میں آدمی ہوں مگر آدمی سے ڈرتا ہوں

چند روز پہلے ایک خبر پڑھ کر دل بے چین ہوگیا، طبیعت پر اُداسی چھا گئی، چار جوان بچوں کے باپ ایک سفید ریش بزرگ کو اس کے بیٹے شہر کے ایک معروف چوک میں موجود کوڑے کے ڈھیر پر ڈال گئے۔ وہ بزرگ اتنے دل برداشتہ تھے کہ انہوں نے واپس گھر جانے سے انکار کردیا، اس وقت وہ ایدھی اولڈ ایج ہوم میں اپنے ہم عمر بزرگوں کیساتھ اپنے حصے کی زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا اس بزرگ کے دکھ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو بڑی محبت سے پال پوس کر جوان کیا، والدین راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر اپنے بچوں کی خبرگیری کرتے ہیں، انہیں اپنے قدموں پر کھڑا ہونا اور پھر چلنا سکھاتے ہیں، پیدائش سے شروع ہونے والا سفر اپنے اندر کتنے نشیب وفراز لئے ہوتا ہے، والدین رات دن ایک کرکے اپنے بچوں کی خواہشات پوری کرتے ہیں، اپنے ارمانوں کا خون کرکے اپنے بچوں کے ارمان پورے کرتے ہیں، یہ والدین ہی ہوتے ہیں جو اپنی اولاد کو زندگی کے جھلسا دینے والے شب وروز سے بچا کر رکھتے ہیں۔ اولاد کو اسی لئے آزمائش کہا گیا ہے کہ بسا اوقات ان کی ضروریات پوری کرنے کیلئے والدین حلال حرام کی پرواہ بھی نہیں کرتے، اسی اولاد کیلئے دنیا تو رہی ایک طرف اپنی عاقبت بھی خراب کر دی جاتی ہے اور اولاد؟ نئی تہذیب کی چکاچوند نے اس کی بصیرت کو دھندلا دیا ہے، ہم روزبروز اپنی اقدار سے دور ہوتے چلے جارہے ہیں۔ محبت، مروت، حیا، لحاظ، رواداری سب کچھ قصہ پارینہ بنتے چلے جارہے ہیں۔ رشتوں کے پیمانے اور سے اور ہوتے چلے جارہے ہیں، مادہ پرستی کا عفریت ہر طرف چنگاڑ رہا ہے، اولڈ ایج ہوم ہمارے بزرگوں کے دم قدم سے آباد ہیں، جن میں خواتین وحضرات دونوں شامل ہیں۔ ایک خاتون کو اس کا بیٹا اولڈ ایج ہوم چھوڑ گیا جب اس معزز خاتون سے اس کا جرم پوچھا گیا تو انہوں نے پرنم آنکھوں سے کہا! میری بہو کہتی ہے کہ میرے سر میں جوئیں بہت زیادہ ہیں، میری چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں آپ کی وجہ سے ان کے سر میں بھی ہروقت جوئیں پڑی رہتی ہیں! یہ تھا وہ جرم جس کی وجہ سے ایک ماں کو اولڈ ایج ہوم کی زینت بنا دیا گیا۔ وہاں پر موجود ہر بزرگ کی ایک کہانی ہے جو یقینا دردناک بھی ہے اور افسوسناک بھی!
میرے دئیے بھی مقفل ہیں میری آنکھیں بھی
میں آدمی ہوں مگر آدمی سے ڈرتا ہوں
ہم نے سب کچھ بھلا دیا ہے، ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہماری جوانی ہماری طاقت ماں باپ کی شب بیداریوں کی مرہون منت ہے۔ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے میں ان کا خون پسینہ شامل ہے، ہماری توانائیاں ان کے حوصلے اور عزم وہمت کی داستان ہیں۔ ان کی مثال تو برگد کے درخت جیسی ہے، انہوں نے ہمیں اپنے شفیق سائے تلے پناہ دی، ہمیں دنیا کی سردگرم ہواؤں سے بچائے رکھا، ابررحمت بن کر ہم پر سایہ فگن رہے اور ہمیں زمانے کی سختیوں سے محفوظ رکھا! کہتے ہیں ہر عروج کا زوال ہوتا ہے، جب ان کی توانائیاں ماند پڑ گئیں نظر کمزور ہوگئی، چلتے ہوئے ہانپنے لگے، دانتوں سے محروم ہوگئے، کھانے پینے کا ذائقہ کھو دیا، کانوں نے مزید سننے سے انکار کردیا، یوں کہئے اس درماندگی میں یہ اپنی زندگی کے آخری دور میں جب پہنچ گئے تو ان کی اولاد بے مروت وبے وفا ہوگئی، خوش نصیب ہوتی ہے وہ اولاد جو اپنے کمزور وناتواں والدین کا سہارا بنتی ہے، غور کیجئے یہاں اولاد کو خوش نصیب کہا گیا ہے والدین کو نہیں! والدین تو سردی کی دھوپ جیسے ہوتے ہیں، ان کی جیسے تیسے گزر ہی جاتی ہے لیکن ناخلف اولاد کو پھر اس کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، یقینا ایک دن دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوکر رہتا ہے لیکن اس وقت کا پچھتاوا کوئی فائدہ نہیں دیتا، وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ بزرگ بڑے معصوم ہوتے ہیںم یہ اپنی جوانی کے واقعات بار بار دہرا کر بڑے خوش ہوتے ہیں، یہی وہ عمر ہوتی ہے جب ہم نے ان کو وقت دینا ہوتا ہے، انہیں اپنے سینے سے لگانا ہوتا ہے، انہیں تنہائی کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے، ان سے جوانی کے واقعات پوچھے جائیں، ان کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا جائے، یہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوجاتے ہیں اور یہی وہ وقت ہے جب ہم نے ان کے ناز اُٹھانے ہیں، ان کے لاڈو پیار کو ماننا ہے اور ایسا کرکے ہم ان پر کوئی احسان نہیں کررہے ہوتے بلکہ یہ سب کچھ یہ ہمارے ساتھ کرچکے ہوتے ہیں جو کچھ انہوں نے ہمیں دیا تھا اب وہ سب کچھ ہم نے انہیں واپس دینا ہے۔ والدین نے ہماری تربیت کی، ہمیں بولنا سکھایا، پڑھا لکھا کر انسان بنایا اور ہم نے سب کچھ فراموش کردیا! ایک بات ذہن میں رہے کہ ”جو بوؤگے وہ کاٹو گے” کا خدائی قانون کائنات میں رائج ہے جو کچھ آپ دیتے ہیں وہ آپ کو لوٹا دیا جاتا ہے۔ اگر ہم پھول اُگائیں گے تو سرسبز وشاداب باغ پائیں گے اور کانٹے اُگانے والوں کا مقدر کانٹے ہی ہوا کرتے ہیں۔ جو لوگ اپنے بزرگوں کو صحرائے زندگی میں بے یار ومددگار چھوڑ دیتے ہیں ان کے نصیب میں بھی ٹھوکریں ہی ہوا کرتی ہیں، دین ودنیا کی ناکامیاں ورسوائیاں ان کا مقدر ہوا کرتی ہیں۔ ماں باپ کی محبت بڑی دیر سے سمجھ میں آتی ہے، کسی سیانے نے کیا خوب کہا ہے: ہمیں اپنے والدین کی محبت کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب ہم خود صاحب اولاد ہوجاتے ہیں!