب سے بھی اسے منتقل کرنے کا عندیہ پہلے ہی دیا جا چکا ہے۔پولیس کے اس انتباہ کو عوامی تحفظ کے پیشگی اقدام کی بجائے اگر منفعت کی عینک سے دیکھا جائے تو غلط نہ ہوگا۔اتوار بازار کی منتقلی کیلئے ایسے حالات نہ پیدا کئے جائیں کہ عوام عدم تحفظ سے دوچار ہوں اور خطرے کے اظہار پر اس طرف خواہ مخواہ کی توجہ مبذول ہو۔پولیس کو اگر اس امر کا خدشہ تھا تو ان کی سفارشات صیغہ راز میں کیوں نہ رہیں،ان کا افشا کیسے ہوا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور آئی جی خیبرپختونخوا کو تمام پہلوئوں کی تحقیقات کروانے اور پی ڈی اے سے مشاورت کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کرنا چاہئے جہاں تک حفاظتی اقدامات کی بات ہے ان کے اختیار کرنے اور ان کی اتنی تاخیر سے نشاندہی کا بھی جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
بدلتے اقدار باعث مشکلات
گلی محلوں میں سادگی اور کفایت شعاری کیساتھ ہونے والی شادیوں اور خوشی کی تقریبات کی بڑے بڑے ہالوں میں منتقلی سے صرف نمودونمائش اور اخراجات ہی میں اضافہ نہیںہوا بلکہ ہمدردی اور قربت وہمسایہ گری اور خوشی اور غم کے مواقع پر ایک دوسرے سے سجی ہمدردی کا اظہار اور شرکت بھی رخصت ہوگئی ہے۔شہری علاقوں میں جگہ کی تنگی ایک بہانہ سے کم نہیں ورنہ یہی شہر کی تنگ گلیاں ہی تھیں جو اس قسم کی تقریبات اور مواقع کی ضروریات کیلئے جیسے تیسے کافی تھیں۔ بدلتے اقدار اور زندگی میں در آنے والی سہولتوں اور انداز میں تبدیلی تو اب ممکن نظر نہیں آتی، اس قسم کے اصراف اور بدعات سے چھٹکارا اُسی صورت ہی ممکن ہوگا جب ہم اپنے اصل کی طرف لوٹ جائیں اور اپنے دین ومذہب کی تعلیمات پوری طرح سے اپنائیں اور اس پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہوں۔