مشرقیات

سلطان قطب الدین مبارک شاہ خلجی کے زمانے میں تمام امرائے بزرگ و خورد حضرت شیخ نظام الدین محبوب الہٰی کے مرید ومعتقد تھے، لیکن قطب الدین کو حضرت شیخ سے عداوت اس وجہ سے ہوگئی تھی کہ سلطان علائوالدین اور خضر خاں دونوں حضرت شیخ کے مرید وخادم تھے، جن کے تخت پر قطب الدین متمکن تھا۔ قطب الدین نے پہلے تو امرائے دربار کو نذرانہ اور شکرانہ دینے سے منع کیا تاکہ حضرت کا لنگر موقوف ہو۔ جب نذرانے اور شکرانے بند ہونے پر بھی لنگر موقوف نہ ہوا، خرچ دوگنا ہوگیا تو حکم دیا کہ جب حضرت شیخ رکن الدین ابوالفتح بادشاہ وقت کے دیدار کیلئے ملتان سے دہلی آرہے ہیں تو آپ جبکہ دہلی ہی میں رہتے ہیں، ہمارے دیدار سے مشرف کیوں نہیں ہوتے۔ حضرت شیخ نے کہلا بھیجا میں گوشہ نشین فقیر ہوں، نہ میرا اور نہ میرے پیر ومرشد کا طریقہ رہا ہے کہ شاہی درباروں کے ہم مصاحب بنیں اور بادشاہوں سے راہ ورسم پیدا کریں۔ المعذور مجبور کے موافق مجھے معاف فرمایا جائے۔بادشاہ نے کہلا بھیجا کہ اگر ہر ہفتہ نہیں آسکتے تو ہر چاند رات کو دربار میں آیا کرو اور اگر اس سے بھی انکار ہے تو ہمیں بتائو کہ ہم تمہارا کوئی اور علاج کریں۔ حضرت شیخ نے جواب دیا: جب چاند رات کا موقع آئے گا تو جو صورت ہوگی، اس پر عمل کیا جائے گا۔ خدا کی قدرت دیکھئے کہ جب مقررہ وقت آیا تو خسرو نے جو قطب الدین کا ہی نمک پروردہ تھا، ایک جمعیت کیساتھ بادشاہ کے محل میں داخل ہو کر اس کو قتل کر دیا۔ واقعہ یہ ہے کہ ایک ہندو غلام اس کا نہایت منظور نظرتھا، اس کو اس نے ملک خسرو کا خطاب دے رکھا تھا۔ ملک خسرو بادشاہ کو آرام طلبی اور عیش پرستی میں محو رکھ کر امرائے دربار کیساتھ نہایت نا شائستہ وگستاخانہ سلوک کرتا تھا۔ بادشاہ کے پاس جب ملک خسرو کی شکایت ہوتی تو وہ الٹا شکایت کرنیوالوں پر ناراض ہوتا، بادشاہ کا ایک اُستاد قاضی صدر جہاں تھا، علم کیساتھ حسن علم بھی رکھتا تھا۔ مسلمانوں کی بے عزتی اور بادشاہ کی رسوائی وبدنامی نہ دیکھ سکا۔ جی کڑا کر کے بادشاہ کے پاس گیا اور کہا اس مار آستین سے ہوشیار رہئے۔ اس کی نیت اچھی نہیں ہے، بادشاہ نے سن کر ٹال دیا۔ آخر وہ ایک رات بہت سی جمعیت لیکر اس بہانہ سے بادشاہ کے پاس آیا کہ یہ سب لوگ مسلمان ہونا چاہتے ہیں۔ پانچویں دروازے پر قاضی خاں صدر جہاں کا پہرہ تھا، سب کو مسلح دیکھ کر اس کا ماتھا ٹھنکا۔ اس نے روکا اور کہا اخوند عالم! (بادشاہ کو اسی نام سے پکارا جاتا تھا) کی اجازت لے آئوں، لیکن اس وقت کون جانے دیتا تھا۔ قاضی خاں مارا گیا اور یہ سب لوگ بادشاہ کے پاس جوکہ تنہا رہ گیا تھا، جا پہنچے اور اس کو بھی قتل کر دیا۔ یہ افسوسناک واقعہ جس نے مبارک شاہ کی نا عاقبت اندیشی اور بے عقلی، قاضی خان کی حمیت و جاں نثاری اور ملک خسرو کی غداری ونمک حرامی کو طشت ازبام کر دیا جو 5ربیع الاول 721ھ کی شب کو دہلی میں پیش آیا۔(تاریخ دہلی جلد دوم)اللہ کے بندوں خصوصاً جو اللہ کے نیک اور پارسا ہوں کو ستانے کا انجام اس طرح ہوتا ہے ۔