کون کس کا دلہا ہے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انڈیا کے دورے کے دوران کہا ہے کہ پاکستان کیساتھ ان کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور ان کی حکومت پاکستان کی سرزمین پر سرگرم شدت پسندوں کو ختم کرنے کیلئے پاکستان کیساتھ ملکر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے پیر کے روز احمد آباد کے موتیرا سٹیڈیم میں جو دنیا کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کا بھی ذکر کردیا۔ پاکستان کے بارے میں ٹرمپ نے کہا کہ ‘ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا حق ہر ملک کو حاصل ہے۔ امریکہ اور انڈیا نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملکر ”دہشتگردی” کو روکیں گے اور ان کے نظریہ کا مقابلہ کریں گے۔ اسی وجہ سے، صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، امریکی انتظامیہ پاکستان کیساتھ انتہائی مثبت انداز میں کام کر رہی ہے تاکہ ”دہشت گرد” تنظیموں اور سرگرم انتہا پسندوں کو پاکستانی سرحدوں سے ختم کیا جا سکے۔ حیرت کی بات ہے کہ وہ کیا مثبت کا م کررہی ہے، گزشتہ کچھ عرصہ سے اس نے پاکستان سے ڈومور کا مطالبہ الگ کر رکھا ہے کیونکہ اس کو افغانستان سے انخلاء میں پاکستان کی شدید ضرورت ہے اور یہ کام پاکستان کے بغیر امریکا کیلئے ناممکن ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ‘پاکستان کیساتھ ہمارے تعلقات بہت اچھے ہیں۔ ان کوششوں کی بنیاد پر ہم پاکستان کیساتھ بڑی کامیابی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔ ہمیں پوری اُمید ہے کہ اس سے جنوبی ایشیاء کے تمام ممالک کے مابین تناؤ میں کمی آئے گی، استحکام میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں ایک دوسرے کے درمیان ہم آہنگی میں اضافہ ہوگا۔ ساری دنیا یہ جانتی ہے کہ امریکا صرف اپنے مفادات کو دیکھتا ہے اور اس کی ہر بات اپنے مفاد کیلئے ہی ہوتی ہے، بصورت دیگر پاکستان امریکا تعلقات کا ہمیشہ نچوڑ یہ ہی نکلا ہے کہ یہ باہمی دوستی دلی کی دیوالی، منہ چکنا، پیٹ خالی۔ امریکی صدر ٹرمپ فرما رہے ہیں کہ پاکستان دہشتگردی کیخلاف ٹھیک سمت جا رہا ہے گویا اس سے پہلے سمت درست نہ تھی، ایک طرف پاکستان کے بارے میں ٹرمپ نے محض لفاظی سے کام لیا ہے تو دوسری جانب ٹرمپ نے خطے میں امن کے معاملے میں انڈیا کے بڑے کردار کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ”انڈیا کو خطے کے بہتر مستقبل کیلئے نمایاں قیادت کرنی ہوگی”۔ بھارت کو اس پورے خطے میں مسائل کو حل کرنے اور امن کے فروغ کیلئے مزید ذمہ داری لینی ہوگی۔ ٹرمپ کا یہاں خطے سے کیا مر اد ہے پھر ان کے یہ الفاظ کہ انڈیا کو خطے میں بہتر مستقبل کیلئے نمایاں قیادت کرنا ہوگی، پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے یہ سوال اُٹھایا جانا ضروری ہے کہ خطے میں قیادت کی ذمہ داری سے کیا مراد ہے؟ کیا اب بھی امریکا بھارت کو جنوبی ایشیا کا تھانیدار بنانے کے درپے ہے، کیا اس سوچ کے عمل سے جنوبی ایشیا کا امن تہ وبالا نہیں ہو جائے گا۔ بھارت کا کیا کردار رہا ہے، کیا ٹرمپ انتظامیہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے باخبر نہیں ہے؟ حیرت کی بات ہے کہ امریکی صدر نے اس خطے کے سب سے سنگین مسئلے مسئلہ کشمیر کے بارے میںکوئی ایک لفظ بھی ادا نہیں کیا، مبصرین کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ نے اپنی تقریر میں پاکستان کیلئے کوئی منفی بات نہیں کہی، ظاہر ہے کہ وہ کیسے کہتا کیونکہ وہ افغانستان میں پھنسا ہوا ہے اور ایسے وقت میںکوئی بگاڑ پیدا نہیں کرسکتا۔ ٹرمپ کو اس وقت درپیش سب سے بڑا چیلنج امریکی انتخابات سے قبل امریکی فوج کو افغانستان سے وطن واپس لانا ہے تاکہ وہ امریکی ووٹروں کو بتا سکیں کہ دیکھو اس نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔ ٹرمپ نے انتخابات کے دوران کہا تھا کہ وہ امریکی افواج کو افغانستان اور عراق سے واپس بلا لیں گے، اگر ٹرمپ کے دورہ بھارت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات مصفاء ہو جا تی ہے کہ انہوں نے امریکا کے اگلے انتخابات کیلئے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا ہے، اس سے بڑھ کر کوئی بات نہیں۔ ان کی نظریں بھارتی باشندوں کے ووٹ پر لگی ہوئی ہیں، خاص طور پر ہندو ووٹرز سے آس لگائے بیٹھے ہیں، اس کے علاوہ امریکا کی جو پالیسیاں اُمت مسلمہ کیلئے ہیں اس کے پیش نظر ٹرمپ ابھی سے مایوسی کا شکار ہیں، ٹرمپ جب سے برسراقتدار آئے ہیں تب سے وہ بھارتی وزیراعظم مودی سے پانچ سے آٹھ مرتبہ مل چکے ہیں ہر مرتبہ انہوں نے خود کو بھارت کا دل گیر ثابت کرنے کی سعی بھی کی ہے، ادھر ٹرمپ کو اپنی کامیابی کیلئے افغانستان سے امریکی فوجوںکا انخلاء اہم ترین ہے چنانچہ وہ اس پس منظر میں پاکستان کے بارے میںکوئی منفی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہندوستان میں کچھ لوگوں کو یہ بات پسند نہ ہو لیکن ٹرمپ کیلئے افغانستان سب سے اہم ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان اس میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرے۔ پاکستانی میڈیا یکطرفہ طور پر یہ ڈونڈی پیٹ رہا ہے کہ ٹرمپ نے پاکستان کی تعریف کی ہے، تعریف کیا معنی رکھتی ہے عمل اصل ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے جہاں مقبوضہ کشمیر کے عوام کے بارے میں منہ نہیں کھولا وہاں اس نے بھارتی شہریت کے بل پر بھی کوئی ردعمل نہیں دکھایا جبکہ امریکی صدر نے بھارت کیساتھ 3ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس دنیا کے بہترین ہتھیار موجود ہیں اور بھارت کیساتھ دفاعی تعاون کو فروغ دیتے ہوئے ہم اسے دنیا کے خطرناک ترین ہتھیار دیں گے۔امریکی صدر نے بھارت کی مذہبی ہم آہنگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ہندو، مسلمان، سکھ اور عیسائی اپنے اپنے مذہب کی عبادت کرتے ہیں، آپ ایک قوم کی طرح ہمیشہ مضبوط بن کر رہے، بھارت غیرمعمولی طور پر بہت متنوع ملک ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کے عوام بہت معزز اور مضبوط ہیں، محولہ بالا الفاظ سے ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ امریکا کتنا اچھا دوست ہے۔ قبل ازیں یہ روایت رہی ہے کہ جب کبھی امریکی صدر نے بھارت کا دورہ کیا تب وہ پاکستان کے دورے پر بھی آیا چاہتے، اس کا پاکستان آنا مشرف کے دور کی طرح فوٹو سیشن ہی ہو لیکن سابق صدر اوباما کے دور سے یہ امریکی روایت بھی مٹ گئی۔ ٹرمپ بھی آئے اور چلے گئے، ویسے وہ عمران خان کو عظیم لیڈر قرار دیتے ہیں۔