‏وفاقی کابینہ نےصحافیوں کےتحفظ کےبل 2020کی منظوری دے دی

اسلام آباد : بل کا متن ‏کمیشن کےچیئرمین اورارکان کوآئین کےآرٹیکل 209کےتحت ہی عہدےسےہٹایاجاسکےگا. ‏کمیشن میڈیاکی آزادی اورصحافیوں کےتحفظ بارےسالانہ رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کرے گا.‏کمیشن میں فیصلےموجودارکان کی اکثریت کی بنیادپرہوسکیں گے.

بل کا متن ‏صحافی کواس کےذرائع بتانے کیلئے نہ مجبورکیاجائےگانہ ہی زبردستی کی جائےگی. صحافی کےذرائع کوخفیہ رکھنےکیلئے حکومت قانون کےذریعے تحفظ فراہم کرےگی.‏کسی صحافی کوآزادانہ طورپرپیشہ ورانہ امورنمٹانے کیلئے رکاوٹیں نہیں کھڑی کی جائیں گی.

بل کا متن ‏دوسرےکےحقوق یاساکھ متاثرہونےکی صورت میں اظہاررائےپرمشروط قدغن ہوگی. ‏حکومت کسی ادارے،شخص یااتھارٹی کی طرف سے صحافی کی کردارکشی،تشددیااستحصال سے تحفظ دےگی.‏صحافی اپنےخلاف کردارکشی،تشدداوراستحصال پر14دن کےاندرکمیشن کوشکایت درج کرائےگا.کمیشن 14دن کےاندرمعاملے کی تحقیقات کرکےمناسب کارروائی کرےگا.

‏انسداددہشتگردی اورقومی سلامتی کےقوانین کوصحافیوں کےتحفظ کیخلاف استعمال نہیں کیا جاسکےگا.‏حکومت صحافیوں کوجبری گمشدگی،اغواءسےبچاؤ کےلیےموثر اقدامات کرےگی.

‏کوئی بھی سرکاری یانجی ادارہ یاشخص صحافی کی زندگی کےحق کیخلاف سرگرمی میں ملوث نہیں ہوگا.حکومت ہرصحافی اورمیڈیاپروفیشنل کی زندگی کےتحفظ کو یقینی بنائے گی.‏جرنلسٹس اینڈمیڈیاپروفیشنلزایکٹ2020کااطلاق پورےملک پراورفوری طورپرہوگا .