جنگ کس کی ہے؟

ہم اس جنگ کو ایک جانب سے دیکھ رہے ہیں۔یہ جنگ جو ہمارے اردگرد مسلسل دکھائی دے رہی ہے اور جس میں روزانہ نیا حربہ نئی حکمت عملی متعارف کرائی جارہی ہے۔وہ جنگ نہیں جو کشمیر میں دکھائی دے رہی ہے۔وہ جنگ نہیں جوبظاہر بھارت کے اندر مسلمانوں کے خلاف دکھائی دیتی ہے۔وہ جنگ جو دراصل امریکہ اور چین کے درمیان جاری ہے۔وہ جنگ جو دنیا کی چودھراہٹ کی جنگ ہے۔وہ جنگ جس کی وجہ سے پاکستان مسلسل امریکی نگاہ میں ہے۔کبھی سی پیک کی ایک جانب سے مخالفت کی جاتی ہے کبھی اس میں کسی اور طور مختلف ایجنڈے کے ساتھ دنیا کے بنکوں کو داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان جہاں نہ تحقیق کا وقت ہے نہ پیسہ اور نہ ہی احساس۔ سو ہر بات ہر جانب نہ صرف پھیلائی جا سکتی ہے بلکہ اس کا رُخ متعین کرنے کے لئے بھی تھوڑی محنت درکار ہوتی ہے۔تبھی تو آج تک سی پیک ،پیک ہی پڑا ہے۔ہم اعلانات ضرور کرتے ہیں لیکن دلوں میں شہبات کے جو بیج بوئے جا چکے ہیں وہ ہمیں مسلسل خوف کی گرفت میں رکھتے ہیں۔میڈیا لوگوں کی رائے تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ہمارے میڈیا کی رائے تشکیل دینے میں پیسہ بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔یہ وہ جنگ ہے جس کے بارے میں یہ بھی خیال ہے کہ چین میں پھیلے کرونا وائرس کی تہہ میں بھی یہ جنگ ہی اہم متحرک کے طور پر کام کررہی ہے۔چین کی معیشت اس وقت اس وائرس کے باعث سختی جھیل رہی ہے۔اور تاحال اس کا کوئی سدباب تلاش نہیں کیا جا سکا ایران میں بھی لوگوں میں اس وائرس کی تشخیص ہوگئی ہے اور اب پاکستان میں بھی اس وائرس سے متاثرہ افراد کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اس ساری صورتحال اور خطرے کی اس فضا میں امریکی صدر کا دورہ بھارت میرے لئے انتہائی اچھنبے کی بات ہے۔امریکیوں کی بہادری کا عالم تو یہ ہے کہ ان کا ایک سپاہی مارا جائے تو ساری قوم واویلا کرنے لگتی ہے۔ایسے میں کرونا وائرس سے متاثرہ علاقوں کے اتنے قریب ایک ملک کا دورہ کرنا ،کسی انتہائی اہم بات کی نشاندہی کرتا ہے ۔صدر ٹرمپ اچھے اور گھاگ سیاست دان بھی نہیں،اس لئے کئی بار ایسی باتیں کر گزرتے ہیں جس کے باعث یہ اندازہ لگانا خاصا آسان ہو جاتا ہے کہ ان کی اس بات کی اصل وجہ کیا ہے یا امریکی انتظامیہ کس طرح سوچ رہی ہے، حالات کو کس جانب لے کر جانا چاہتی ہے۔ مودی،ہندوتوا اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔مودی حکومت کا اپنی نفرت کے اظہار کے باوجود دوسری بار بھی حکومت میں آنا،اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مسلمان بھارت میں بہت دبے ہوئے ہیں۔میں نے خود اپنے دورہ بھارت میں یہ محسوس کیا تھا کہ بھارت کا مسلمان ایک مسلسل نفسیاتی خوف اور جبر کا شکار ہے اور اس وقت مودی کی حکومت بھی نہ تھی۔اب اتنے مظالم کے باوجود بھی کسی طاقتور بغاوت کا جنم نہ لینا اسی بات کی دلیل ہے ایسے میں امریکی صدر کا دورہ بھارت بھی بہت معنی خیز ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب کچھ ایسی ہی رائے کے مالک خود امریکی صدر ہیں۔ان کی تعصب آمیز پالیسی امریکہ میں بھی پریشانی پیدا کئے ہوئے ہیں اسی پس منظر میں امریکی صدر اور بھارتی وزیراعظم کی ملاقاتیں کئی اور تجزیوں کو جنم دیتی ہیں۔امریکی صدر کو جہاں اپنی طاقت کا بے پناہ احساس ہے جس کا اظہار وہ مسلسل کرتے ہیں،وہیں وہ ایک مکمل بزنس مین ہیں۔ان کا بھارت کی طرف یہ واضح جھکائو،کئی اہم باتوں کی دلیل ہوسکتا ہے۔امریکہ کا جھکائو بھارت کی طرف تو ہمیشہ سے ہی اس لئے ہے کیونکہ بھارت ایک بہت بڑی منڈی ہے اور امریکہ کو منڈیوں کی تلاش ہمیشہ رہتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے جھکائو کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے۔ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس تعصب کے داعی ہیں اسی تعصب کی گہری تاریک پر چھائیں انہیں نریندر مودی میں بھی دکھائی دیتی ہیں اور یقیناً ایک جیسی سوچ رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کی جانب نہ صرف متوجہ ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے لئے دل میں نرم گوشہ بھی رکھتے ہیں۔اپنی عقیدت کا اظہار مودی نے بھی خوب کیا کہ ٹرمپ کی خاطر داری میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔اس حد تک آگے بڑھ گئے کہ غربت کے ناپسندیدہ ٹرمپ کی نگاہ سے چھپانے کے لئے احمد آباد میں سات فٹ اونچی دیوار بنا ڈالی۔نریندری مودی ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھنے دیتے کہ بھارت میں کس قدر غربت ہے اس کے باوجود نریندری مودی اپنے تعصب ،اپنی نفرت ،اپنی سوچ کے گھنائونے پن سے کس قدر مخلص ہیں کہ ان کی تمام ترتوجہ ہندوتوا پر لگی ہے۔ان کی یہ حکمت عملی شاید ڈونلڈ ٹرمپ کو انکے اور نزدیک کردیتی کیونکہ اپنے ملک میں تو ڈونلڈ ٹرمپ اپنے تعصب کا اتنا واشگاف اظہار نہیں کرسکتے۔بھارت میں ایسا ہونا دیکھ کر شاید ان کے دل کو اور بھی تسلی ہوتی۔مودی اور ٹرمپ کی ملاقات میں،کشمیر کے معاملے پر بات ہونا بھی لازمی تھا اور ٹرمپ کا یہ کہنا کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لئے پاکستانی وزیراعظم سے بات کرسکتے ہیں کیونکہ ان کے عمران خان صاحب سے تعلقات اچھے ہیں،اس امر کی دلیل ہے کہ ابھی تک نریندر مودی اور ٹرمپ دونوں ہی وزیراعظم عمران خان کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔جوشخص اقوام متحدہ میں کھڑا ہو کر،اقوام عالم کو پاکستان کا مئوقف سمجھانے کی کوشش کرسکتا ہے وہ بہرحال پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف کوئی بات نہیں کرے گا۔کرونا وائرس پاکستان میں بھی داخل ہو چکا امریکہ کی چین سے یہ جنگ پہلے ہی پاکستان میں موجود ہے ،ایسے میں ہر ایک عمل ،ارادہ اور ردعمل بہت اہم ہے۔امریکہ اور چین کی جنگ کا اثر پاکستان پر سب سے زیادہ ہوگا۔بھارت اور امریکہ کا اکٹھ واضح ہے اور بھارت کے ارادے واضح ترین۔اس وقت پاکستان کو اپنی صورتحال کا اندازہ کر کے حکمت عملی وضع کرلینے کی ضرورت ہے۔یہی وقت ہے۔