روایتی کھانوں کی شکست و ریخت

نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹھکیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں
اس شعر کے دوسرے مصرعہ کا آخری آدھا حصہ اتنا بھی اہم نہیں ہے جتنا بیانیہ شاعر نے سمجھانے کی کوشش کی ہے یعنی ہم اتنے بھی بے زار نہیں ہیں، البتہ صورتحال پر غور کیا جائے تو تھوڑی سی تشویش کے پہلو کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے اور یہ شعر لکھنے کا کارن 24فروری کے مشرق میں سٹی پیج پر چھپی ہوئی وہ رپورٹ نما خبر ہے جس میں خبرنگار نے شادی بیاہ کے مواقع پر روایتی کھانوں کو چھوڑ کر لوگوں کی جانب سے جدت کا سامان کرتے ہوئے ”سترنگی” کھانوں پر اسراف کی حدیں پار کرنے کی بات کی ہے اور یوں دیکھا جائے تو ایک اہم مسئلے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ اس کیساتھ ساتھ گھروں کے اندر ہی سادگی کیساتھ مہندی’ رخصتی اور یہاں تک کہ دعوت ولیمہ کے انعقاد پر بس کرنے کی بجائے اب تقریباً نہ صرف شادی بیاہ بلکہ آمین’ فوتگی وغیرہ یہاں تک کہ حج و عمرہ سے واپسی پر خیر’ خیرات کی تقاریب منعقد کرنے کیلئے بھی بڑے بڑے ہالوں کو مہنگے کرائے پر حاصل کرکے ایک نئی طرح ایجاد کرلی ہے حالانکہ دین اسلام میں ہر قدم پر اسراف سے ہاتھ کھینچنے اور سادگی اختیار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ مگر بے جا نمود و نمائش اور د ولت کی نمائش کی لت میں گرفتار لوگ نہ صرف اپنے لئے مسائل کھڑے کر رہے ہیں بلکہ متوسط اور غریب طبقے کے افراد کیلئے دوہرے عذاب کاباعث بھی بن رہے ہیں اور بے وسیلہ لوگ بہ امر مجبوری انہی کے نقش قدم پر چلنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
وہ کتنی دور سے پتھر اٹھا کے لایا تھا
میں سر کو پیش نہ کرتا تو اور کیا کرتا
محولہ خبرنما رپورٹ نے ہمیں ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پر مجبور کردیا جب پشاور شہر میں ہونے والی شادی بیاہ کی تقاریب کے حوالے سے لوگ سادگی سے کام لیتے تھے’ مہندی کی تقاریب تو گھروں کے اندر ہی محدود یعنی اہل خاندان کی شرکت سے ہی بپا کی جاتی تھیں’ جن میں دونوں خاندانوں کی چیدہ چیدہ خواتین ہی شرکت کرتیں یعنی دولہا دلہن کی نہایت قریبی رشتہ دار خواتین ہی ان تقاریب میں شریک ہوتیں۔ مہندی کے سلسلے میں ایک تقریب چور مہندی یا چوری مہندی کی ہوتی جن میں طرفین بغیر اطلاع دئیے اچانک دلہن یا پھر دولہا کے گھر پر ”حملہ آور” ہوتے یعنی ایسے موقعے تلاش کئے جاتے کہ میزبانوں کو ششدر کیا جائے۔ ایسی صورتحال میں رات گئے مہمانوں کی تواضع کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا’ تاہم اس کامقصد خدانخواستہ میزبانوں کی تحقیر نہ ہوتی بلکہ باہمی محبتوں میں اضافہ ہی مقصود ومطلوب ہوتا۔ اب بھی اگرچہ چور مہندی کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت جاری ہے تاہم مہندی کی عام تقاریب کیلئے بھی گھروں کی بجائے ہالوں میں نہ صرف دونوں خاندانوں کو اکٹھا کیاجاتا ہے بلکہ دونوں جانب کے دوستوں کو بھی باقاعدہ کارڈز چھاپ کر مدعو کیاجاتا ہے اور رات گئے دیر تک ہلڑ بازی اور موج مستی کی جاتی ہے جو ظاہر ہے اسراف کی ایک نئی شکل ہے’ رہ گئی بارات اور ولیمہ تو پہلے یہ تقاریب بھی تنگ گلیوں کے اندر ہمسایوں کی مدد سے انعقاد پذیر ہوتی تھیں یعنی اگر ذاتی گھر تنگ ہوتے تو ہمسایوں کے گھر مہمانوں کیلئے اپنے دامن پھیلا لیتے اور مہمانوں کو ان گھروں کے اندر دریاں بچھا کر یا پھر میز کرسیاں لگا کر ان کی تواضع کی جاتی۔ یوں ہالوں پر موجودہ دور میں اُٹھنے والے اخراجات کی ادائیگی کیلئے مجبور نہ ہونا پڑتا۔ رہ گئی کھانوں کی بات تو امیر غریب یا متوسط طبقے کے افراد ایک ہی طرز یعنی تین چھتی روٹی
پیش کی جاتی۔ جس میں پلاؤ، قورمہ میٹھے چاول ہوتے۔ یہ سادگی صدیوں تک قائم رہی، اس سے نہ دلہا کے گھر والے نہ ہی دلہن کے ماں باپ زیربار ہوتے، تاہم لگ بھگ نصف صدی پہلے بعض خاندانوں نے ”خونچہ روٹی” کا سلسلہ شروع کیا۔ یعنی تین چھتی روٹی کیساتھ خونچے میں ایک دو مزید ڈشز کا اضافہ کیا جن میں بھنا ہوا گوشت’ کوفتے(سادہ اور نرگسی دونوں) بڑھا کر پرانی روایت کو توڑ دیا’ اس کے بعد تو روایتی ناک نے ایسا قبضہ جمایا کہ ہر خاندان کی خواتین نے اسے ”نک نموش” کا مسئلہ بنا کر اپنے مردوں کو مجبور کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا کہ اگر ہم نے بھی خونچہ روٹی نہ دیا تو ہماری ناک کٹ جائے گی حالانکہ خواتین کی ”روایتی ناک” کے کٹنے کے خوف کیساتھ خاندانوں کے نسبتاً غریب اور بے وسیلہ افراد پر اضافی اخراجات کا بوجھ انہیں زیربار کرنے کا باعث بنتا رہا’ بقول احمد فراز
میں کہہ رہا تھا رفیقوں سے جی کڑا رکھو
چلا جو درد کااک اور تیر’ میں بھی نہ تھا
حالانکہ اس صورتحال کا مقابلہ کرنے والے جس طرح خواتین کی باتوں میں آکر اضافی اخراجات کے تیرپہ تیر کھانے پر مجبور ہوتے رہے ان کی حالت دیدنی تھی۔ ظاہر ہے جب بساط سے بڑھ کر اخراجات کئے جائیں گے تو ایسی صورتحال میں غریب بندہ کب تک ”حوصلہ” رکھ سکتا ہے اور اب یہ جو قوس قزح کی مانند ست رنگی کھانوں کے قابے سامنے آتے ہیں ان کی وجہ سے تو غریب اور متوسط طبقہ کہاں تک برداشت کرسکتا ہے’ قربان علی بیگ سالک نے یونہی تو نہیں کہا تھا
تنگدستی اگر نہ ہو سالک
تندرستی ہزار نعمت ہے