تحریک انصاف کا منتظم اعلیٰ

بڑے لیڈر وقت اور حالات کی ستم ظریفی کا اس وقت شکار ہوتے ہیں جب ان کی سوچ اور رفتار کا ساتھ دینے والے قریبی رفقاء انہیں دستیاب نہیںہوتے۔ برصغیر کی اسلامی شناخت کو محفوظ بنانے والے عظیم مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کو قلق رہا کہ انہیں قابلیت رکھنے والے ایماندار لوگ دستیاب نہیں ہیں’ قائد اعظم دوسری گول میز کانفرنس کے بعد دلبرداشتہ ہو کر انگلینڈ جا بسے’ سرزمین حجاز پر عظیم سعودی سلطنت کی بنیاد رکھنے والے شاہ عبدالعزیز آہ بھر کر کہتے تھے… کاش میرے پاس دو فیصل ہوتے! گمان رکھتا ہوں کہ وزیر اعظم عمران خان کو اپنی گوناگوں مصروفیات کے بعد کوئی لمحہ تنہائی میسر آتا ہو گا تو سوچوں کی تان اس ایک جملے پر آ کر ٹوٹتی ہو گی … کاش میرے پاس دو سیف اللہ خان نیازی ہوتے۔ ایک پارٹی کے تنظیمی امور سنبھالتا اور دوسرا امور مملکت میں وزیر اعظم کا ہاتھ بٹاتا۔ نعیم الحق صاحب کی رحلت کے بعد تو یہ احساس اور بڑھ چکا ہو گا کہ سیاسی معاون کے طور پر انہوں نے ذمہ داری خوب نبھائی۔ وزیر اعظم کو اپنے ساتھ ایک اچھے منتظم کی ضرورت ہے۔ویسے بھی تنظیم سازی کا مشکل کام وہ سرانجام دے چکے ‘ تحریک انصاف کو جس تنظیمی راہ پر وہ گامزن کر چکے ہیں اس کا پہلا عظیم الشان مظاہرہ 23فروری کو مینار پاکستان لاہور کے سبزہ زار میں لوگوں نے دیکھ لیا ہے۔وہ تنظیم بنانے کا ہنر جانتے ہیں ‘ یہ کام وہ کرتے آ رہے ہیں’ شماریاتی بلاک کوڈ کی سطح پر تحریک انصاف کو پہلی بار منظم کرنے والے بھی وہی تھے۔ 30اکتوبر 2011ء کا عظیم الشان جلسہ ویسے ہی تو برپا نہیںہوگیا تھا۔ آج ایک بار پھر اُس نے تاریخ دہرائی ہے’ اس بار عمران خان کی غیر موجودگی میں ایک بڑے اجتماع کا انعقاد ہوا ہے تو لوگوں کی آنکھیں کھلی ہیں’ گیارہ ہزار عہدیداران کا تعلق وسطی پنجاب قیادت میں وسطی پنجاب کی گورننگ باڈی نے نہایت مستعدی کے ساتھ اُس خاکے میں رنگ بھرے ہیں جو چیف آرگنائزر سیف اللہ نیازی نے آئینی شکل میں انہیںدیا تھا۔ تحریک انصاف جنون کا نام ہے اور یہ جنون پورے جذبے کے ساتھ وسطی پنجاب کی تنظیم میں دکھائی دیا ہے۔ تحریک انصاف کی تنظیمی طاقت کا یہ پہلا مظاہرہ تھا جس نے میڈیا اور سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ آج میڈیا کے لوگ سوال پوچھ رہے ہیں کہ جس تحریک انصاف کے سیاسی زوال کی بات بڑے شدومد کے ساتھ کی جا رہی تھی اس کے صرف ایک ریجن کی تنظیم کے عہدیداران و کارکنان نے مینار پاکستان بھر دیا ہے’ چنانچہ تحریک انصاف اگراپنی اٹھارہ ریجنل تنظیموں کے ساتھ سرگرم عمل ہوتی ہے تو کتنا بڑا سیاسی بھونچال پیدا ہو گا اور کیسی زبردست تنظیمی سرگرمی دیکھنے کو ملے گی ۔ تحریک انصاف کو اس مقام پر لانے والے اور اسے بھرپور تنظیمی قوت بنانے والے شخص جس کا نام سیف اللہ خان نیازی ہے۔ مارچ میں خیبر پختونخوا کے جنوبی ریجن کی تنظیم شہباز گل شنواری کی قیادت میں ضلعی ‘ تحصیل و ٹائون اور یونین و ویلیج کونسل کے عہدیداران کی تقریب حلف وفاداری کا اعلان کر چکی ہے جب کہ شمالی پنجاب کی تنظیم رمضان سے قبل اپریل میں لیاقت باغ کے مقام پر تنظیمی عہدیداران کا کنونشن منعقد کرے گی۔ یہ ترتیب ملحوظ خاطر رکھیں تو آنے والے مہینوں میںہر پندرہ دنوں کے بعد تحریک انصاف کا ایک تنظیمی کنونشن پاکستان کے طول و عرض میں دیکھنے کو ملے گا۔ تحریک انصاف کی ونگز کی تکمیل کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔ 16ونگز میں سے دو ونگز خواتین ونگز اور لیبر ونگ کا اعلان ہو چکا ہے جب کہ بائی لاز کی تیاری کا عمل مکمل ہوتے ہی بقیہ ونگز کی تنظیموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔ لیبر ونگ یکم مئی جب کہ اقلیتی ونگ 14اگست کو اپنی تنظیمی طاقت کا مظاہرہ کرنے جا رہی ہے۔ یوں 2020کا سال تحریک انصاف کی بھرپور تنظیمی سرگرمیوںکا سال ہو گا اور اس کی جانب سے ملک کے طول و عرض میں اپنی سیاسی طاقت کے یہ مظاہرے مخالفین کے دلوں پر خوف پیدا کرنے کا باعث بنیں گے۔ تحریک انصاف عددی اعتبار سے ایک بہت بڑی تنظیم بننے جا رہی ہے ‘ ایک ایسی بڑی تنظیم جس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلے سے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اپنے ممبران کا مکمل ڈیٹا محفوظ رکھنے کے لیے پارٹی مینجمنٹ سیل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے جہاں کل وقت سٹاف اپنے فرائض انجام دے گا۔ یوں تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی منظم سیاسی جماعت کے طور پر ابھرے گی ۔بڑے لیڈر وقت اور حالات کی ستم ظریفی کا اس وقت شکار ہوتے ہیں جب ان کی سوچ اور رفتار کا ساتھ دینے والے قریبی رفقاء انہیں دستیاب نہیںہوتے۔ وہ رہنما خوش قسمت ہوتے ہیں جنہیں بہترین صلاحیتوں والے مخلص رفیق مل جاتے ہیں جو ان کی خوابوں کی تکمیل میں بروئے کار آتے ہیں’ ایسے معاونین کی موجودگی اور مدد کے بغیر کامیابی کا تصور بھی محال ہے۔