امریکی صدرکا دوشاخہ خطاب

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورہ بھارت میں پاکستان سے اچھے تعلقات والا جملہ حوصلہ افزاء ضرور ہے لیکن ٹرمپ کے اس جملے کے علاوہ ان کے دورۂ بھارت کے دوران امریکہ بھارت تعلقات اور معاہدوں پر بھی نظر دوڑانے کی ضرورت ہے۔یقینا ایک ایسے ملک میں جو پڑوسی ملک کو عالمی طور پر تنہا کرنے کا مشن رکھتا ہو، ایک سپرپاور کے صدر کا خود ان کی سرزمین پر اس ملک کے حوالے سے مثبت تاثر اور خاص طور پر اس ملک کی پیشرفت اور اقدامات کا اعتراف سفارتی طور پر شادمانی کا موقع ہے، ایسا اسلئے بھی ہے کہ صدر ٹرمپ کے اس جملے پر بھارتی میڈیا میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے لیکن اس سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو امریکہ کے صدر نے بھارت کا دوروزہ دورہ کیا اور جس ملک سے اچھے تعلقات کا انہوں نے تذکرہ کیا اس ملک کا دورہ ان کے شیڈول میں شامل نہ تھا۔ ماضی میں جو امریکی صدور آئے انہوں نے بھارت میں پورا دن اور پاکستان میں چند گھنٹے ہی گزارے عالمی سطح پر دنیا کے ممالک کے تعلقات کو دوسرے ملک سے اس کے تعلق کا موازنہ اس لئے بھی درست نہیں کہ ہر ملک کو اس ملک سے وابستہ مفاد کی تناسب سے ہی اہمیت ملتی ہے، البتہ بعض عالمی مجبوریوں کے باعث کسی ملک کو خاص اہمیت دینے کی حاجت پیش آئے تو وہ الگ بات ہے۔ امریکی صدر نے جہاں پاکستان کے حوالے سے اچھے کلمات کہے وہاں انہوں نے خطے میں امن کے معاملے میں انڈیا کے بڑے کردار کا بھی ذکر کیا کہ انڈیا کو خطے کے بہتر مستقبل کیلئے نمایاں قیادت کرنی ہوگی۔ بھارت کو اس پورے خطے میں مسائل کو حل کرنے اور امن کے فروغ کیلئے مزید ذمہ داری لینی ہوگی۔ دیکھا جائے تو ٹرمپ نے دو باتیں کہنے کی کوشش کی، ایک یہ کہ انڈیا اور امریکہ دونوں انتہا پسندی کیخلاف جنگ میں ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے پاکستان کو یہ اشارہ بھی دیا کہ ایسے وقت میں جب امریکہ افغانستان سے اپنی فوج واپس بلا رہا ہے،پاکستان ان کی ترجیح ہے۔ ہندوستان میں کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہ ہو لیکن ٹرمپ کیلئے افغانستان سب سے اہم ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اس میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن اور امریکہ وطالبان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ٹرمپ کے پاکستان کے حوالے سے احسن کلمات کی ادائیگی کا سبب ہوسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان نے پہلی مرتبہ اپنی داخلی پالیسی میں ایسی تبدیلیاں لائی ہے جس سے امریکہ اور یورپی ممالک کے تحفظات میں کمی آنافطری امر تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات کے اعتراف کی بہتر عملی صورت یہ ہونی چاہئے تھی کہ امریکہ بھارتی قیادت سے مقبوضہ کشمیر میں بالخصوص اور بھارت میں بالعموم مسلمانوں کیخلاف مظالم بند کروانے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے حوالے سنجیدہ مطالبات کرتی۔ صدر ٹرمپ کی بھارت آمد کے موقع پر تشدد کے بدترین واقعات اور معصوم جانوں کا ضیاع اس امر کا ثبوت ہے کہ بھارت میں مسلم برادری محفوظ نہیں، اگرچہ یہ داخلی معاملہ ہے لیکن انسانی حقوق کی پامالی عالمی مسئلہ اور قابل مذمت ہے۔ اس سے قطع نظر صدر ٹرمپ نے پاکستان اوربھارت کو کشمیر کے معاملے پر جس ثالثی کے کردار کی پیشکش کی تھی اس بارے کوئی پیشرفت نہیں۔ ان تمام عوامل کے علاوہ امریکہ نے بھارت سے کھربوں روپے کے اسلحے اور جدید دفاعی نظام کے حوالے سے جو معاہدہ کیا ہے اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور پاکستان اس امر پر مجبور ہوگا کہ وہ اپنی دفاع اور ہم پلہ ہونے کیلئے قدم اُٹھائے یوںخطے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی قیادت پاکستان کے جن اقدامات کی حمایت کرتا ہے ان کو مضبوط اور کامیاب بنانے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ بھارت کو اتنا طاقتور نہ بنائے کہ وہ خطے میں تھانیدار کا کردار ادا کرنے لگ جائے جس کی بھارت ہمیشہ سے خواہش بھی رکھتا ہے اور اس کیلئے کوشاں بھی ہے۔