کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی

دو عشرے بعد افغانستان کے کوہ ودمن میں آزمائشی بنیادوں پر عسکری کارروائیوں کا سوئچ پہلی بار آف ہوگیا ہے۔ یہ عارضی امن محض تجرباتی ہے، اگر چند دن کیلئے بندوقوں نے خاموش رہنے کا ہنر جان لیا تو انیس برس سے لڑتے لڑتے تھک جانے والے اس جنگ کے دو اہم فریق ایک امن معاہدے پر دستخط کر دیں گے اور یوں چالیس سال سے زیادہ عرصے پر محیط بدامنی کو قرار آجائے گا۔ کیا واقعی ایسا ہوگا؟ کیونکہ اس سرزمین پر برسرپیکار گروہوں نے حملہ آور کو جو معاون اور مہمان کو چولا پہنے ہوئے تھا مار بھگایا تو پھر ایک دوسرے سے اُلجھ پڑے یہاں تک کہ خانۂ خدا میں امن اور آشتی کے عہد وپیماں کرنے کے باوجود وہ اپنے وعدے ایفا نہ کر سکے اور شاید وہ اب تک اس ایک عہد شکنی کا خمیازہ اب تک بھگت رہے ہیں۔ سالاروں، سرداروں اور لیڈروں نے خیر کیا بھگتا درد وکرب کا تنہا وارث اور شکار عام آدمی ہوتا ہے سو اب تک ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ جنگ بندی اور امن کی اُمید کا اظہار امریکہ کے نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون میں کیا گیا ہے۔ اس سے بھی دلچسپ بات یہ کہ مضمون کسی تجزیہ نگار اور صحافی کا نہیں سراج الدین حقانی ہے۔ یہ وہی سراج الدین حقانی ہیں جن کے سر کی قیمت امریکہ نے مقرر کئے رکھی اور ان کے نام پر ”حقانی نیٹ ورک” کی اصطلاح کو اس پورے عرصے میں پاکستان کو عالمی اور علاقائی سطح پر زچ کرنے کیلئے استعمال کیا گیا۔ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان کی چھیڑ بنا کر رکھا گیا۔ آج اسامہ بن لادن زندہ ہوتے تو شاید ان کیساتھ بھی معاملات طے کرنے کا باعزت انداز اپنایا جا رہا ہوتا تو کسی روز امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو تورابوار کے غاروں میں ان کیساتھ محوِگفتگو نظر آتے۔ کہاں سراج الدین حقانی اور کہاں امریکہ کا سب سے مؤثر اخبار اسی کو نظریۂ ضرورت کہا جاتا ہے۔ ریاست بڑی ہو یا چھوٹی، مضبوط ہو یا کمزور نظریۂ ضرورت کی اسیر ہوتی ہے۔ ریاستوں کی دوستی اور دشمنی، سچ اور جھوٹ کے پیمانے پنڈولم کی طرح ہمہ وقت جھولتے رہتے ہیں۔ ان کے قومی مفاد کے تصور کو سکون کی عادت نہیں ارتعاش کا عارضہ ہوتا ہے۔ قومی مفاد کی اسی حرکت پذیری کا کمال ہے کہ جس سراج الدین حقانی کا نام لینا امریکیوں کے نزدیک جرم تھا آج امریکی اخبار اسی شخص کا مضمون چھاپنے میں کسی قسم کی شرمندگی اور ندامت محسوس نہیں کرتا کیونکہ وقت اور حالات بدل گئے اور ان کیساتھ امریکہ کی ضرورتیں بدل گئی ہیں جو لوگ پاکستان کو مختلف ایجادات کرکے پھر انہی کا تعاقب کرنے اور تنہا چھوڑنے یا معتوب کرنے کا تنہا سزاوار قرار دیتے ہیں انہیں امریکی اخبار میں سراج الدین حقانی کے مضمون کو پڑھ لینا چاہئے جس کے حرف حرف سے ان کا اعتماد جھلکتا اور چھلکتا دیکھا جا سکتا ہے۔ نیویارک ٹائمز میں سراج الدین حقانی کے بہ اہتمام شائع ہونے والے مضمون پر ”تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا” کا مصرعہ صادق آتا ہے۔ افغانستان میں اٹھارہ برس سے متحارب طالبان اور امریکہ کے درمیان امن سمجھوتہ ہو جاتا ہے تو اسے شاید کسی کی فتح وشکست پر محمول نہ کیا جائے کیونکہ زمانے کا چلن یہی ہے۔ طاقتور کی کمزوری بھی اس کا حسن قرار پاتی ہے اور اس کی کج ادائی بھی ایک قابل تقلید ادا کی شکل اختیار کر جاتی ہے۔ جس طرح امریکہ کے انیس سالہ جنگ کو دہشتگردی کیخلاف جنگ کا خوش نما نام دیا گیا۔ ہم سب پوری دیانتداری سے اس بات پر ایمان لے لائے کہ امریکہ جو کچھ کررہا ہے یہ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہے۔ پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ سب کچھ بھول بھلا کر اس جنگ کو ”وار اگینسٹ ٹیررازم” لکھتے اور کہتے رہے۔ خود ہمارے سیاستدان، حکمران، ذرائع ابلاغ سب اس بات پر ایمان لاچکے تھے کہ یہ عراق سے افغانستان تک جو مارا ماری ہے حقیقت میں دہشتگردی کیخلاف جنگ ہے جو آوازیں اس کیلئے نام نہاد دہشتگردی کیخلاف جنگ کا اصطلاح استعمال کرتے طنز واستہزا کا نشانہ بن جاتے۔ اسلئے ایک بڑی اور باوسیلہ طاقت نے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑنے چلا ہے اور بڑے لوگوں کا جھوٹ بھی سچ کے پردوں میں ملفوف ہوکر بازار میں گرم کیک کی طرح فروخت ہوتا ہے۔ انہیں عراق میں کیمیائی ہتھیار نظر آئے تھے اور ان کی تلاش میں سرگرداں عراق پہنچ آئے۔ پورے عراق کا سول سٹرکچر ادھیڑ کر رکھ دیا۔ بالکل اسی طرح طالبان امریکہ معاہدے کو امریکہ نے ”سب کی جیت” کا خوبصورت نام دیا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں جو اس بات کا تعین کریں کہ افغانستان میں انیس سال کی مارا ماری کا فاتح کون اور شکست خوردہ کون؟۔ جن کا منظر ہی یہ ہے کہ فتح کی ٹرافی کسی ہاتھ میں ہوگی نہ شکست کا داغ کسی ماتھے پر سجا ہوگا کہ یہی زمانے کا اصول ہے۔ بڑے لوگوں کی شکست بھی اپنے اندر فتح کا سا انداز لئے ہوتی ہے۔ لمحۂ موجود میں تو اس کا فیصلہ اور تعین کرنا مشکل ہے مگر مورخ کو فتح وشکست کے تعین سے کیونکر روکا جا سکتا ہے۔ اس وقت تو ایسا ماحول اور فضاء ہے کوئی شکست وفتح کے چکر سے نظریں چرا کر اور دامن بچا کر گزرنے میں ہی عافیت محسوس کر رہا ہے۔ آخری گولی کیساتھ اور معاہدے پر آخری دستخط کے بعد بھی کوئی جیتے گا نہ ہارے گا بلکہ سب جیتیں گے۔ خدا کرے کہ اس بار افغان عوام جیت جائیں اور امن ان کا مقدر ہو۔ امن کی منزل اب بھی بہت دھندلی اور دور نظر آرہی ہے کہ ضرورتیں اور تقاضے تو ختم نہیں ہوئے فقط معاملات کو حل کرنے کے انداز بدل گئے ہیں۔