محترمہ فردوس عاشق اعوان کی توجہ کیلئے

گزشتہ روز ہمارے ایک دیرینہ رفیق اور ریڈیو پاکستان کے زمانے کے ساتھی عبدالرئوف درانی نے میسنجر پر ایک درخواست کی کاپی ارسال کی ہے جو ریڈیو پاکستان کے ریٹائرڈ ملازمین کی تنظیم پی بی سی ریٹائرڈ آفیسرز ایمپلائیزویلفیئر ایسوسی ایشن اسلام آبادکے سیکرٹری جنرل شہنشاہ ملک نے اطلاعات ونشریات کیلئے وزیراعظم کی مشیر ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو بھیجا ہے اور جس میں اُردو میں لکھے ہوئے چند جملوں سے اس مسئلے کی وضاحت ہو جاتی ہے جو گزشتہ دو تین مہینے سے ریٹائرڈ ریڈیو ملازمین کو درپیش ہے، ان الفاظ کو پہلے دیکھ لیتے ہیں اس کے بعد اس مسئلے پر روشنی ڈالیں گے۔ سیکرٹری جنرل نے لکھا ہے کہ ”بیوروکریسی نہ جانے ریڈیو کے ساڑھے چارہزار ریٹائرڈ ملازمین سے کس بات کا بدلہ لے رہی ہے، اس ماہ پھر پنشن نہ دینے کا فیصلہ، ہم سی بی اے یونینUSOاس کو نامنظور کرتے ہیں،پہلی مارچ کو احتجاج ہوگا”گویا بقول عاطف توقیر
آئین زباں بندی زنداں پہ نہیں لاگو
زنجیرسلامت ہے،جھنکار سلامت ہے
اس سے پہلے ریٹائرڈ ایمپلائزویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین سعید شیخ نے بھی فون کال پر اسی قسم کے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے ہمیں باخبر کردیا تھا کہ اب کی بار پھر ریٹائرڈ ملازمین کو ریڈیو پاکستان کا متعلقہ شعبہ پنشن کی ادائیگی سے انکار کا پہلو ڈھونڈ رہا ہے، ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ دسمبر کی پنشن بھی دو قسطوں میں بہ مشکل ادا کی گئی تھی اور صرف جنوری کی پنشن وقت پر ادا کرنے کے بعد ایک بار پھر تاخیری حربوں کی بنیاد رکھی جارہی ہے (اللہ کرے یہ بات غلط ہو) تاہم اسلام آباد میں مقیم ریڈیو کے ریٹائرڈ ملازمین تک ”باوثوق ذرائع سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پر) جو اطلاعات پہنچی ہیں ان میں کچھ نہ کچھ صداقت تو ہوگی تبھی تو نہ صرف وزیراعظم کی مشیر صاحبہ کو خط لکھ کر بروقت آگاہ کردیا گیا ہے بلکہ اس خبر کی گن سن امریکہ میں مقیم ہمارے ایک اور ساتھی سید میثاق حسین تک بھی جا پہنچی ہے اور انہوں نے بھی اپنے واٹس ایپ اکائونٹ کے ذریعے بہت سے دوستوں کو الرٹ رہنے کا پیغام دیا ہے اور یو ایس او یعنی یونائیٹڈ سٹاف آرگنائزیشن نے بھی اس حوالے سے ایک برقی پیغام کے ذریعے اس صورتحال پر احتجاج کر کے معاملے کی سنگینی کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کی ہے جبکہ اسی برقی میسج کی بنیاد پر مشیراطلاعات ونشریات کو بھی خط لکھ کر اس ناانصافی کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک تو خط اور اس سے پہلے برقی پیغام میں ریٹائرڈ ملازمین کی جو تعداد بتائی گئی ہے اگرچہ قانونی طور پر وہ درست ہے تاہم اگر غور سے دیکھا جائے تو ہر ریٹائرڈ ہونے والے کیساتھ 5 سے8 افراد بطور خاندان وابستہ ہوتے ہیں اور اگر مجموعی طور پر اسے5افراد ہی قرار دے دیئے جائیں تو اس طرح یہ افراد ساڑھے بائیس ہزار بنتے ہیں۔ گویا پنشن کی ادائیگی روک کر ساڑھے بائیس ہزار افراد کے منہ سے نوالا چھین کر انہیں بھوک کے عفریت کا شکار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ مہنگائی کی موجودہ صورتحال سے دنیا واقف ہے کہ زندگی کن مصائب سے دوچار ہے، اوپر سے اگر اتنے افراد سے ان کے رزق کا وسیلہ ہی چھین لیا جائے تو وہ کیا کریں گے، کہاں جائینگے۔
میں آج زد پہ اگر ہوں توخوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بھجیں گے ہوا کسی کی نہیں
مقصد کہنے کا یہ ہے کہ جو لوگ آج اس زعم میں ہیں کہ انہیں تو تنخواہیں اور مراعات بہرطور مل ہی رہی ہیں وہ یہ بات ضرور سوچ لیں کہ آنے والے کل کو انہیں بھی اپنی ملازمت کے دن پورے کر کے ریٹائرڈ ملازمین کی صف میں شامل ہونا ہے، آج اگر چند سازشی ریٹائرڈ ملازمین کیخلاف سا زش کر کے یا کسی اور وجہ سے انہیںان کے جائز حق سے محروم کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو کل ان کے بعد آنے والے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو بھی اس قسم بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت حالات سے دوچار کریں گے۔ اس ساری صورتحال میں اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کو ان کے جائز حق یعنی پنشن سے محروم رکھنا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے کہ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے واضح رولنگ دے رکھی ہے کہ ہر ریٹائرڈ ملازم کو اس کی پنشن کی رقم اس کی پسند کے بنک اکائونٹ میں ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو منتقل کی جانی چاہئے جبکہ یکم تاریخ کو کسی وجہ سے بنک بند ہونے کی صورت میں ایک روز پہلے منتقل کرنا لازمی ہے، یہ کوئی احسان نہیں ہے، نہ ہی خیرات ہے جو کسی فقیر کے کشکول میں ڈالے جارہے ہیں ان ملازمین نے زندگی کے بہترین شب وروز ریڈیو جیسے ادارے کی خدمت کر کے قانونی طریقوں سے پنشن کی صورت حاصل کی ہے،اس لئے وزیراعظم کی مشیر اطلاعات ونشریات کو اس ظلم وزیادتی کا نوٹس لیکر صورتحال کے اصلاح کی جانب توجہ دینی چاہئے کیونکہ متعلقہ حکام اس قسم کے ناجائز ہتھکنڈوں سے حکومت کی بدنامی کا سامان کر رہے ہیں۔
بیاجاناں تماشاکن کہ درانبوہ جاںبازاں
بہ صد سامان رسوائی سربازار می رقصم