بھرتی وتقرری شکایات، میٹرک نقل اور بند تنخواہیں

بہت سے برقی پیغامات ایسے بھی ہوتے ہیں جو صرف اس وجہ سے شامل کالم نہیں ہوسکتے کہ وہ یک طرفہ الزامات پر مبنی ہوتے ہیں، بغیر کسی ثبوت کے صرف مسائل پر مبنی برقی پیغامات ہی شامل کالم کئے جا سکتے ہیں۔ میں اس قسم کا پیغام بھیجنے والوں کو ہرگز غلط نہیں سمجھتی، اگر وہ کوئی ثبوت کوئی دستاویز وغیرہ واٹس ایپ کرنا چاہیں تو ان کو اسی نمبر پر مسیج کرنے پر واٹس ایپ نمبر اور ای میل ایڈریس دیا جا سکتا ہے۔ علاوہ ازیں قارئین بذریعہ کوریئر اور ڈاک کے ذریعے بھی ”روزنامہ مشرق” کے پشاور آفس بھجوا سکتے ہیں۔ الزام پر مبنی پیغامات اکثر ملازمتوں کے حوالے سے ہوتے ہیں، اسی کالم میں ٹیسٹنگ ایجنسیوں کے حوالے سے کافی پیغامات شائع بھی ہوچکے ہیں مگر کسی محکمے کے حوالے سے بلاثبوت کوئی الزام چھاپنا ممکن نہیں۔ ریسکیو1122 اور محکمۂ تعلیم میں بھرتیوں کے حوالے سے جن قارئین نے اسامیوں کی قیمتیں تک درج کی ہیں ان کو چاہئے کہ وہ کوئی دستاویزی ثبوت بھی بتا دیں۔ زیادہ بہتر یہ ہوگا کہ وہ اپنے دعوے کے ثبوت کیساتھ متعلقہ فورم سے رجوع کریں کہ ان کیساتھ مبینہ ناانصافی کا ازالہ ہو۔ میں خود اس شعبے میں کام کرچکی ہوں، مجھے حربوں اور طریقہ کار کا پورا اندازہ ہے، دباؤ اور سفارش بھی معمول کی بات ہے اور ساتھ ہی بے بنیاد الزام تراشی بھی معمول کا حصہ ہے۔لنڈی کوتل سے ایک قاری نے میٹرک کے امتحانات میں نقل کی طرف توجہ دلائی ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان کے علاقے کے سکولوں میں اچھے نمبروں کے حصول کا راز محنت اور قابلیت سے زیادہ امتحانی عملے کو خوش رکھنے میں مضمر ہے۔ میں صرف اتنا کہوں گی کہ اس طرح ہوتا ضرورہے مگر محنت وقابلیت کی بجائے خریدے گئے نمبروں سے کم ہی کوئی عزت کا مقام حاصل کرتا ہے، البتہ اسی طرح کے لوگ پھر ملازمتیں بھی خریدتے ہیں۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جسے اگر سرکاری محکموں میں بگاڑ کی بنیادی وجہ قرار دیا جائے تو مناسب ہوگا۔ اس قسم کے لوگ جس ذریعے اور راستے سے آتے ہیں تو محکمے کو بھی آلودہ کرتے ہیں اور خود بھی رقم بٹورنے کے نت نئے طریقے ایجاد کرتے ہیں اور رشوت وبدعنوانی کا پورا سرکل چلاتے ہیں۔ نقل کی روک تھام کیلئے جو بھی بن پڑے ضرور ہونا چاہئے تاکہ محنتی طالب علموں سے ناانصافی نہ ہو اور غلط قسم کے عناصر آگے نہ آسکیں۔اتفاق سے اگلا برقی پیغام لنڈی کوتل ہی سے ایمل خان کا ملا ہے جس میں انہوں نے میٹرک کے امتحان شروع ہونے سے قبل بڑے پیمانے پر پاکٹ گائیڈ اور چھوٹے سائز کے فوٹو سٹیٹ کی بھرمار کا حوالہ دیا ہے۔ واقعی یہ دونوں چیزیں طالب علموں کیلئے نقل میں آسانی اور تباہی کا باعث ہیں۔ میں سمجھتی ہوں کہ نقل کا مواد کسی صورت آسان نہ بنائے جانے کے اقدامات کے تحت پاکٹ گائیڈ کی فروخت اور مائیکرو فوٹوسٹیٹ کرانے پر پابندی لگائی جائے، اس کیساتھ ساتھ بورڈز امتحانی ڈیوٹیاں سفارش پر مرضی کی جگہوں پر لگانے کی بجائے میرٹ پر اور بلاامتیاز لگائی جائیں تاکہ جتنا ممکن ہوسکے شفافیت کا اہتمام ہوسکے۔کامرس کالجز کیلئے ایڈہاک لیکچررز کیلئے ٹیسٹ انٹرویو، میڈیکل اور یہاں تک کہ پولیس ویری فکیشن بھی ہونے کے باوجود تقرری نہ ہونے پر کامیاب اُمیدواروں نے سخت مایوسی اور غم وغصے کا اظہار کیا ہے۔ ان میں بعض ایم فل اور پی ایچ ڈی کی اعلیٰ اسناد رکھتے ہیں، وجہ معلوم نہیں سرکاری اسامیوں پر تقرری میں جو طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے اس کی تکمیل کے بعد عدم تقرری کی وجہ حکام ہی بتاسکتے ہیں۔ ایڈہاک بنیادوں پر تقرریاں کی ہی اس لئے جاتی ہیں کہ مستقل تقرریوں میں زیادہ وقت لگتا ہے، بہرحال وجہ جو بھی ہو مزید انتظار نہ کرایا جائے تو بہتر ہوگا۔ جن کالجوں میں اساتذہ کی اسامیاں خالی ہوتی ہیں وہاں کی انتظامیہ اورخاص طور پر طالب علموں کو مشکلات ہوتی ہیں، باعث تاخیر کی جو بھی وجوہات ہوں مزید تاخیر نہ کی جائے۔گرلز کمیونٹی سکول درگئی کی ایک استانی نے گیارہ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی شکایت کی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کی گزراوقات ہی تنخواہ پر ہوتی ہے، تنخواہ کتنی بھی زیادہ ہو بیس پچیس تاریخ کے بعد اگلی تنخواہ کا انتظار کرنا پڑتا ہے کجا کہ کم وبیش ایک سال تک تنخواہ نہ ملے، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنی مشکل ہوتی ہوگی۔ غالباً یہ صرف درگئی (ملاکنڈ) ہی کی ایک استانی کا مسئلہ نہیں کمیونٹی سکولوں کے جملہ اساتذہ کو بھی تنخواہیں نہیں مل رہی ہیں۔ ریاست مدینہ میں حقداروں کو ان کا جائز حق بھی اگر سال بھر نہ ملے تو حکمرانوں کے دعوئوں کو کیسے سچ مانا جائے۔ بہرحال یہ طنز کا نہیں درد کا سوال ہے کہ آخر مہنگائی کے اس دور میں جب اچھی خاصی آمدنی والوں کا برا حال ہے۔ آخر حکومت معاشرے کے کمزور طبقات سے اس قسم کا سلوک کیوں روا رکھتی ہے۔ میں تو کہوں گی کہ صرف کمیونٹی سکولوں ہی کے اساتذہ اور پولیو ورکرز کا ہی نہیں جتنے بھی سرکاری محکموں کے براہ راست وبالواسطہ ملازمین کی تنخواہیںبقایا ہیں سبھی کی ادائیگی کی جائے۔ میڈیا ورکرز سمیت نجی اداروں کے مالکان کو پابند بنایا جائے کہ وہ بروقت تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنائیں۔ جہاں حکومت کا یہ حال ہو وہاں نجی اداروں سے کیسے توقع کی جائے کہ وہ ورکرز کا خیال رکھیں گے۔ حکومت پہلے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گی تبھی دوسروں سے کرواسکے گی۔ جن سرکاری ونجی اداروں میں کارکنوں کو وقت پر تنخواہ نہ دی جاسکے اور ان کی سہولیات کا خیال نہ رکھا جائے تو اُن سے یہ کیسے توقع وابستہ کی جا سکتی ہے کہ اُن کی کارکردگی معیار کے مطابق رہے۔ یہ کوئی مشکل فلسفہ نہیں لیکن افسوس یہ کہ اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔
ہر بدھ کو شائع ہونے والے اس کالم کیلئے
قارئین اپنی شکایات اور مسائل
اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔