پارلیمانی روایات میں تبدیلی کامعاملہ

خیبر پختونخوا اسمبلی میں اہم قائمہ کمیٹیوں میں حزب اختلاف کی نمائندگی کم کرنے کا فیصلہ حزب اختلاف کا قائمہ کمیٹیوں کی تحلیل پر عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان اور اپوزیشن کا مذاکرات سے انکار اسمبلی کا ماحول معمول پر آنے کی بجائے مزید بگڑ جانا حکومت کیلئے بالخصوص اورحزب اختلاف کیلئے بالعموم کوئی احسن صورتحال نہیں۔ صوبائی اسمبلی کو صوبے کی روایات کے مطابق احسن طریقے سے چلانے کے سلسلے میں رکاوٹ اور ایوان میں اس درجے کے اختلافات کہ ایوان کی کارروائی احسن اور مہذب انداز میں چلایا جا سکے ایک ایسا طرزعمل ہے جس کی ذمہ داری حکومت اورحزب اختلاف دونوں پر عائد ہوتی ہے، جہاں تک قائمہ کمیٹیوں کی تحلیل اور رائے شماری کے ذریعے ممبران کے انتخاب کا تعلق ہے اس کی آئینی وقانونی گنجائش اپنی جگہ مگر یہ صوبے کی پارلیمانی روایات کے بہرحال منافی ہیں کیونکہ اس سے قبل صوبائی اسمبلی میں 1988ء سے2018ء تک جتنی بھی قائمہ کمیٹیاں بنی ہیں وہ حکومت اور اپوزیشن کی باہمی رضامندی سے بنتی رہی ہیں تاہم گزشتہ ایک ہفتہ سے سپیکر کیخلاف اپوزیشن کے شدید احتجاج اور سخت روئیے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ اہم قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کی نمائندگی کم سے کم کی جائے ۔مشکل امر یہ ہے کہ حزب اختلاف مذاکرات اور افہام پر تیار ہونے کے باوجود بھی معاملات طے ہونے کی بجائے بگڑ گئے، سپیکر اسمبلی ایوان کو احسن طریقے سے چلانے کیلئے انا کی قربانی اور درگزر کرنے کیلئے تیار نہیں، حکومت حزب اختلاف کو وہ اہمیت نہیں دے رہی ہے جو1988ء سے اسے مل رہی تھی۔سیاسی اقدامات کے اثرات صرف عصر حاضر ہی میں ظاہر نہیں ہوتے بلکہ سیاسی نظیر قائم ہو جائے تو آنے والے بھی اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں، اس وقت حکومتی جماعت جو بھی نظیر قائم کرے گی اسے بھی بعد میں اسی طرح کے حالات ملیں گے۔ 1988ء میں جو نظیر قائم کی گئی تھی وہ اس صوبائی اسمبلی میں مفاہمت کی سیاست کا باعث بنا اور اسمبلی میں اس قسم کے حالات کی نوبت نہیں آئی۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اور حزب اختلاف اپنے رویوں میں تبدیلی لائیں اور سپیکر بطور خاص ایوان کے نگہبان کا کردار ادا کرتے ہوئے ایسا رویہ اختیار کرے جو اس کے عہدے کے شایان شان ہو تاکہ مفاہمت کی فضا کو نقصان نہ پہنچے اور ایوان کی کارروائی معمول پر آجائے۔
نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے حوالے کرنے کی قرارداد
چترال میں شاہراہوں کی بندش تعمیر ومرمت وبحالی کے کام کو تیز اور بہتر بنانے کیلئے ان کا انتظام نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کودینے کے حوالے سے خیبر پختونخوا میں حزب اختلاف کی قرارداد حسب حال ہے۔ چترال کا دور دراز اور پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے انفراسٹرکچر انتہائی کمزور ہے، ضلع میں واقع اہم شاہراہیں برف باری کی وجہ سے اکثر بند رہتی ہیں یا پھر بارشوں کی وجہ سے نقصان پہنچتا ہے جن کی دوبارہ تعمیر ومرمت پر اخراجات صوبائی حکومت کیلئے مشکل کا باعث بنتا ہے۔ اس وقت ضلع کی دو اہم شاہراہوں گرم چشمہ روڈ اور بمبوریت روڈ کی دوبارہ تعمیر اور مرمت کی اشد ضرورت ہے۔ اس طرح کی صورتحال میں صوبائی حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم فراہمی پر مرکزی حکومت ہی فنڈز جاری کرتی ہے، صوبائی حکومت اگر بروقت تعمیر ومرمت وبحالی یقینی بنا سکتی ہے تو ایسا کرنے میں حد درجہ تاخیر کیوں کی جاتی ہے۔ اگرصوبائی حکومت اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری نہیں کر سکتی تو چترال کی تمام شاہراہوں کا انتظام نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کے حوالے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سڑکوں کی بندش پر بروقت اقدامات کے ذریعے ان کو کھول دیا جائے تاکہ علاقے کے عوام کیساتھ ساتھ سیاحوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
اغوا کار پولیس اہلکار
لغڑی بانڈہ سے تاوان کیلئے نوجوان کو اغوا کرنے کی کوشش کو مقامی پولیس نے ناکام بنا کر اغوا کار وں کی گرفتاری بروقت اقدام کے زمرے میں آتا ہے۔ اس قسم کی فعالیت پولیس کی جانب سے کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ اس واقعے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اغواکاروں میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، اغواء کے اس واقعے کے محرکات جو بھی ہوں اس سے قطع نظر قانون نافذ کرنے والے ادارے کے تین اہلکاروں کا اس قسم کے اقدام میں شرکت ان کی قانون شکنی اور مجرمانہ ذہنیت کا عکاس ہے جس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے تھی۔ واقعے میں ملوث اہلکاروں کیخلا ف سخت کارروائی کیساتھ ساتھ پولیس کی صفوں کو اس قسم کے ممکنہ عناصر سے پاک کرنے کی ضرورت ہے۔
مضافاتی علاقوں میں آئس کی پھیلتی وبائ
گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان کے آبائی علاقہ بڈھ بیر اور مضافات میں آئس نشہ کی وباء میں اضافہ تشویشناک امر اسلئے ہے کہ مضافاتی علاقوں میں روایتی نشہ آوراشیاء کی بجائے یہ غیرروایتی نشہ آورچیز استعمال ہونے لگی ہے جس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ ڈرگ مافیا نے اپنے کارندے اب اُن علاقوں تک بھی پھیلا دیئے ہیں جہاں قبل ازیں اُن کی رسائی نہ تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آئس کی لعنت جس تیزی سے پھیل رہی ہے اُس سے اب تعلیمی اداروں سے لیکر مضافاتی علاقوں تک کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں تشویشناک امر یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ایکسائز پولیس اس کی روک تھام کیلئے اقدامات کرتی اس میں غفلت یا ناکامی کے باعث عوام کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جس کا سختی سے نوٹس لینے اور علاقے کو منشیات سے پاک کرنے کیلئے اقدامات پر توجہ کی ضرورت ہے۔