بھارت میں مسلم کش فسادات

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون پر احتجاج کے دوران ہونے والے مذہبی فسادات کے نتیجے میں ہلاک افراد کی تعداد 20اور 200سے زائد لوگوں کا زخمی ہونا بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کا تازہ سلسلہ ہے۔ قبل ازیں بھارت کے متنازع شہریت قانون کیخلاف ہونے والا احتجاج گزشتہ روز مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان جھڑپ کی صورت اختیار کرگیا تھا۔ بھارتی نشریاتی ادارے دی پرنٹ کی ویڈیو میں عینی شاہدین نے الزام عائد کیا کہ فسادات کرنے والوں کو پولیس کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی۔علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ مشتعل افراد نے انہیں دھمکیاں دیں کہ اگر وندے ماترم کہو گے تو ہی یہاں رہ سکتے ہو ورنہ سارے جلادئیے جائو گے۔دریں اثناء سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے درست کہا ہے کہ انہوں نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پیش گوئی کی تھی کہ ایک مرتبہ جن بوتل سے باہر آجائے گا تو خونریزی شدید ہوجائے گی۔ مقبوضہ کشمیر آغاز تھا اب بھارت میں20کروڑ مسلمان ہدف ہیں۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ آج ہم بھارت میں دیکھ رہے ہیں کہ نازی نظریات سے متاثرہ راشٹریہ سیوک سنگھ(آر ایس ایس) نے ایک ارب سے زائد آبادی والی جوہری ریاست پر قبضہ کرلیا ہے۔فطری امر یہ ہے کہ جب بھی نفرت پر مبنی کوئی نسل پرستانہ نظریہ چھا جاتا ہے تو اس کا نتیجہ خونریزی کی صورت میں نکلتا ہے۔مسلمانوں پر مظالم پر بھارتی حکومت جس طرح تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اس کی بڑی وجہ مسلم دشمنی تو ہے ہی دوسری جانب انتہا پسندوں کو دہلی کے انتخابات میں شکست ان کے تشدد کے بدترین واقعات کے ارتکاب کی ایک بڑی وجہ ہے۔ دہلی وفاقی اکائی ہونے کی بنا پر وزیر اعلیٰ اروند کیجروال کے پاس یہاں کا اختیار نہ ہونا اور پولیس وپبلک آرڈر کا براہ راست مرکزکے پاس ہونا بھی فسادات میں اضافہ اور مسلمانوں کے جان ومال سے آزادانہ طور پر کھیلنے کی بڑی وجہ ہے۔ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کی ایک اور بڑی وجہ بھارتی مسلمانوں کا پاکستان کے حوالے سے نرم گوشتہ ہے جس طرح کے حالات وہاں پیدا کئے جا رہے ہیں ان حالات میں بھارتی مسلمانوں کے پاس اب پاکستان زندہ باد کہنے کے علاوہ کوئی چارہ دکھائی نہیں دیتا، یہ نعرہ وہاں پر اب لگ بھی رہا ہے۔ بھارتی مسلمانوں کو پاکستان کی حمایت کرنے کے الزام میں ہی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اسی بنا پر ان کی جان، مال اور آبرو پر حملے کیے جاتے ہیں مگر پاکستان ہی اس بارے میں مصلحت کا شکار ہے ۔ اس بارے میں نہ تو اسلامی ممالک کی تنظیم نے کوئی آواز بلند کی ہے اور نہ اس بارے میں اقوام متحدہ میں کسی نے کوئی تحریک پیش کی ہے ۔ اسلامی ممالک کی تنظیم کو مردہ گھوڑا کہنے پر عرب ممالک ناراض تو بہت ہوتے ہیں مگر کوئی یہ تو بتائے کہ بھارت میں مسلمانوںپر ہونے والے مظالم کی داد رسی کیلئے کون اُٹھے گا ۔ بھارت میں مسلمانوں کیخلاف منظم تحریک شروع ہوئے ایک سال ہونے کو ہے جس میں ہر روز تیزی آرہی ہے ۔ متنازع شہریت بل کی منظوری کے بعد سے عملی طور پر بھارت کی زمین مسلمانوں پر تنگ کردی گئی ہے جس کی ہر معقول سوچ رکھنے والے نے مذمت کی ہے ۔پاکستان سمیت تمام اسلامی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں اور عالمی برادری پر زوردیں کہ وہ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں کی روک تھام میں اپنا کردار ادا کرے۔ مسلم ممالک کو بھارت سے معاشی تعلقات کے خاتمے اور اسلامی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں بھارتی کارکنوں کو واپس بھجوانے کے راست اقدام پر توجہ دینا چاہئے۔ بھارت کو باور کرایا جائے کہ اگر وہ اپنے ملک میں مسلمانوں کو تحفظ نہ دے سکا تو مسلم ممالک ان سے تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور ہوں گے۔